حج کی منسوخی ،تاریخ میں پہلی بار نہیں ،مگراحتیاطاًضروری

0 21
جاویدجمال الدین
امسال سعودی عرب حکومت نے حج بیت اللہ کی منسوخی کا عارضی اعلان مارچ کے دوران ہی کردیا تھا ،لیکن دنیا بھر میں اور خود سعودی عرب میں کورونا وائرس جیسی وبائی بیماری کے اثرات کی وجہ سے اس بات کا خدشہ ہے کہ امسالکا حج منسوخ کردیا جائے یا تعداد میں کمی واقع کردی جائے اور اس کا باقاعدہ اعلان جلدہی متوقع ہے، کیونکہ حج کی تیاریوں کے سلسلہ میں تقریباً ایک مہینہ ہی رہ گیا ہے اور اب ممکن نہیں ہے کہ سعودی حکام اور دیگر ممالک اتنی بڑی تیاری مکمل کرلیں ۔ہندوستان میں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے ،ویسے حج کمیٹی آف انڈیا کے چیف ایکزیکٹیوافسر مقصوداحمد خان نے عازمین حج سے التجا کی ہے کہ وہ اپنی جمع پیشگی رقم واپس لے سکتے ہیں،اگر ہم جائزہ لیں تو گزشتہ تین چار عشرے میں حج کو منسوخ کیے جانے کی کوئی تاریخ نہیں ملتی ہے ، لیکن امسال اگر حج منسوخ کیا گیا تو ایسا گزشتہ نصف صدی میں پہلی بار ہوگا،ویسے حج بیت اللہ کی منسوخی پہلی بار نہیں ہوگی ،سعودی عرب میں شاہ عبد العزیز فاو ¿نڈیشن برائے ریسرچ اینڈ آرکائیوز کے مطابق تاریخ میںمختلف حالات ، واقعات اور وبائی بیماریوں کی وجوہات سے حج بیت اللہ تقریباً 40 مرتبہ منسوخ کیا جاچکا ہے یا کسی موقع پر حجاج کرام کی تعداد انتہائی کم بھی رہی ہے۔ان میں وبائی بیماریوںاور بغاوت کے معاملات بھی پائے جاتے ہیں۔
حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق سی ای او شبہیہ احمد نے کہا کہ حج کے دوران جمرات کے دوران بھگڈراور منٰی میں آتشزدگی کے واقعات پیش آئے ، جن میں 1997ءکا آتشزدگی کا واقعہ بھی ہے اور شبہیہ احمد حج کمیٹی کے سی ای او کے عہدہ پر فائز تھے اور انہیں فوری طورپر وزارت امور خارجہ نے ہندوستان بھیج دیا تھا تاکہ انتظامی امور کی نگرانی کریں ۔اس دورمیں حج بیت اللہ کی تیاری کا مرکز عروس البلاد ممبئی ہی رہا،1989میں صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہونے کے بعد گزشتہ تین عشرے سے حج بیت اللہ کی تیاریوں اور دیگر امور کے کوریج کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔پہلے محمد حاجی صابوصدیق مسافر خانہ سے حج کی تیاریاں کی جاتی تھی اور سابق ایکزیکٹیو افسر شبہیہ احمد نے جنوبی ممبئی میں کرافورمارکیٹ کے مقابل اور سینٹرل ریلوے کے صدردفتر سے متصل بیت الحجاج کی نئی عمارت میں دفتر منتقل کردیا تھا۔ویسے 1995کے بعد بحری جہازمیں سفر حج کو بند کردیا گیا ،یہ اتفاق ہی ہے کہ ہمارا مکان فورٹ میں اندراڈاک کے نزد واقع تھا،اسی منٹ روڈ سے گزرنے والی گھوڑا گاڑیوں (جنہیں وکٹوریا کہا جاتا ہے)کے گھوڑوں کی ٹیپوکی آواز آج بھی میرے کانوں میں کانوں میں گونج رہی ہیں،جس روز بحری جہاز کی روانگی ہوتی ،ان ٹاپو کی آواز سے ہماری نیندکھل جاتی تھی،حج کے سفر کی تیاری ،قرعہ اندازی اور عازمین حج کی تربیت سے لیکر ان کی روانگی کو مکمل طورپر کورکرنا اردواخبارات کی ترجیحات میں شامل رہی ہیں ،ہاں چند بدعنوانیوں کے الزامات پر بھی ناک اور کان لگانے کی مدیرمحترم کی ہدایت رہتی تھی۔