Browsing Category

غزلیں و افسانہ

ماں

لفظ "ماں" دونوں ہونٹوں کو ملاۓ بغیر ادا نہیں کیا جاسکتا ،لفظ ماں سنتے ہی دل و دماغ ایسے تروتازہ ہو جاتا ہے جیسے بنجر زمیں کو بارش ترو تازہ کر دیتی ہے۔قارئین کرام :جس طرح دونوں ہونٹوں کو ملائے بغیر لفظ ماں ادا نہیں ہو سکتا اسی طرح ماں کے…

آہ! میری محبوبہ جاں بلب۔۔۔۔۔۔

۔ محمد نظرالہدیٰ قاسمیؔ نوراردولائبریری حسن پور گنگھٹی ، مہوا،بکساما،ویشالی 8229870156 میری زندگی کا ایک قیمتی سرمایہ جس سے میں ٹوٹ کر محبت کرتا ہوں، اس کی جدائی میرے لئے سوہان روح سے کم نہیں ہے، وہ میرے خواب کا ایک حصہ ہے،وہ…

سلگتے آشیاں

عرفان دفتر میں ضروری فائلوں میں الجھا ہوا تھاکہ موبائیل کی رنگ پر چونک گیا. اسکرین پہ فوزیہ کا نام دیکھر اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھر گئی. اس نے کال ریسیو کی. فوزیہ نے ادائے دلبری سے سلام کیا. عرفان کا موڈ اور خوشگوار ہوگیا. کچھ شوخ…

غزل

حرکتِ قلب کے رکنے سے جو مر جاتے ہیں دل میں جو لوگ بھی رہتے ہیں کدھر جاتے ہیں کیا پتا کس کے بچھڑنے کی خبر پھر ہوگی ہم تو اخبار کے پڑھنے سے بھی ڈر جاتے ہیں وہ جو جینے کا سکھاتے تھے سلیقہ سب کو ایسا کیوں ہوتا ہے وہ لوگ بھی…

غزل

یوں ہی کیا ہجر میں محسوس وفا کرتی ہو مستقل میری ہی کیا بات کیا کرتی ہو اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے بخالت پھر بھی چائے اتنی سی ہی مہماں کو دیا کرتی ہو میں تو رنجش میں بھی آنکھوں کی وفا کرتا ہوں تم محبت میں بھی نظروں کی دغا…

غزل

خزاں کے دن میں بہار جیسی فضا بنانے میں عافیت ہے پرانے لوگوں پرانی چیزوں کو بھول جانے میں عافیت ہے جناب پوچھیں نہ عشق کیا ہے یاں چال ہوتی ہے ساری الٹی کہ درد سہنے میں زندگی ہے کہ زخم کھانے میں عافیت ہے مقابلے میں اگر وفا ہو تو جیتی…

غزل

بنے ہم خاک سے تو خاک کی اوقات کیا ہوگی فرشتے پھر بھی سجدہ رو ہیں سمجھو بات کیا ہوگی جو سورج ماند پڑتا جارہا ہے حسنِ انور سے اگر یہ دن کا ہے عالم تو ہائے رات کیا ہوگی نہیں کافی ہمارے واسطے انسان ہونا کیا کہ ہم بچوں کو بتلا ئیں…

غزل

بتوں کو وہ خدا کعبہ کو بھی بت خانہ لکھ دیگا جو بک جائے قلم تو ہوش کو دیوانہ لکھ دیگا یہاں مظلوم کو ہوگی سزا کیوں قتل ہوتا ہے پیالہ زہر کا دیکر اسے پیمانہ لکھ دیگا مسلماں ہو تمہارے قتل کو کافی ہے بس اتنا یہ حاکم ہر گواہی…

احساس

احساس اس دوڑتی زندگی نے سب احساسات کر دیئے ختم نہ پرواہ کسی کو کہ سمجھے کسی کو نہ اپنوں کی پرواہ رہی اب کسی کو ہر ایک نے بسالی ہے دنیا نئی ہر کوئی مصروف ہے سوشل میڈیا پر ہیں اپنوں سے دور یہ نوجوان نسل اور سوشل میڈیا سے ہیں قریب نہ…

غزل

یہ عشق ہے میاں کوئی افسانہ تھوڑی ہے جس میں نہ ہجر ہو وہ کہانی ادھوری ہے ہر زاویے سے ربط کے آتی ہے یہ صدا اطوار کہہ رہے ہیں محبت ضروری ہے شکوہ کوئی بھی کیجیے بس اتنا رہے خیال باقی رہی حیات تو ملنا ضروری ہے ہر بات پے وہ ہنستا…