★سفر نا مئہ آخرت★ (جنت اور جہنم کی طرف آپ کا راستہ )

0 57

 

محمدعلی_جوہرسوپولوی

ای میل آئی ڈی
[email protected]

قبر: آخرت کی سب سے پہلی منزل ہے، کافر ومنافق کے لئے آگ کا گڑھا اور مؤمنوں کے لئے (جنت کی) کیاری ، بعض گناہوں پر صراحت کے ساتھ قبر میں عذاب کا ذکر ہے، جیسے پیشاب سے بچنا، چغلی کھانا، مال غنیمت سے چوری کرنا، جھوٹ بولنا، نماز کے وقت سوتے رہنا، قرآن کو پس پشت ڈال دینا، زنا لواطت سود کھانا اور فرض لے کر واپس نہ کرنا وغیرہ، شہید سرحدوں پر پہرےدار، جمعہ کے دن وفات پانے والا، پیٹ کے مرض میں مرنے والا، وغیرہ۔
صور کا پھونکا جانا : صور ایک عظیم قرن (سینگ) ہے ، جسے حضرت اسرافیل علیہ السلام اپنے منھ میں رکھے ہوئے انتظار میں ہے کہ کب اس میں صور پھونک مارنے کا حکم ہوتا ہے ( صور میں دو مرتبہ پھونک ماری جائے گی ) نفخۂ فزع ، یعنی گھبراہٹ کی پھونک ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ ویومَ ینفخُ فی الصورِ ففزعَ من فی السموتِ ومن فی الارضِ الا من شاءاللہ ﴾ اور جس دن صور پھونک دیا جائے گا، پس آسمانوں اور زمین والے سب بیہوش ہوکر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے، (النمل : ٨٧) ۔ اس نفخے کے بعد ساری کائنات تہس نہس ہوجائے گی، پھر چالیس (سال) بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا جسے نفخۂ بعث کہا جاتا ہے، ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ( ثمَّ نفخَ فیہ اخریٰ فأ ذا ھمْ قیامٌ ینظرون،) پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، پس وہ ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے، ۔ (الزم ٦٨) ۔
بعث و نشر: پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش نازل فرمائے گا جس کے اثر سے ( ریڑھ کی ہڈی کے آخری حصے سے ) تمام اجسام اگنے شروع ہونگے، وہ ایسی نئی تخلیق ہوگی، اس کے بعد لوگوں کو موت نہ آئے گی، لوگ ننگے بدن، ننگے پاؤں اور بغیر ختنے کے ہونگے، جنوں اور فرشتوں کو دیکھیں گے ، اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے، چنانچہ حالت احرام میں وفات پانے والا تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھایا جائے گا، شہید کا خون بہہ رہا ھوگا، اور غافل حالت غفلت میں ہوگا، اللہ کے رسول {ﷺ} کا فرمان ہے ، ( یبعثُ کل عبدٍ علی ما ماتَ علیہ ) ” ہر شخص اس حال یا اس عمل پر اٹھایا جائے گا جس پر اس کی موت واقع ہوتی ہے “ ۔ ( مسلم )۔
حشر: پھر اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو حساب کے لئے ایک ایسے دن میں جمع کرےگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہونگی، حالت یہ ہوگی کہ لوگ مدہوشوں کی طرح گھبرائے ہوئے ہوں گے، (ایسا محسوس کرینگے کہ) دنیا میں اسکا رہنا صرف ایک گھنٹے کے لئے تھا، ، سورج اس کے قریب ایک میل کی دوری پر لایا جائے گا ، اپنے اپنے اعمال کے مطابق لوگ پسینے میں ڈوبے ھوں گے ، کمزور لوگوں کا اور اہل کبر نخوت کا گروپ آپس میں جھگڑے گا، کافر سے اس کا قرین ( ساتھی) اسکا شیطان اور اس کے اعضاء جھگڑا کریں گے، ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجیں گے، ظالم اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا،۔ [یٰویلَتیٰ لَیتَنی لَمْ اتَّخِذ فُلانًا خَلیْلًا ] ” ہائے میری بربادی ! کاش! میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا،.“ ( الفرقان ٢٨)۔ اس دن جہنم کو ستر ہزار لگاؤں سے کھینچا جا رہا ہوگا، اور ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑے ہونگے، چنانچہ جب کافر اسے دیکھے گا تو چاہے گا کہ اپنی طرف سے فدیہ پیش کر کے چھٹکارا لے لے یا پھر خاک ہوجائے، رہی گنہگاروں کی کیفیت کا تو زکوٰۃ نہ دینے والے کو ان کے مال سے آگ کی تختیاں بنا کر اس کے جسم کو داغا جائے گا، گھمنڈویوں کو چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی شکل میں اٹھایا جائے گا، اس میدان میں خیانت کرنے والوں، غصب کرنے والوں اور دھوکہ دینے والوں کو رسوا کیا جائے گا، چور چوری کا مال اپنے ساتھ لے کر آئے گا، ہر پوشیدہ امر اور ہر حقیقت سامنے کھل کر سامنے آجائے گی، البتہ نیک اور متقیوں کو کوئی گھبراہٹ نہ ہوگی، بلکہ یہ دن ان کے اوپر ایک نماز، جیسے ظہر کے وقت کی طرح گذر جائے گا، ﴿ لَا یَحْزُنُھمُ الفزعُ الکبرُ ﴾ ” بڑی گھبراہٹ انہیں پریشان نہ کریگی، “ ( الانبیاء: ١٠٣ )۔
شفاعت: ” شفاعت عظمیٰ “ یہ شفاعت ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص ہے، چو حشر کے روز تمام مخلوقات پر سے ( موقف) کی سختی و پریشانی دور کرنے اور ان کے حساب کے لئے ہوگی، باقی دوسری شفاعتین جو یوم حشر کے ساتھ خاص نہیں ہے نبی کریم ﷺ اور غیر کو بھی حاصل ہوگی، جیسے جو مسلمان جہنم میں جا چکے ہونگے انہیں نکالنے کے لیے اور اھل جنت کے درجات کی بلندی کے لئے۔
حساب: صف در صف لوگ حق جل مجدہ کے حضور میں پیش کیے جائیں گے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال پر ان کو مطلع کریگا، ان سے متعلق سوال کریگا اسی طرح ان کی عمر، جوانی، مال، علم، عہد و پیماں کے متعلق سوال ھوگا نیز دنیاوی نعمتوں ، آنکھ، کان اور دل کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا، کافروں اور منافقوں کا حساب ساری مخلوقات کے سامنے اس لیے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ انہیں پھٹکارے ذلیل کرے اور اس پر حجت قائم کرے، اور اس کے خلاف لوگ زمین ، دن و رات ، مال و اسباب، فرشتے اور اعضائے جسم گواہی دیں، تاکہ اس کے جرائم ثابت ہو، اور وہ اپنے جرائم کا اقرار کریں، ( بر خلاف ان کے) مؤمن سے اللہ تعالیٰ تنہائی میں ملے گا، اس کے گناہوں کا اقرار کروائے گا، یہاں تک کہ وہ سمجھنے لگے گا کہ اب میں ہلاک ہوا، تو اللہ تعالیٰ فرنائے گا ( سَتَرْتُہا عَلَیکَ فی الدنیا ، وأنا اغفرُہا لک الیومَ ) ” تیرے ان گناہوں پر میں نے دنیا میں پردہ ڈالا تھا اور آج انہیں میں تیرے لیے معاف کر رہا ہوں “ (بخاری)۔
نامۂ اعمال کی تقسیم: پھر نامۂ اعمال تقسیم کیے جائیں گے چنانچہ لوگوں کے ہاتھوں میں ایک ایسی کتاب دی جائے گی، جس نے: ﴿مَالِ ہذا الکتابِ لا یُغادِرُ صغیرۃ ولا کبیرۃ ً الا احصٰھَا ﴾” کوئی چھوٹا بڑا عمل بغیر گھیرے کے باقی ہی نہیں چھوڑا ہوگا“. (الکہف: ٤٩)
میزان، (ترازو): پھر بندوں کے اعمال ایک ایسے ترازو میں تولے جائیں گے، جو حقیقی اور بالکل صحیح ترازو ہوگا اور اس کے دو پلڑے ہونگے تاکہ انہیں ان کا پورا بدلہ دیا جائے ، جو اعمال جو اخلاص اور شروع کے موافق ہونگے ، ترازو میں وزنی ہوں گے، اس وزن میں بھاری ہونے والے بعض اعمال یہ ہے،؛ ”کلمہ: لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ ، حسن ِخلق اور ذکرِ الٰہی، جیسے الحمدللہ ،سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم“ اس جگہ لوگ نیکیوں اور برائیوں پر صلح کریں گے ( ایک دوسرے کا حق نیکیوں اور برائیوں کے تبادلے سے ہوگا۔
