Browsing Category

غزلیں و افسانہ

ویلنٹائن ڈے

صبح کی چائے کے ساتھ میں اخبار کے مطالعے میں مصروف تھا. تبھی خوشبوؤں کے جھونکے سے فضا معطر سی ہوگئی. میں نے چونک کر سر اٹھایا تو دیکھا میرا پوتا جواد سرخ گلابوں کے کئی بوکے اپنے ہاتھوں میں سنبھالے کھڑا تھا. اس کے چہرے پہ…

"دھوپ کا مسافر” : پُرعزم شاعر کا حسین تحفہ 

      تحریر: تبریز فراز محمد غنیف      اردو شاعری  کو سینچنے سنوارنے اور پروان چڑھانے کے حوالے سے بات کی جائے تو میر ، غالب ، اقبال،مومن،جوش،فراق،فیض احمد فیض، احمد فراز وغیرہ کا نام جلی حروف سے لکھا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی لکھا جاتا…

. . . .  معصوم کلی

افسانہ رات کے تین بج رہے ہیں لیکن میری آنکھیں نیند سے خالی ہیں باہر رات کا سناٹا ہے تو میرے دل و دماغ میں ایک شور سا برپا ہے بار بار یہی سوال کہ "ایسا کیوں ہے " سونے کا ارادہ لیکر تکیہ سے سر لگا کر آنکھیں جیسے ہی بند کرتی ہوں…

غزل

یاد رکھتا ہوں میں یادوں کے خزانے تیرے کتنے سلجھے تھے وہاں اپنے بیگانے تیرے مدعی تھی تیری پرجا تو تھامنصف اپنا لوٹ ائیں گےکہاں ایسے زمانے تیرے تو تھا مہاراج شیواجی تیری عظمت کوسلام ہندو مسلم بھی تھے سکھ بھی تھے دیوانے تیرے درد دکھتا…

غزل

رگوں میں تیشہ حسرت اترنے سے ذرا پہلے ہوئی تھی آنکھ نم اس کی بچھڑنے سے ذرا پہلے بکھرتے لفظوں کی جنبش جھکے پلکوں کے افسانے بہت روئی ہیں یہ آنکھیں مکرنے سے ذرا پہلے نشانِ پا بتاتے ہیں مسافر کی صعوبت کو گرا ہے لازماً یہ بھی ٹہرنے سے…

ماں

لفظ "ماں" دونوں ہونٹوں کو ملاۓ بغیر ادا نہیں کیا جاسکتا ،لفظ ماں سنتے ہی دل و دماغ ایسے تروتازہ ہو جاتا ہے جیسے بنجر زمیں کو بارش ترو تازہ کر دیتی ہے۔قارئین کرام :جس طرح دونوں ہونٹوں کو ملائے بغیر لفظ ماں ادا نہیں ہو سکتا اسی طرح ماں کے…

آہ! میری محبوبہ جاں بلب۔۔۔۔۔۔

۔ محمد نظرالہدیٰ قاسمیؔ نوراردولائبریری حسن پور گنگھٹی ، مہوا،بکساما،ویشالی 8229870156 میری زندگی کا ایک قیمتی سرمایہ جس سے میں ٹوٹ کر محبت کرتا ہوں، اس کی جدائی میرے لئے سوہان روح سے کم نہیں ہے، وہ میرے خواب کا ایک حصہ ہے،وہ…

سلگتے آشیاں

عرفان دفتر میں ضروری فائلوں میں الجھا ہوا تھاکہ موبائیل کی رنگ پر چونک گیا. اسکرین پہ فوزیہ کا نام دیکھر اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھر گئی. اس نے کال ریسیو کی. فوزیہ نے ادائے دلبری سے سلام کیا. عرفان کا موڈ اور خوشگوار ہوگیا. کچھ شوخ…

غزل

حرکتِ قلب کے رکنے سے جو مر جاتے ہیں دل میں جو لوگ بھی رہتے ہیں کدھر جاتے ہیں کیا پتا کس کے بچھڑنے کی خبر پھر ہوگی ہم تو اخبار کے پڑھنے سے بھی ڈر جاتے ہیں وہ جو جینے کا سکھاتے تھے سلیقہ سب کو ایسا کیوں ہوتا ہے وہ لوگ بھی…

غزل

یوں ہی کیا ہجر میں محسوس وفا کرتی ہو مستقل میری ہی کیا بات کیا کرتی ہو اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے بخالت پھر بھی چائے اتنی سی ہی مہماں کو دیا کرتی ہو میں تو رنجش میں بھی آنکھوں کی وفا کرتا ہوں تم محبت میں بھی نظروں کی دغا…