مسلمانوں کی نفسیات اورموجودہ حالت کی وجوہات ذمہ دار کون؟؟

0 66
۔محمدقمرانجم قادری فیضی
جب تک انسان ذہنی طور پر آزاد ہوتا ہے تب تک اسے غلام نہیں بنایا جاسکتا، ایک آزاد ذہن والے انسان کو قیدی تو بنایا جاسکتا ہے مگر غلام نہیں،انسان جسمانی طور پر غلام تب بنتا ہے جب وہ ذہنی طور پر غلام بن جائے، اس لیئے اگر کوئی ہم پر حملہ آور ہوکر ہمیں باندھ دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس نے ہمیں غلام بنالیا۔ جنگی قیدی اور غلام میں فرق ہوتا ہے۔اس لیئے اپنے ذہن آزاد رکھیں، قید قدرت کے قانون کا،حصہ ہے مگر غلامی کا انتخاب انسان خود کرتا ہے۔
مسلمانوں کی نفسیات اور موجودہ حالت کی وجوہات اور ذمہ دار کون ؟؟؟نظریاتی اور فکری لحاظ سے بے اختیار یا غلام قوم صنعتی ترقی نہیں کرسکتی،
نظریاتی اور فکری آزادی اور معاشی ترقی کا آپس میں بہت بڑا گہرا تعلق ہے ۔جب ایک قوم نظریاتی اور فکری طور پر آزاد ہوگی تو اس قوم میں سیاسی شعورپیدا ہوگا اور جس قوم میں سیاسی شعور ہوگا وہ قوم منظم اور متحد ہوگی اور وہ قوم اپنے وسائل، اپنے اختیارات، اپنے جعرافیئے اور معاشی اور قومی اقتصاد اصولوں سے واقف ہوگی، جب ایک قوم اپنے وسائل، جعرافیئے کی اہمیت، اختیارات اور قومی معاشی اور اقتصادی اصولوں سے واقف ہوگی اور متحدہوگی تو وہ قوم اپنے جعرافیئے کے اندر موجود اپنے تمام وسائل کو اپنے اختیار میں لےگی، اور ان تمام وسائل کو پہلے خود پر خرچ کرےگی ان سے اپنی ضرورت پوری کرےگی. اس کے بعد جو اضافی وسائل بچیں گے انہیں دیگر اقوام کے ہاتھوں بیچ کر اپنی معیشت مزید بہتر کرےگی یہ قومی معاشی اور اقتصادی اصول ہیں، یہی ایک گھر کے بھی اصول ہوتے ہیں اسی اصول و طریقے کے تحت گھر اور اقوام ذندہ رہتی ہیں، ترقی کرتی ہیں،
بھتہ خورسے سب نفرت کرتے ہیں کیوں ؟؟؟
کیونکہ بھتہ خور آپ کی کمائی میں سے آپ سے زبردستی آدھا حصہ لیکر چلا جاتا ہے اور آپ کو اپنی پوری کمائی کا آدھا حصہ ملتا ہے، سامراجیت بھی ایک قسم کا بھتہ خور ہی ہوتا ہے جو آپ کے جعرافیئے پر قبضہ کرکے آپ کے وسائل لوٹ کے لےجاتا ہے اور آپ اپنے وسائل کے ہوتے ہوئےبھی ان وسائل کو ترستے ہیں۔بس فرق صرف اتنا ہے کہ عام بھتہ خور چونکہ ذبردستی کرتا ہے اس لیئے وہ سب کو نظر آجاتا ہے اور سب لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں جبکہ سامراج قوم کی نظریات اور افکار کو ختم کرکے قوم کو اندھا، گونگا اور بہرا بنادیتاہے اور یوں سامراج کی بھتہ خوری قوم کو نظر نہیں آتی،
جس قوم کی اپنی نظریات اور اپنے افکار اور اپنی پہچان باقی نہیں رہتی اس قوم میں سیاسی شعور ختم ہوجاتا ہے، جس قوم میں سیاسی شعور نہیں ہوگا اس قوم میں اجتماعی شعور نہیں ہوگا، جس قوم میں اجتماعی شعور نہیں ہوگا وہ تقسیم اور منتشر ہوگی، جو قوم تقسیم اور منتشر ہوگی اور نظریاتی اور فکری طور پر خالی ہوگی وہ قوم سامراجی نظریات اور افکار کی محتاج ہوگی اور انہیں اپنائےگی، جو قوم سامراجی نظریات اور افکار کو اپنائےگی وہ قوم سامراجی کی غلامی میں چلی جاتی ہے اور غلام کچھ نہیں کرپاتے،اور اسی لیئے اس سامراج نے انکی