کوئی جرم نہیں کیا۔۔۔۔؟

0 18

ایم ودود ساجد

دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے دہلی حکومت کو اب کورونا سے نپٹنے کے بہانے پریشان کرنا شروع کردیا ہے۔ وہ بار بار ایسے فیصلے کردیتے ہیں کہ جن سے حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کی پریشانی بھی بڑھ جاتی ہے۔۔

میں نے ابھی دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کی ایک پریس بریفنگ سنی ہے۔۔۔ اس میں انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے اس تازہ فیصلہ کے خلاف ناگواری کا اظہار کیا ہے جس میں کورونا کے ہر مشتبہ مریض کو آئسولیشن سینٹر جاکر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔۔۔

میں اصولی طور پر اس معاملہ میں حکومت کے موقف کا حامی ہوں ۔۔۔ حکومت کہتی ہے کہ ایمبولینس پہلے ان مریضوں کو ہسپتال لے جائے جنہیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔۔ بجائے اس کے کہ انہیں لے جائے جن کی رپورٹ مثبت ہے مگر جن کے اندر بظاہر کوئی symptoms نہیں ہیں ۔۔۔

اس بریفنگ میں منیش سسودیا نے ایک دلچسپ بات کہی۔۔ انہوں نے کہا کہ جن کی رپورٹ مثبت ہے اور جن کے اندر بظاہر کوئی symptoms نہیں ہیں وہ اگر خود آئسولیشن سینٹر جاکر قطار میں نہ لگیں تو پولیس اور ایڈمنسٹریشن کے افسروں کے فون آنے لگتے ہیں ۔۔۔ اتنا کہہ کر انہوں نے سوال کیا کہ کیوں جائیں وہ لوگ آئسولیشن سینٹر؟ کیا انہوں نے کوئی جرم کیا ہے؟ انہیں کورونا ہوگیا ہے تو انہیں علاج اور ہمدردی کی ضرورت ہے یا پولیس کے ذریعے پریشان کئے جانے کی۔۔۔۔؟

مجھے خیال آیا کہ 28 مارچ کے بعد دہلی کے تبلیغی مرکز میں جو لوگ مقیم تھے ان کے ساتھ مجرموں جیسا ہی سلوک کیا گیا تھا۔۔۔ اس وقت میں نے ہی سوال کیا تھا کہ کیا ان سادہ لوح لوگوں نے کوئی جرم کیا ہے۔۔۔ لیکن اس وقت منیش سسودیا کے Boss اروند کجریوال نے ہی ہر روز کی بریفنگ میں باقاعدہ الگ الگ اعدادوشمار پیش کرکے 30 فیصد کورونا پھیلانے کا ذمہ دار انہی تبلیغی افراد کو قرار دیا تھا۔۔۔ اس وقت مودی حکومت کے ساتھ ساتھ خود کجریوال حکومت بھی اس طرح ان کا بہی کھاتہ پیش کرتی تھی کہ جیسے وہ مجرم ہوں ۔۔۔۔

یہی نہیں آئیسولیشن سینٹروں میں ان کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو جرائم پیشہ افراد کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔۔ ان میں سے بیشتر کی رپورٹ درست آئی۔۔۔ جو متاثر تھے وہ بھی جلد روبصحت ہوگئے تھے۔۔۔ ٹھیک ہوجانے والوں نے قطاروں میں لگ کر پلازمہ بھی دیا۔۔۔ آئیسولیشن کی مدت پوری ہوجانے کے بعد بھی ہفتوں تک انہیں اپنے گھروں کو جانے نہیں دیا گیا۔۔۔ اُس دوران مودی اور کجریوال حکومتوں نے ایک دوسرے سے بغل گیر ہوکر کام کیا۔۔۔

آج جب دونوں کو ایک دوسرے کے مدّ مقابل پاتا ہوں تو اس یقین میں اور پختگی آجاتی ہے کہ مکافات عمل کا مرحلہ بھی ضرور آتا ہے۔۔۔ بہر حال اس کے باوجود ہم لیفٹیننٹ گورنر کے "سیاسی انتقام” سے بھرپور اقدامات اور فیصلوں کی مذمت کرتے ہیں اور پہلے سے پریشان حال دہلی حکومت کو مزید پریشان کئے جانے کی ہرگز تائید نہیں کرتے۔۔۔ ہماری تہذیب ہم سے اسی کا مطالبہ کرتی ہے۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.