حوض: حوض پر وارد ہونگے جو اس سے ایک بار پی لے گا اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ھوگا، ہر نبی کا ایک حوض ہوگا اور سب سے بڑا حوض ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوگا ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا، اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہوگا۔ اس پیالے سونے اور چاندی کے ہونگے ، تعداد میں وہ ستاروں کے برابر ہونگے، اسکی لمبائی اردن کے ایک شہر ایلہ سے لے کر عدن تک ہوگی، اس کا پانی نہر کوثر سے آرہا ہوگا ،
مؤمنین کا امتحان: یوم حشر کے آخری حصے کافر اپنے ان معبودوں کے ساتھ ہولیں گے جن کی وہ دنیا میں عبادت کرتے تھے، جو انہیں جانوروں کے ریوڑ کی طرح اپنے پیروں کے بل یا اپنے منھ کے بل جماعت در جماعت جہنم تک جا پہنچا دیں گے، پھر وہاں مؤمنین اور منافقین رہ جائیں گے،۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس آکر پوچھے گا ؛ تم لوگ کس کا انتظار کر رہے ہو؟ جواب دیں گے کہ ہم اپنے رب کا انتظار کر رہے ہیں ، پھر اللہ تعالٰیٰ اپنی پنڈلی ظاہر کر دیگا تو لوگ اسے پہچان لیں گے سوائے منافقین کے تمام لوگ سجدے میں گر پڑیں گے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿یَومَ یُکشَفُ عنْ شاقٍ ویُدعونَ ألی السجودِ فلا یستطیعونَ ﴾ ” جس دن پنڈلی سے پردہ اٹھا دیا جائے گا اور لوگوں کو سجدہ کے لئے بلایا جائے گا تو وہ سجدہ نہ کرسکیں گے، “ (القلم:٤٢) پھر لوگ اللہ تعالیٰ کی پیروری میں لگ جائیں گے، چنانچہ پل صراط رکھا جائے گا، اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو نور عطا فرمائے گا، اور منافقین کا نور بجھا دیا جائے گا۔
پل صراط: جہنم پر رکھا گیا ایک پل ہے تاکہ اسے پار کر کے مؤمنین جنت تک پہنچیں ، اسکی صفت اللہ کے رسول ﷺ نے اس طرح بیان فرمائی ہے: لچکدار، پھسلاہٹ والا ہے، سعدان کے کانٹوں کی طرح اس میں آنکڑے اور کنڈیاں ہیں: (بخاری) نیز فرمایا کہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔
وہی پر مؤمنین کو ان کے اعمال کے مطابق نور دیا جائے گا سب سے اعلی درجے کا نور پہاڑ کے برابر اور سب سے ادنیٰ درجے کا نور پیر کے انگوٹھے پر ہوگا، جب یہ نور ان کے لیے روشن کیا جائے گا تو اپنے اپنے اعمال کے اعتبار سے ایماندار لوگ اسے پار کریں گے، چنانچہ پلک جھپکنے کی تیزی، بجلی کی سرعت، ہوا کی تندی، چڑیوں کی رفتار،تیز گھوڑے کی رفتار اور عام سواریوں کی رفتار سے مؤمنین اسے پار کریں گے، کچھ لوگ صحیح و سالم ہوجائیں گے، کچھ لوگوں کو زخم لگیں گے،اور کچھ لوگ ایک دوسرے پر جہنم میں گر جائیں گے،۔ (مسلم) :
البتہ منافقین کے پاس کسی قسم کا نور نہ ہوگا کہ اس سے مدد لیں، پھر وہ لوٹ جائیں گے، اچانک ان کے اور مؤمنین کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی، پھر وہ پل صراط پار کرنا چاہیں گے لیکن آگ میں گرتے جائیں گے۔
جہنم: جہنم میں (سب سے پہلے) کافر داخل ہونگے، پھر گنہگار مسلمان اس کے بعد منافقین، جہنم کے سات دروازے ہیں،یہ آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہے، اس میں کافر کے وجود کو دراز کر دیا جائے گا تاکہ وہ عذاب کا خوب مزہ چکھے، چنانچہ اس کے دونوں کندھوں کے درمیان کا فاصلہ دن کی مسافت کا ھوگا ، اسکی ڈاڑھ احد پہار کے برابر ہوگی، اس کے جلد کو موٹا کر دیا جائے گا، اس کے پینے کے لئے ایسا گرم پانی ھوگا جو اس کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا، اس کے