Browsing Category

غزلیں و افسانہ

غزل

یوں ہی کیا ہجر میں محسوس وفا کرتی ہو مستقل میری ہی کیا بات کیا کرتی ہو اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے بخالت پھر بھی چائے اتنی سی ہی مہماں کو دیا کرتی ہو میں تو رنجش میں بھی آنکھوں کی وفا کرتا ہوں تم محبت میں بھی نظروں کی دغا…

غزل

خزاں کے دن میں بہار جیسی فضا بنانے میں عافیت ہے پرانے لوگوں پرانی چیزوں کو بھول جانے میں عافیت ہے جناب پوچھیں نہ عشق کیا ہے یاں چال ہوتی ہے ساری الٹی کہ درد سہنے میں زندگی ہے کہ زخم کھانے میں عافیت ہے مقابلے میں اگر وفا ہو تو جیتی…

غزل

بنے ہم خاک سے تو خاک کی اوقات کیا ہوگی فرشتے پھر بھی سجدہ رو ہیں سمجھو بات کیا ہوگی جو سورج ماند پڑتا جارہا ہے حسنِ انور سے اگر یہ دن کا ہے عالم تو ہائے رات کیا ہوگی نہیں کافی ہمارے واسطے انسان ہونا کیا کہ ہم بچوں کو بتلا ئیں…

غزل

بتوں کو وہ خدا کعبہ کو بھی بت خانہ لکھ دیگا جو بک جائے قلم تو ہوش کو دیوانہ لکھ دیگا یہاں مظلوم کو ہوگی سزا کیوں قتل ہوتا ہے پیالہ زہر کا دیکر اسے پیمانہ لکھ دیگا مسلماں ہو تمہارے قتل کو کافی ہے بس اتنا یہ حاکم ہر گواہی…

احساس

احساس اس دوڑتی زندگی نے سب احساسات کر دیئے ختم نہ پرواہ کسی کو کہ سمجھے کسی کو نہ اپنوں کی پرواہ رہی اب کسی کو ہر ایک نے بسالی ہے دنیا نئی ہر کوئی مصروف ہے سوشل میڈیا پر ہیں اپنوں سے دور یہ نوجوان نسل اور سوشل میڈیا سے ہیں قریب نہ…

غزل

یہ عشق ہے میاں کوئی افسانہ تھوڑی ہے جس میں نہ ہجر ہو وہ کہانی ادھوری ہے ہر زاویے سے ربط کے آتی ہے یہ صدا اطوار کہہ رہے ہیں محبت ضروری ہے شکوہ کوئی بھی کیجیے بس اتنا رہے خیال باقی رہی حیات تو ملنا ضروری ہے ہر بات پے وہ ہنستا…

غزل

اک وفا کی سزا تا عمر ملا کرتی ہے وہ خفا کیا ہوئی ہر چیز گلہ کرتی ہے اک کہانی میں پڑھا تھا کہ کوئی لڑکی تھی اور وہ لڑکی کسی مفلس سے وفا کرتی ہے میں کسی سے نہیں کہتا کہ دعائیں کرنا مجھے کافی ہے مری ماں جو دعا کرتی ہے ماں اگر زندہ ہے…

غزل

نگاہ۔یار میں دیکھوں در و دیوار میں دیکھوں کبھی خوابوں میں جی لوں میں کبھی گھر بار میں دیکھوں کبھی وہ روبہ رو آئیں مرا پھر حال وہ پوچھیں کبھی میں دھڑکنیں تھاموں کبھی اغیار میں دیکھوں کبھی تو مےکدے آکر مرے ہمدم مجھے ڈھونڈھو کہ…

غزل

پریم ناتھ بسمل مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار رابطہ۔8340505230 محفل سجی ہے آج بڑے اہتمام سے لیکن گریز پا ہوا دل دھوم دھام سے کیوں آج اس بہار میں دل کو نہیں سکوں کیوں آج دل دہلتا ہے ساقی و جام سے اپنی نظر میں آپ ہی رسوا ہوئے ہیں ہم…

نہیں ملا پھر کیوں نہ کعبہ اگر غلط تھا وہ چھ دسمبر

(نوٹ) بابری مسجد کے فیصلے کے وقت کچھ الفاظ کی تک بندی ہوگئ تھی، لیکن اس وقت جج صاحب کے احترام میں شائع کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا، اب جب کہ منصف نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا لیا ہے اور وہ فریق بننے کر سامنے آیا ہے تو شائع کرنے کی جسارت کر رہا…