نظریات اور افکار اور پہچان اور تاریخ کو گمنام اور بدنام کردیا، مسلمانوں کی سیاست اور تنظیم ختم کرکے مسلمانوں  کو منتشر اور تقسیم کردیا اور پھر نصاب تعلیم میڈیا اور ہر فورم کے ذریعے مسلمانوں  کے ذہنوں وفکر میں اپنی نظریات گھسا کر مسلمانوں کو اپنا غلام اور محتاج بنانے کی کوششیں جاری وساری ہیں اور یوں ہی سامراج مسلمانوں کے وسائل پر قابض ہونے کی لگاتار سعئی لاحاصل کرتا رہےہندوستان مسلمانوں کا سب سے ذیادہ تعلیم یافتہ ملک ہے مگر یہاں کے وسائل پر سامراج باآسانی قابض ہورہی ہے ۔۔کیسے ؟
کیونکہ ہندوستان  کے لوگوں نے ا، ب، پ اور A, B, C تو سیکھ لیئے ہیں مگر ان ا،ب،پ اور A B C کو جوڑ کر انہوں نے وہ الفاظ، وہ جملے اور وہ نظریات پڑھی ہیں جو سامراج انہیں پڑھانا چاہتا ہے۔ ان لوگوں کو سامراجی نصاب کے ذریعے اپنی نظریات، اپنی افکار اور اپنے وطن سے دور کردیا گیا ہے،ان لوگوں کی ایسی ذہن سازی کی گئی ہے کہ یہ لوگ اعلی تعلیم یافتہ ہوتے ہوئے بھی آپس میں منتشر ہوتے جارہے ہیں ،کچھ دقیانوسی خیالات والےآج بھی کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان والے اپنا جعرافیہ اور مسلمان مسلمان بھائی بھائی والے صدیوں پرانے فلسفے میں کب تک اٹکے رہیں گے جو موجودہ دور میں فرسودہ ہوچکا ہے۔ان لوگوں کو اپنے جعرافیئے، وسائل، اختیارات، قومی معیشت اور صنعت بلکہ قومیت کا ہی نہیں معلوم کہ قوم کیا ہوتی ہے یہ لوگ تو ملک کو قوم کہتے ہیں اور ان کی ایسی ذہن سازی کی گئی ہے کہ یہ لوگ آزادی اور خودمختاری جیسے الفاظ سے خوفزدہ ہیں اور خوف کی وجہ سے یہ ان الفاظ سے نفرت کرتے ہیں اسے گناہِ کبیرہ سمجھتے ہیں حالانکہ خودمختاری ہی وہ واحد چیز ہے جس سے قومیں ترقی کرتی ہیں اور خوشحالی، سکون، امن، تحفظ، انصاف، عزت اور سب کچھ پاتی ہیں،آج کھل کر بات کرتے ہیں۔خیال کریں اور سوچیں لہ اگر سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات کے تیل کا اختیار فرانس کے ہاتھ میں ہوتا تو کیا سعودی عرب آج اتنا امیر ہوتا ؟ہر گز نہیں۔اس تیل کا آدھا حصہ تو فرانس ایسے لےجاتا کہ اس کا اختیار ان کے ہاتھ میں ہے لہذا عرب کی معیشت اور اقتصاد تو صرف اس ایک اختیار کی شفٹنگ میں آدھی ہوگئی،عرب اپنا اضافی تیل دنیا کو بیچ بیچ کر امیر ہوئے ہیں مگر اس بے اختیاری کی حالت میں عرب کو اپنی قومی مارکیٹ بچانے کے لالے پڑجاتے دیگر دنیا کو تیل بیچنا تو بہت بڑی بات ہے،
اسی طرح سامراجیت نے بھی ہمارے وسائل کا اختیار اپنے ہاتھ میں لیکر ہمارے وسائل کو بلاوجہ تقسیم کردیا اور ہمارے قومی وسائل آدھے سے بھی کم رہ گئے۔ایک قوم معاشی اور اقتصادی ترقی کیسے کرتی ہے ؟جب ایک قوم کے پاس اضافی وسائل ہوں تو وہ ان اضافی وسائل کو دیگر اقوام کے ہاتھ بیچ کر دولت کماتی ہے اور اس طرح اس دولت کو قوم کی ترقی اور دفاع پر خرچ کیا جاتا ہے اور قوم معاشی اور اقتصادی ترقی کرتی ہے مگر جناب یہاں تو معاملہ الٹاہے