کھانے کے لئے زقوم ، غسلیں اور پیپ ہوگا ، سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی ہوگا جس کے پاؤں کے نیچے دو انگارے رکھ دئیے جائیں گے، جن سے اسکا دماغ کھولے گا، جہنم کی گہرائی اس قدر ہے کہ اگر اس میں کوئی نومولود بچہ ڈال دیا جائے تو اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے اس کی عمر ستر سال کی ہوجائے گی اسکا ایندھن کفار اور پتھر ہونگے، اسکی ہوا سخت گرم ( لو) ہوگی، اس کا سایہ سیاہ دھواں ہوگا وہ ہر چیز کو چٹ کر جا ئیں گی ، نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی، جلد کو جلا کر ہڈیوں تک پہنچ جائے گی، دلوں تک چڑھتی چلی جائے گی،بہت غصے میں چٹگھاڑ مار رہی ہونگی، ایک ہزار لوگوں میں سے نو سو ننانوے افراد اس میں جائیں گے،۔
جہنم میں پہننے کا لباس آگ ہوگی، جلدوں کا جل جانا اور سکڑ جانا، چہرے جل جانا جھلس جانا، اس میں گھسیٹا جانا، اور چہرے کا کالا ہونا یہ سب جہنم کے مختلف انواع کے عذاب ہیں ،۔
قنطرہ: اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: ” جب مؤمنین کو جہنم سے چھٹکارا مل جائے گا تو جنت و جہنم کے بیچ ایک قنطرہ (چھوٹے پل) پر انکو روک لیا جائے گا، ان سے ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو ان کے درمیان دنیا میں تھے، یہاں تک کہ جب وہ بالکل پاک و صاف ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت ہوگی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے! جنتی جنت میں اپنی منزل کے راستے کو اپنی دنیا کے منزل سے زیادہ پہچانتا ہوگا،۔
جنت: مؤمنوں کا ٹھکانہ ہے اسکی اینٹیں سونے اور چاندی کی ہیں، اس کا گاڑا مشک کا ہے، اس کے سنگ ریزے موتی اور یاقوت کے ہیں، اسکی مٹی زعفران ہے، جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اس کے ایک دروازے کی چوڑائی تین دن کی مسافت ہے، لیکن اس کے باوجود بھیڑ سے تنگ پر جائے گا، اس کے سو درجے ہیں، ایک درجے اور دوسرے درجے کے درمیان آسمان و زمین کے بیچ کا فاصلہ ہے ، جنت کا سب سے اعلیٰ مقام ”فردوس“ ہے وہیں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں، اس کی چھت عرش الٰہی ہے اس کی نہریں بغیر خندق کے بہہ رہی ہیں، مؤمن جس طرح چاہے گا بہا لے جائے گا اس کی نہریں دودھ، پانی ،شراب اور شہد کی ہیں، اس کے پھل ہمیشہ رہنے والے، قریب تر اور نیچے کی طرف لٹکے ہوئے ہیں، جنت میں ایک ایسا موتی کا خیمہ ہے ، جس کا عرض ساٹھ میل ہے، اس کے ہر زاویے میں جنتی کے اہل خانہ ہیں، جنتیوں کے جسم پر بال نہیں ہوں گے، چہرے پر سر مگیں آنکھیں ہوں گی، نہ اس کی جوانی ختم ہونگی ، نہ ان کے کپڑے پرانے ہونگے، جنت میں نہ پیشاب اور پاخانہ کی حاجت ہوگی، نہ کوئی اور گندگی ہوگی، انکی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کا پسینہ مشک ہوگا، ان کی بیویاں خوبصورت، دوشیزائیں، ہم عمر اور خاوندوں کی پیاری ہوں گی، جنت میں سب سے پہلے ہمارے آقائے نامدار فخر رسول احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام داخل ہوں گے، سب سے کم تر درجے کا جنتی وہ ہوگا جو تمنا کرے گا تو اسے (جہاں اسکی تمنا ختم ہوگی) اسکا دس گنا زیادہ دیا جائے گا، جنت کے خادم ہمیشہ رہنے والے ایسے بچے ہوں گے جو بکھرے ہوئے موتیوں کی طرح دکھائی دیں گے ، جنت کی اعلیٰ ترین نعمتوں میں سے دیدار باری تعالیٰ ، اس کی رضامندی اور اس کی دائمی قیام بھی ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.