خیر آج بھی بدعنوانیوںکے الزامات کا سلسلہ جاری ہے اور مہاراشٹر حج کمیٹی کے سابق چیئرمین جمال صدیقی نے باقاعدہ طورپرحج کی منسوخی کا اعلان کرنے اوردرخواست گزار عازمین حج کو ہی آئندہ سال حج بیت اللہ بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے،انہوںنے امسال کے عازمین حج کی جمع رقم کو فوری طورپر واپس کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ اس رقم پر سود سے کمیٹی فائدہ نہ اٹھائے۔وقت رہتے کمیٹی کو عمل کیا جانا چاہیئے۔
خیر حج 2020کے سلسلہ میں جیسی خبریں موصول ہورہی ہیں،وہ تشویش ناک ہیں،عالمی سطح پرپھیلی وبائی بیماری کووڈ۔19کے پیش نظر امسال مارچ میں ہی اسلام کے مقدس ترین مقام مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام اور مدینہ منورہ کی مسجد نبوی کو عام نمازیوں کے بند کردیا گیا اور ویران پڑی ان مساجداور دنیا کی سنسان مساجد کی تصاویر پوری دنیا میں آباد اربوںمسلمانوں کے لیے صدمے کا باعث بنیں۔دراصل سعودی حکام نے حرمین شریف کوزائرین کے لیے بند کردیاتھا، لیکن پھر جزوی منظوری دے دی گئی ۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں اب تک متعددکورونا وائرس کیسوں کی تصدیق ہوچکی ہے ، اور مستقبل میںاس کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ہر سال 20 لاکھ سے زیادہ افراد مکہ مکرمہ میں حج کا مقدس فرض ادا کرتے ہیں۔ جوکہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے ،اس بنیادی رکن کے تحت مسلمان ہر سال اسلامی مہینے ذوالحجہ کی 8 سے 12 تاریخ کے درمیان سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ کی زیارت کے لیے حاضر ہو کر وہاں جو مخصوص عبادت انجام دیتے ہیں،انکی زبان پر لبیک اللھمہ لبیک کا تلبیع ہوتا ہے ، اس مجموعہ عبادات کو اسلامی اصطلاح میں حج اور اس دوران انجام دی جانے والی عبادات کو مناسک حج کہتے ہیں۔ دین اسلام میں حج ہر صاحب استطاعت بالغ مسلمان پر زندگی بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے، جیسا کہ قرآن مقدس میں ہے، حج اسلام کے 5 ارکان میں سب سے آخری رکن ہے جیسا کہ حضورمحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر ہے، کلمہ توحید،نماز قائم کرنا،زکوة کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنا اور حج اداکرناہے۔مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ حج گذشتہ امتوں پر بھی فرض تھا، جیسے ملت حنیفیہ (حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے پیروکاروں) کے متعلق قرآن میں ذکر ہے ۔