یہاں عجیب و غریب طریقے کےساتھ بلاوجہ ہمارے وسائل کو انتہائی بھونڈے انداز میں تقسیم کردیا گیا ہے،ایک قوم معاشی طور پر مضبوط ہی تب ہوتی ہے جب اس قوم کے وسائل کے لحاظ سے اس کا خرچہ کم اور کمائی زیادہ ہو مگر یہاں مسلم قوم کیا خاک ترقی کریےگی کہ اضافی وسائل مفت میں کسی اور کے حوالے کردیئے اور خود پائی پائی کو ترس رہے ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کی جو صورت حال ہے اس سے ہر کوئی آشنا ہے، ان کی تعلیمی، اقتصادی، اور سماجی پسماندگی ہندوستان میں ہی نہیں؛ بلکہ دنیا بھرمیں مشہور ہے،  ہندوستانی مسلمانوں کی محرومی و پسماندگی کی اپنی ایک مستند تاریخ ہےجو خصوصاًسچر کمیٹی اور رنگاناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کے بعد کے حالات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔
(1)(سچر کمیٹی اور رنگاناتھ مشراکمیشن)رپورٹس کابغورجائزہ لیا جائےتو یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق مسلم معاشرہ بہت ہی زیادہ محرومیت کا شکار ہے، خاص طور پر ترقی کے تمام شعبوں میں( ایس سی ایس ٹی) سے بھی پیچھے ہے، اور رنگاناتھ مشرا کمیشن رپورٹ کے مطابق بھی مسلمان بہت ہی زیادہ پسماندگی کا شکار ہے، RMC نے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار اس بات کی سفارش کی تھی کہ 1950 کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ترمیم کر کے اقلیتوں بشمول مسلم اقلیت کو ریزرویشن ملنا چاہیئے رپورٹ کے مطابق مسلمان SCاور ST کی طرح بالکل پسماندہ ہیں ،یہاں تک کہ OBC ہندو سے بھی زیادہ پسماندہ اور پیچھے ہیں، پھر اس رپورٹ کے بعد کیا ہوا؟ حکومت نے اس کمیٹی کی کتنی سفارشات کو نافذ کیا؟ اور کیسے کیا؟ مسلمانوں کی اقتصادی، سماجی اور تعلیمی حالات کو بہتربنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟یہ سارے سوالات کہاں گئے، قارئین کرام! ملک کے وسائل پر مسلم اقلیت کا سب سے پہلا حق ہے اور انہیں کی کوششوں کی وجہ سے مسلمانوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے بہت محنت کی گئی،
 عرب ممالک اور دوسرے ملکوں میں بھی مختلف پروگراموں میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی حالت پر توجہ دے۔
(2)ایک رپورٹ کے مطابق مسلمان تعلیمی اعتبارسے OBCسے بھی پیچھے ہیں، 2011 کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں صرف 68.5 فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں، سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 25 فیصد مسلم بچوں نے اسکول کا منھ تک نہیں دیکھا، جبکہ دوسرے طبقات کے لوگ 94 فیصد، 84 فیصد پڑھے لکھے ہیں،سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لڑکیاں بھی تعلیم میں بہت پیچھے ہیں، اور بی جے پی ، آر ایس ایس اور اس کی تمام شاخیں ہروقت مخالفت کے لیے کھڑی رہتی ہیں، اور بہت سارے اسکیموں کو پاس نہیں ہونے دیتی ہیں،
