تعلیمی نظام اور حکومت کابےحس رویہ

0 109

 

شاہنوازبدرقاسمی

کوروناوائرس نے جہاں عالمی سطح پر انسانی زندگی کے نظام کو درہم برہم کرکے رکھ دیاہے وہیں اس وباء کے نام پر سب سے زیادہ اگر نقصان ہواہے تو تعلیم کاشعبہ ہے،تعلیمی نظام مکمل طریقے سے تھم ساگیاہے،گاؤں سے لیکر شہرکے تک کے اسکول،کالج،مدارس اور مکاتب سب بندہیں،کوروناکے قہرسے اب بچے بھی پریشان ہوچکے ہیں،دنیامیں جوں جوں کورونامریضوں کی تعدادمیں اضافہ ہورہاہے وہیں تیزی سے ڈراور خوف بھی ختم ہوتاجارہاہے، ملک میں ایک بڑی آبادی ان لوگوں کی ہے جنہیں کورونابیماری کے ہونے پر آج بھی شک ہے و ہ اسے عالمی سازش کے طور پر دیکھ رہے ہیں،اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاہے کہ کوروناوائرس کے بہانے انٹرنیشنل سطح عوامی طاقت کو کمزور کرنے پر دنیاکے تمام ممالک متفق ہیں اور ہر ملک یہی چاہتاہے کہ حکمراں طاقت مضبوط ہواور عوامی طاقت بے حیثیت ہوکر رہ جائے اس کام کیلئےWHOنے کوروناکے بہانے جودہشت پھیلایا وہ کسی خطرناک سازش اور جرم عظیم سے کم نہیں ہے،انسانی تاریخ میں سب سے تکلیف دہ فیصلہ اس لوک ڈاؤن کو کہ سکتے ہیں کیوں کہ اس بہانے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑں لوگ فاقہ کشی کے شکارہوگئے،بہتوں نے اپنی زندگی سے ہاتھ دھولیا،بے روزگاری نے تمام ممالک کے معاشی نظام کوجس طرح متاثر کیاہے اس کااندازہ لگاناناممکن ہے بھارت میں غریبی کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہواہے،اب دنیاکو ترقیاتی پٹری پر لاناسب کیلئے بڑاچلینج ہے،ہمارے ملک میں کوروناپوزٹیو کے نام پر جن لوگوں کی نشاندہی کرکے مریض ثابت کرنے کی کوشش ہورہی ہے ان میں 80فیصد فرضی مریض ہیں جو بغیر کسی علاج کے صحت یاب ہورہے ہیں یہ سب سرکاری افسران کی نگرانی میں بہت بے رحمی سے ہورہاہے جو انتہائی تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔ ملک میں کورونا پوزیٹو اور نگیٹو کاکھیل ایسے چل رہاہے جیسے کرکٹ میچ کااسکار،اب تو مریضوں کی تعداد والی خبر وں سے لوگوں کی دلچسپی بھی ختم سی ہوگئی ہے۔
عوامی مطالبات پر حکومت نے دھیرے دھیرے سب کچھ کھول دیاہے سوائے تعلیمی ادارے کے،اس لوک ڈاؤں کی وجہ سے ملک میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں تعلیمی ادارے بندہوچکے ہیں یاپھر بند کرناانتظامیہ کی مجبوری ہوگئی ہے۔جو لوگ پرائیوٹ تعلیمی شعبہ سے وابستہ ہیں وہ اس وقت کن حالات سے دوچار ہیں اس کااندازہ لگانامشکل ہے،ایک طرف تمام تعلیمی اداروں پر تالالٹکاہواہے، اساتذہ کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت ہے تو دوسری طرف اسکول اور مدارس میں پڑھنے والے بچوں کا مستقبل تاریک بناہواہے،ملک میں تعلیمی اداروں کے علاوہ تقریبا سب کچھ کھل چکاہے لوک ڈاون کی وجہ سے چند اداروں نے آن لائن تعلیمی نظام کاآغاز کیاہے لیکن فی الحال یہ ہمارے ملک میں کامیاب نہیں ہے، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں تعلیمی اداروں کو جلدازجلد کھولاجائے تاکہ ملک وملت کا مستقبل کہلانے والے یہ بچے اپناتعلیمی سفرجاری رکھ سکیں،اگر مزید چند ماہ تعلیمی ادارے نہیں کھولے گئے تو ملک کو ایک بڑے نقصان سے گذرنا پڑے گاجس کااندازہ لگانامشکل ہے،ملک اورسماج کو اگر تباہی سے بچاناہے تو تعلیمی نظام کو جاری رکھناہر حال میں ضروری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.