حضرت ابراہیم اور ان کے بعد بھی لوگ حج کیا کرتے تھے، البتہ جب جزیرہ نما عرب میں عمرو بن لحی کے ذریعہ بت پرستی کا آغاز ہوا تو لوگوں نے مناسک حج میں حذف و اضافہ کر لیا تھا۔لیکن مکہ 630 عیسوی میں مسلمانوں کے ہاتھ فتح ہوا، حضور محمد نے تمام بتوں سے کعبہ کو پاک کیا ، 632 عیسوی میں حضور محمدکی قیادت میںصحابہ کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ، اپنے صرف سے اور آخری حج کا ارادہ کیا اور لوگوں کو حج کے طریقوں کی تعلیم دی، عرفات کے میدان میں الوداعی خطبہ میں انسانیت ،توحید،مساوات ،بھائی چارگی کی تعلیمات پر مبنی ہے اور اس وقت سے، حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک اہم ترین رکن بن گیا۔
قرون وسطیٰ کے حج کے بارے میں معلومات ناصر خسرو، ابن جبیر اور ابن بطوطہ سے ملتی ہے، جنہوں نے خود حج ادا کیا اورپھرسفرنامہ حج لکھ کراس سفر کومحفوظ بھی کیا،خسرونے 1050 ءمیں حج کیااور ابن جبیر، جوا سپین کے رہنے والے تھے، نے1184 میں حج کیا اور پھر بغداد جانے کا بھی ذکرہے،جبکہ مشہور سیاح اورمورخ ابن بطوطہ نے 1325 میں اپنا گھر چھوڑا اور 1326 عیسوی میں حج ادا کیاتھا، اس وقت حج کا سفرمکمل ہونے میں تقریبا تین مہینے لگ جاتے تھے۔حجاج کرام شام، مصر اور عراق کے دار الحکومت میں جمع ہوا کرتے تھے، ایسے گروپوں میں ہزاروں حاجی ہوتے تھے، مسلم حکمراں حج کی بحالی کی ذمہ داری لیتے تھے، تیسرے عباسی خلیفہ المہدی کے دور(780 عیسوی سال) میں حج کے سفر کی سہولت کے لیے، 900 میل لمبی ایک سڑک تعمیر کی گئی جو عراق سے مکہ اور مدینہ تک جاتی تھی، بعد میں سڑک کا نام زبیدہ سڑک رکھا گیا۔اسلامی تاریخ میں اس سے پہلے بھی بیماری ، تنازعات ، ڈاکہ زنی اور حملوں کی یا دیگر وجوہات کی بناءپر حج کو متعدد بار منسوخ کیا چکا ہے اور یہ خیال کہ حج پہلی مرتبہ منسوخ کیا جارہا ہے ،صحیح نہیں ہے ،بتایا جاتا ہے کہ حج کی سب سے پہلے اور سنگین منسوخی 10 ویں صدی عیسوی میں ہوئی ، جو مکہ میں ایک مبہم فرقے کے مقدس مقام پر قبضہ کرنے کے بعد ، اسلامی تقویم کی تیسری صدی کے مطابق تھا۔ قرمیان مشرقی عرب میں مقیم ایک انتہاپسندفرقہ تھا ، جس نے ابو طاہر الجنبی کے تحت اپنی ریاست قائم کی تھا۔ ان کا عقیدہ نظام اسماعیلی شیعہ اسلام پر مبنی تھا جس میں نسلی عنصر شامل تھے اور ان کا معاشرہ مساوات یعنی کمیونزم پر مبنی تھا ، یورپ کے دانشوران ایک بڑے علاقے پر قابض واحد کمیونسٹ معاشرہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم ، انھوں نے حج کو (نعوذوباللہ )ایک بے جا رسم قراردے دیا تھا اور 930 ءمیں ابو طاہر نے حج کے دوران مکہ پر حملہ کردیا۔ تاریخی احوال کے مطا بق ، قرمطینیوں نے اپنی کارروائی میں 30ہزار عازمین حج کو لقمہ اجل بنادیا تھااور ان کی لاشوں کو مقدس زمزم کے کنویں میںپھینک دیاتھا۔ اس کے بعد انہوں نے کعبہ سے حجر اسود کوبھی چرا لیااور اپنے ساتھ لے گئے تھے ،اس واقعہ کے بعدکئی برسوں تک حج معطل رہا ،عازمین حج پر یہ پہلا پرتشدد حملہ نہیں تھا۔اس سے قبل 865 ء میں ، اسماعیل بن یوسف ، جسے الصفق کے نام سے جانا جاتا ہے ، جس نے خلافت عباسی کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی ، مکہ کے قریب عرفات پہاڑ میں جمع ہوئے زائرین کا قتل عام کیاتھا ، اور حج کو منسوخ کرنے پر بھی مجبور کیا۔