ہم  دینی مدارس کے تعلق سے بات کرتے ہیں کہ مدارس کے اندر قرآن، حدیث، فقہ، اسلامی فلسفہ اور جنرل سائنس وغیرہ پڑھایا جاتا ہے، ان مدارس میں کسی بھی طرح کی غلط چیزیں نہیں پڑھائی جاتیں،جو ملک یا ملک میں رہنے والے دوسروں لوگوں کے خلاف ہوں، مگر گودی میڈیا چیخ چیخ کر مدارس کو پوری دنیا میں بدنام کرنے پر تلا ہوا ہے، ہندوستان کا میڈیا دو خانوں میں بٹاہواہے، ایک غیر جانبدار جو مدارس کو مثبت انداز میں پیش کرتا ہے اور لوگوں کوبتاتا ہے کہ یہاں صرف اسلامی علوم  سکھایا جاتا ہےتاکہ مسلمان اپنے مذہب کی حفاظت کرسکیں اور اس پر عمل کر سکیں،دوسری طرف گودی میڈیا ہے، جو ہر وقت مدارس کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے اور چیخ چیخ کر مسلمانوں کودہشت گرد اور جہادی قرار دیتاہے، یہاں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے اور ان مدارس کو فنڈنگ بھی دہشت گرد تنظیمیں کرتی ہیں۔
مگر اسکے برعکس یہاں پڑھنے والے عموماً غریب فیملی کے بچے ہوتے ہیں؛ اس لیے حکومت نے اس بچوں کے لیے NIOS کو تشکیل دیا؛ تاکہ وہ بچے اوپن سے اسکول کا سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں،
(3)مسلمانوں کی بے روزگاری، ملازمت اور بینکوں میں پیسے جمع کرانے سے متعلق معلومات رپورٹس یہ کہتے ہیں کہ  مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد چھوٹے چھوٹے بزنس اور اور کاموں پر بھروسہ کرتی ہے، جس میں نہ کوئی تحفظ ہے اور نہ زیادہ آمدنی؛ بلکہ بہت سے مسلمان تو روایتی پیشہ اختیار کیے ہوئے ہیں جیسے ریشم، چمڑے اور جوٹ وغیرہ، اسی طرح مسلمان سرکاری ملازمت میں بھی نہ کے برابر ہیں ،خواہ وہ مرکزی سطح پر ہو یا صوبائی سطح پر، رپورٹ کے مطابق صرف 50:30 فیصد مسلمانوں کا بینک اکاؤنٹ ہے، جبکہ 49:70 فیصد کے پاس کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے، قرض وغیرہ لینے کے لیے وہ اپنے رشتہ دار، دوست اور پڑوسی وغیرہ کی طرف رجوع کرتے ہیں،صرف 40 فیصد مسلمانوں نے قرض لینے کے لیے بینک میں درخواست دی ہے اور صرف 10.7 فیصد گھر بنانے کے لیے اور 10:08 فیصد لوگوں نے تعلیم کے لیئے قرض کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ چونکہ اسلام میں سودی کاروبار اور لین دین حرام ہے، اس لیے RBI سے اسلامک بینکنگ کی اجازت طلب کی گئی تھی، مگر اس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ قانون بنا کر لانا چاہیے، 2013 میں وزیر خزانہ نے اسلامک بینکنگ کے تعلق سے RBI کی رائے طلب کی تھی، فروری 2017 میں اس نے اپنی رائے submit کر دی، مگر اب تک اس پر گورنمنٹ نے ایکشن نہیں لیا،حالاں کہ عالمی سطح پر اسلامک بینکنگ کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہے، اسلامی ملکوں میں ہی نہیں؛ بلکہ مغربی ممالک بھی، اسی طرح برطانیہ، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ اور دوسرے ممالک میں اسلامک بینکنگ کےسینٹرز بنے ہوئے ہیں اور لوگوں کا رجحان بھی اس طرف بڑھ رہاہے۔وکیپیڈیا رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں مسلم وقف کی جائداد لاکھوں ہزار کروڑ ہیں اور ان کی سالانہ آمدنیاں بھی بے پناہ ہیں؛ لیکن ان کا استعمال صحیح طور پر نہیں کیا جارہا ہے، زیادہ تر حصہ حکومت اور وقف جائداد کے ذمہ داران ہضم کر جاتے ہیں،
مضمون نگار۔سدھارتھ یونیورسٹی سدھارتھ نگر کے ریسرچ اسکالر ہیں،
رابطہ۔6393021704

Leave A Reply

Your email address will not be published.