جسے سنگھی حکومت نے بچایا وہ عتاب ایشور اللہ سے کیسے بچ پائے گی؟

0 60

 

نقاش نائطی
966504960485

مالیگاؤں قبرستان بم بلاسٹ کی ملزمہ سادھوئی پرتگیہ سنگھ ٹھاکور،جس کی موٹر سائیکل پر بم نصب کرکے مالیگاؤں قبرستان بم بلاسٹ میں استعمال کی گئی تھی اور جس کی پاداش میں مالیگاؤں کے تعلیم یافتہ بیسیوں مسلم نوجوانوں کو، بھارتیہ انٹیلیجنس ایجنسیوں نے، غیر ضمانتی ٹاڈا یا مکوکا کیسز میں گرفتار کرتے ہوئے، بیسیوں سال جیلوں میں ٹھونستے ہوئے، ایک طرف ان عصری تعلیم یافتہ نوجوان پیڑھی کی زندگیاں برباد کی تھیں 9/11 امریکی حملہ بعد، یہود و نصاری کے، مسلم امہ کو دیشت گرد ٹہرائے جانے کی عالمی سازش کے پس منظر میں، وائبرنٹ گجرات ماڈل سنگھی گڑھ میں ترتیب دئیے، بھارتیہ مسلم دشمن آر ایس ایس، بی جے پی کی سازشوں کے تحت، انہی کی سر پرستی میں، اپنی سنگھی شدت پسند ذیلی تنظیم ابھینو بھارت قائم کرتے ہوئے، سنگھی فوجی کرنل پروہت، سوامی اسیمانند، سادھوئی پرتگیہ سنگھ ٹھاکور اور انیک شدت پسند ھندوؤں پر مشتمل، ابھینو بھارت دہشت گردی کے ذریعہ سے، دیش کے مختلف حصوں میں، مالیگاؤں قبرستان کے ساتھ ہی ساتھ، حیدر آباد مکہ مسجد ، بنارس مندر، سمجھوتہ ایکسپریس ھند و پاک ریل گاڑی جیسے مسلم اھداف، بم بلاسٹ میں، مسلمانوں ہی کا جانی و مالی نقصان کرواتے ہوئے، ان سنگھیوں کے کئے تمام تر بم دھماکوں کے لئے، مسلم تعلیم یافتہ نوجوانوں ہی کو پھنسانے ہوئے،انہیں بیسیوں سال جیلوں میں سڑاتے ہوئے، ایک طرف انکی زندگی برباد کرنی مقصود تھی تو دوسری طرف مسلم طبقہ کو دہشت گرد ٹہراتے ہوئے، انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی یہ سنگھی برہمنی سازش تھی۔اس پر اس منظم منصوبہ بندی سے عمل کیا گیا تھا کہ بھارتیہ مسلم قوم بھی، دفاع میں بیک فوڈ آنے پر مجبور ہو گئی تھی۔بھارت بھر میں بلاسٹ کئے گئے ان دیسی ساختہ بموں میں دانستا اردو اخبارات ردی کا استعمال کیا گیا تھا تاکہ ان بم بلاسٹ کے لئے دیش کی انٹیلجنس ایجنسیوں کے بڑے عہدوں پر بیٹھے سنگھی آفیسران، بم بلاسٹ مواقع پر بکھرے اردو اخبارات کے ذرات کے پیش نظر،تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو شکنجہ میں لینے پر، مسلم ذمہ داران ملت چوں وچراء تک کر نہ پائیں۔ اوپر سے وکلا برادری کے سنگھی وکیلوں نے،منظم سازش کے تحت، ان مسلم نوجوانوں کو جیل سے آزاد کرانے کی مسلم طبقہ کی کوششوں کے سبوتاژ کے لئے، دیش دشمن ان بم دھماکوں میں ملزم قرار دئیے ملزموں کی طرف داری کرنے والے، انہیں آزاد کرانے کی کوشش کرانے والے ان کے رشتہ دار یا عوامی این جی او سے منسلک افراد اور حتی کہ انہیں قید و بند سے آزاد کرنے،ان ملزمان کی پیروی کرانے والے مسلم و غیر مسلم وکلا تک کو بھی دہشت گرد ٹہراتے ہوئے، دیش بھر میں گرفتار کئے گئے ہزاروں ان مسلم تعلیم یافتہ نوجوانوں کو، ان سنگھی تحقیقاتی آفیسران کے رحم و کرم پر گویاچھوڑ دیا گیا تھا۔ کسی بھی مظلوم انسانوں پر جب ظلم حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے اور ظالموں کا مکر و فریب حد سے تجاوز کر جاتا ہے تو خالق کائینات کا حسن تدبر،ان انسانی سازش کاروں کے مکر و فن پر غالب آہی جاتا ہے۔ ممبئی انٹیلیجنس سے منسلک شری ہیمنٹ کرکرے جب ممبئ اے ٹی ایس چیف کی حیثیت ذمہ داری سنبھالتے ہیں، تو مہاراشٹرا میں ہوئے تمام تر بم بلاسٹ میں، اس وقت تک پکڑے گئے تمام مسلم نوجوانوں کے ساتھ،کی گئی تحقیقات کے بہانے سے، ان ملزمین پر ڈھائے ظلم و ستم کے باوجود، جب ان بم دھماکوں کے کیسز حل نہیں ہوپارہے تھے۔ مہاراشٹرامالیگاؤں قبرستان بم بلاسٹ میں استعمال ہوئی موٹر بائیک جو تقریبا پوری طرح جل کر تباہ ہوچکی تھی اس کی چیسز نمبر سے موٹر بائک مالک کا نام، سادھوئی پرتگیہ سنگھ ٹھاکور سامنے جو آیا تھا اور چونکہ موٹر سائیکل مالک ایک ھندو وہ بھی سادھوئی ہونے کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا تھا، اس اللہ کے بندے ہیمنت کر کرے نے، اپنے طور سادھوئی پرتگیہ سنگھ کے فون ٹیپ کرتے ہوئے، اس نقطہ نظر سے جب تحقیقات شروع کی تو یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ چونکہ سابقہ تحقیقاتی انٹیلجنس افسران نے دانستہ اس بم بلاسٹ میں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرتے ہوئے، ان پر فرد جرم عائد کئے ہوئے تھے، اپنے کو ان بلاسٹ سے مکمل بچتا پانے کے بعد، سادھوئی پرتگیہ سنگھ ٹھاکور کے اپنے دہشت گرد آقاؤں کے درمیان ہوئی ریکارڈیڈ گفتگو سے،نہ صرف مالیگاؤں، بلکہ مکہ مسجد حیدر آباد، سمجھوتہ ایکسپریس ھند و پاک ریل گاڑی بم بلاسٹ کے پیچھے ھندو دہشت گردی کا مکروہ چہرہ کھل کر سامنے آگیا تھا۔آرایس ایس،بی جے پی کے سازشی اذہان خود کی ذیلی دہشت گرد تنظیم ابھینو بھارت کے ذریعہ سے دیش کے مختلف حصوں میں وقفہ وقفہ سے بم بلاسٹ کرواتے ہوئے، دیش بھر کے ہزاروں مسلم نوجوانوں پر، ان بم دھماکوں کے فرد جرم داخل کر،انہیں اپنے طور پھنساچکے تھے۔ اللہ ہی کی منشا، ممبئی اے ٹی ایس چیف شری ہیمنت کرکرے کی دور رس نگاہ نے، اور ایک سچے پکے ھندو ہوتے ہوئے بھی، انسانیت کے اس کے جذبہ نے، ھندو دہشت گردی کا یہ گھناونہ چہرہ عالم کے سامنے لاتے ہوئے، پورے دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کردیا تھا*