ایک بار1000عیسوی میں حج کو زیادہ پیش گوئی اور سفر کے ساتھ وابستہ اضافے کے اخراجات کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا ،صدیوں میں پیش آنے والے چھوٹے موتے واقعات کے سبب محدود پیمانے پر حج کی ادائیگی کی گئی ،لیکن 1831 میں ، ہندوستان میں طاعون کی وباءپھیلنے کے نتیجے میں سینکڑوں زائرین حج کی موت واقع ہوئی تھی۔ اس کے بعد 1837 سے 1892 کے درمیان ،مختلف انفیکشن نے سیکڑوں حجاج کرام لقمہ اجل بنتے رہے ۔ حج کے دوران اکثر انفیکشن پھیلتے ہیں۔ جدید دور سے پہلے ، سعودی حکام بہت زیادہ پریشانی کا شکاررہتے تھے ، ہزاروں زائرین قریبی حلقوں میں اکٹھے ہوتے تھے اور بعض اوقات جان لیوا بیماریوں کا مناسب علاج بھی نہیں کرتے تھے۔، لیکن گزشتہ تیس چالیس سال میں سعودی عرب کے حکمرانوں نے جو انتظامات کرنا شروع کیا ہے ،وہ بے مثال ہوتے ہیںاور کئی موقعوں پر ان کی مثال دی جاتی ہے ،ہندوستان کے وزیراعظم نریندرمودی نے بھی ایک بار حج کے انتظامات کی ستائش کی ہے،اگرچہ کورونا وائرس کے پھیلاو ¿ نے پوری دنیا کو خوف زدہ کردیا ہے اور اس سال حج کومنسوخ کرنے کا اعلان تقریباً ہوچکا ہے۔
دنیا بھرکے ممالک سے آنے و الے عازمین حج کا آزادانہ میل ملاپ ہونے کی وجہ سے غریب ممالک کے حجاج جن کے پاس صحت کی بہتر سہولیات نہیں ہوتیں، عام بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات یہ بیماریاں وبائی حالت اختیار کر لیتی ہیں۔ ایسے حجاج اپنے گھروں کو واپسی پر بیماری ساتھ لے جاتے ہیں۔ 1987ءکے حج کے بعد گردن توڑ بخار نے اس وقت عالمی وبا کی شکل اختیار کر لی تھی، جب حجاج اس بیماری کو اپنے اپنے ممالک میں واپس لے گئے۔ اب یہ ویزا کی لازمی شرط ہے کہ مخصوص بیماریوں کے خلاف ویکسین کرا لی جائے۔ 2010ءکی شرائط میں زرد بخار، پولیو اور انفلوئنزا کی ویکسین بھی لازمی قرار دی گئی ہیں۔2013ء میں سعودی حکومت نے شدید بیمار اور بوڑھے افراد کو اس سال حج ملتوی کرنے کی درخواست کی اور میرس (مڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم کورونا وائرس بیماری کی وجہ سے حجاج کی کل تعداد میں بھی کمی کر دی گئی تھی۔ظاہری بات ہے اور سعودی حکام حق بجانب بھی ہیں کیونکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس جیسی خطرناک وباءپھیلی ہوئی ہے ،جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سعودی عرب ،کئی خلیجی ممالک ،برصغیر ہندوپاک بھی بُری طرح سے متاثر ہیں، اور ایسی خبریں موصول ہونے لگی ہیں کہ مارچ میں حج کے انعقاد پر عارضی روک کے بعد حکومت سعودی عرب باقاعدہ روک کا اعلان کرسکتی ہے۔بلکہ ان حالات میں حج بیت اللہ کا ہونا مشکل نظرآرہا ہے اور جس طرح گزشتہ عرصہ میں نماز جیس اہم فرض عبادت میں مسلمانوں نے احتیاط برتا ہے ،حج بیت اللہ کے معاملے میں اسی طرح احتیاط برتیں گے۔
[email protected]
98676477

Javed Jamaluddin,
 Editor In Chief ./HOD

Contact :9867647741.
02224167

Leave A Reply

Your email address will not be published.