کیا اسدالدین اویسی بی جے پی کے ایجنٹ ہیں؟

0 429
 
         نقاش نائطی
      +966504960485
پارلیمنٹ میں جب بھی ٹرپل طلاق، مسلم پرسنل لاء، بابری مسجد یا سنگھی مودی راج میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھانے یا  مسلم دفاع کی بات کرنے کا موقع ہوتا ہے تو، چاہے ان چاہے تو بھارت بھر کے تمام مسلمان، چاہے وہ دیگر خود ساختہ سیکیولر پارٹیوں سے منسلک مودی بھگت یا آرایس ایس بھگت جیسے، کانگریس بھگت، لالو بھگت،ملائم سنگھ یادو بھگت،سی پی ایم بھگت اور مایاوتی بھگت ہی مسلمان کیوں نہ ہوں، ہر کسی کی نظر اس وقت اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی پر ہی ٹکی رہتی ہے کہ وہی اکیلا شیر خدا، اس امت میں باقی بچا ہے جو پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی، دشمن اسلام قاتل گجرات مودی امیت شاہ جیسوں کی پرواہ نہیں کرتے ہوئے، مسلم کاز  کے لئے پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی،بالکل ایسے ہی دھاڑتا ہے جیسے کسی مسلم علاقے کے ہزاروں کے مسلمانوں کے مجمع میں وہ ڈھاڑا کرتے ہیں
ایسے وقت جب پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے، جمیعت العلماء ھند کی طرف سے، کانگریسی نمائندگی کرنے والے علماء کرام تک،اپنی پارٹی کی پالیسیوں سے مجبور ہو کر، پارلیمنٹ میں چپی سادھ لیتے ہیں، تب پارلیمنٹ میں مسلم دفاع میں یا تو برادران وطن کی بہنیں بولتی پائی جائی ہیں یا پھر اسد الدین اویسی، تب بھارت کا ہر مکتب فکر کا مسلمان اویسی کی تعریف کرتا پایا جاتا ہے، لیکن جیسے ہی مرکزی انتخابات ہوں کہ کسی بھی صوبائی حکومتی انتخاب،اگر ان علاقوں کی نمائندگی کرنے کے نیک جذبے کے تحت، ایم آئی ایم ان علاقوں تک پہنچتی ہے تو، پھر اسی شیر خدا اسدالدین اویسی  میں، ہم نہاد مسلمانوں کو، بی جے پی کا ایجنٹ نظر آنے لگتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کیا ہم مسلمانوں نے کبھی سوچا ہے؟ آزادی بھارت کے بعد اس وقت کے ھندو مہاسبھائی، اور سردار پٹیل کی شکل میں کانگریس میں گھسے ان مہاسبھائیوں کے مسلم دشمن ایجنٹوں نے،اپنی مدد و آشیرواد کے بہانے سے،ہم بھارتیہ مسلمانوں کے دلوں سے، جہادی جذبہ، ایمانی قوت، جوش ولولہ کھرچ کھرچ کر نکالتے ہوئے، ان نام نہاد سیکیولر پارٹیوں کے رحم و کرم پر، ان کی طرف سے پھینکی ہوئی ایک آدھ سیٹ نما مسلم نمائندگی،جو کہ اصلا مسلم قوم کو بھیڑ بکریوں کی طرح ان نہاد سیکیولر پارٹیوں کے پلڑے میں، غلاموں کی طرح لا ڈالنے کے عوض انعام کے طور دی جاتی ہیں، ہم قوم مسلم اغیار کے انہی ٹکڑوں پر اکتفا کرتے  ہوئے،جینے پر ہمیں مجبور ہوچکے ہیں۔
ایک موقع پر اہل علم کے ایک بہت بڑے مجمع سے مخاطب ہوتے ہوئے، یوپی اعظم گڑھ کے سماج وادی لیڈر اعظم خان نے بہن مایاوتی کی سیاسی کامیابی کا راز بیان کرتے ہوئے کہا تھا۔ انکی دلت قوم بھی مایاوتی کی موقع پرستی، اسکی گھپلے بازی میں اربوں کے جائیداد بناتے ہوئے، دلت ہوتے ہوئے بھی،برہمنوں سے بھی شاہانہ انداز عیش و عشرت سےجینے اور ،صرف اور صرف اپنے مفاد کے لئے دلتوں کا استعمال واستحصال کرنے کے جذبہ کو جانتی اور سمجھتی ہے لیکن کسی اور ذات برادری کے ہاتھوں،استعمال ہونے اور استحصال کئے جانے کے بجائے، اپنی انانیت کی تسکین ہی کے لئےصحیح، اپنی ذات برادری والی بہن مایاوتی کے ہاتھوں استعمال ہونا اور استحصال کئے جانا برداشت کرتے ہوئے، پوری طاقت کے ساتھ، یوپی کی دلت برادری بہن مایاوتی کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ہمہ وقت، اس کی طاقت ور تر دلت رہنما بنائے ہوئے ہے۔
کیا ہم بھارتیہ مسلمانوں میں، اپنی مدد آپ کرنے کے جذبہ  ہی کے تحت،  اپنے مسلم لیڈروں سے، ایسے جذبات وابسطہ ہیں؟ یہاں سیاست میں دودھ کے دھلے فرشتہ صفت لیڈران تو کہیں نہیں پائے جائیں گے۔ جو ہم میں موجود ہیں، انہی میں سے ہمیں، کچھ کو ہماری صوبائی اور مرکزی نمائندگی کے لئے، ہمیں چننا ہے۔ ایک اکیلے اسد الدین اویسی ہی میں ،تمام خوبیاں ڈھونتے  بیٹھیں گے تو تا قیامت ہمیں کوئی مناسب لیڈر نہیں مل پائے گا اور ہم تھالی کے بیگن کی طرح مختلف نام نہاد سیکیولر پارٹیوں کے درمیان ہچکولے کھاتے ہی بدنام ورسوا  کبھی جیلوں میں تو کبھی ان نام نہاد سیکولر لیڈران کے دروازوں پر رسوا ہوتے پائے جائیں  گے۔