*یہ اور بات ہے کہ ھندو شدت پسند تنظیموں کی عیاریوں، سازشوں کے تحت9/11 ممبئی دہشت گردحملہ کے بہانے، دنیا کو ھندو دہشت گردی کے بھیانک چہرہ سےمتعارف کرانے والے، اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے کو، صدا کے لئے راستے سے ہٹاتے ہوئے، ان کی جگہ سنگھی تحقیقاتی آفیسران کو چارج دیتے ہوئے، نہ صرف دہشت گردی میں استعمال ہوئی موٹر بایک مالکہ سادھوئی پرتگیہ سنگھ ٹھاکور،بلکہ ریکارڈیڈ ٹیلیفونک ٹیپ کے اعتبار سے، اپنے اعلی سنگھی لیڈروں سے انیک مرتبہ ٹیلیفونک گفتگو دوران اپنا گناہ قبول کرچکی اور بعد حراست اپنے تمام دہشت گردانہ کاروائیوں کی اقبالی مجرم شریمتی سادھوئی پرتگیہ سنگھ ٹھاکور کو، ان سنگھی حکمرانوں نے، اپنے 6 سالہ سنگھی راج میں، نہ صرف ایک حد تک دہشت گردی کے تمام الزامات سے بری کرنے کی ناتمام کوشش کی تھی، بلکہ ھندو دہشت گردی کی اقبالی مجرمہ کو سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرتےہوئے، اسکے خلاف ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کر، اسے بے قصور ثابت کرنے کے جتن بھی کئے گئے، بلکہ سنگھی مودی حکومت کے دوسرے دور میں، اسے انتخاب میں کھڑا کر،ایک اقبالی مجرم دہشت گرد کو، اس چمنستان بھارت کے قانون ساز ایوان کا رکن بناتے ہوئے، قانون و عدلیہ کا مذاق تک اڑایا گیا تھا۔*
*سنگھی حکمرانوں نے قانون و عدلیہ کا مذاق اڑاتے ہوئے،ھندو دہشت گردی کی اقبالی مجرمہ کو ایک حد تک الزامات سے بری کردیا تھا لیکن کیا بھگوان ایشور نے سادھوئی پرتگیہ سنگھ ٹھاکور کو معاف کیا ہے؟ آج سادھوئی پرتگیہ سنگھ ٹھاکور ،گؤموتر پیتے ہوئے جس کینسر سے شفا یابی کا ڈھنڈھورا نیشنل ٹیلیویزن پر کیا کرتی تھی، آج اسی کینسر کی وجہ سےایک آنکھ کی مکمل آندھی تو دوسری آنکھ کی بھی معدوم ہوتی روشنی سے مکمل آندھی ہوتے ہوئے،صدا دوسروں کی محتاج بنی جیتے، تل تل مرنے پر مجبور ہیں۔واللہ الموافق بالتوفیق الا باللہ*

Leave A Reply

Your email address will not be published.