ایک حد تک شہر حیدر کے مسلمان اس لحاظ سے قابل مبارکباد ہیں، کہ اسدالدین اویسی ہو یا اکبرالدین اویسی یا اے آئی اہم آئی ایم پارٹی کی مقامی ایکائیوں سے ہزار اختلاف کے باوجود، چار مینار والی ایک پارلیمٹ سیٹ اور 6 ایک اسمبلی سیٹوں پر آنکھ بند کئے، آے آئی ایم آئی کا ساتھ دیتے ہوئے، اتنے سالوں سے انہیں جیت سے ہمکنار کرنے کی ہی وجہ سے،اسد الدین اویسی، بھارت بھر کے مسلمانوں کی فکر اپنے گلو میں لئے، بڑی ہی شان کے ساتھ پورے ملک میں سر اٹھاکر چلتے پھرتے ہیں۔ یہ تو اچھا ہوا مہاراشٹر مالیگاؤں کے مسلمانوں نے ایک حد تک اسدالدین اویسی پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں سے کچھ اسمبلی اور میونسپل سیٹوں پر ایم آئی ایم  کی نمائندگی میں انہیں ساتھ دیا۔ کوئی ان  مالیگاؤں علاقوں کے مسلمانوں سے جاکر پوچھے کہ اسد بھائی نے کبھی انہیں دھوکا دیا یا انکے معیار پر کھڑے اترے بھی ہیں یا نہیں؟ گذشتہ بہار انتخاب میں، بہار ہی کے سب سے پس ماندہ  سیمانچل علاقے سے،اسد بھائی نے اپنی قسمت آزمانی چاہی تھی، ایک حد تک سیمانچل کے مسلمانوں نے بی جے پی کے ڈر ہی سے اسد بھائی کو نکارتے ہوئے، اس وقت کی نام نہاد سیکیولر جے ڈی یو نتیش کمار کی پارٹی کو ووٹ دیا تھا، نام نہاد سیکیولر نتیش کمار ہی، سیمانچل کے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر اور اپنے سیکیولر ووٹروں کو دغا دیتے ہوئے، خود سنگھیوں سے بغلگیر ہوگئے تھے
یوپی کے ملائم سنگھ یادو،جنہیں مسلم قربت کے لحاظ سے، مولوی ملائم سنگھ تک کہا جاتا تھا،جب اسکے بھائیوں نے، پریوار  واد کے چلتے انکے بیٹے اکلیش یادو کے خلاف، درپردہ بی جے پی سے ساز گانٹھ کرتے ہوئے، یوپی میں اکلیش یادو کے خلاف سیاسی محاذ کھڑا کیا تھا تو سنگھی حکومت کو  اقتدار سے دور رکھنے،کیا اعظم خان سیسہ پلائی دیوار کی طرح اکلیش کے ساتھ کھڑے نہیں پائے گئے تھے؟ آج جب یوگی سنگھی راج میں، یہ ان پڑھ مودی یوگی سنگھی حکمران، مسلمانوں کو اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے، اعظم خان کے ذریعہ سے، عالمی معیار کی، محمد علی جوھر یونیورسٹی کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھ کر، اپنے اقتدار کے زعم میں صرف اور صرف اپنی مسلم دشمنی سے مسلم قوم کو خائف بنائے رکھنے کے جذبہ کے تحت، ایک وقت کے ڈیپیوٹی چیف منسٹر یوپی، اعظم خان جیسے سینیر لیڈر کو، انکی بیوی بیٹے کے ہمراہ اس کورونا قہر کہرام پس منظر باوجود، رمضان المبارک  کے پاک و پوتر مہینے میں بھی،جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑنے جب چھوڑ دیا تو اس مصیبت کے وقت میں یوپی کا سیکیولر علمبرداری کا شہزادہ  اکلیش یادو کہاں غائب ہوگیا ہے؟ کیا ایسے مصیبت کے وقت اعظم خان کی مدد کرنا نام نہاد سیکیولر اکلیش کے لئے  ضروری نہیں تھا؟ کیا اعظم خان کے لئے اکلیش  یادو اپنے لال رنگی ٹوپی جھنڈے والی یوپی یوا پیڑھی کے ساتھ سڑکوں پر اتر جاتے، تو کیا یوگی جی کو یہ ہمت کبھی ہوتی کہ وہ اعظم خان کو مع پوری فیملی کے ساتھ اس کورونا کال میں بھی، وہ بھی رمضان المبارک کے پاک مہینے میں جیل میں سڑنے چھوڑا جاتا؟ آخر اعظم خان کا قصور کیا تھا؟ کیا انہوں نے ہم مسلمانوں کی اعلی تعلیم کے لئے آزادی ھند کے مایا ناز مسلم لیڈر، جنہوں نے آزادی بند کے لئے، اس فرنگی دور حکومت میں، برطانیہ میں منعقد گول میز کانفرنس میں، آزادی ھند کی آواز اٹھاتے ہوئے یہ تک کہنے کی جرآت کی تھی کہ بغیر آزادی ملے میں اس غلام بھارت میں زندہ واپس جانا نہیں چاہتا۔اور  مشیت ایزدی کہ وہیں مولانا محمد علی جوھر عارضہ قلب سے انتقال کر گئے تھے۔مانا کہ اتنی عالی شان عالمی معیار کی انگریزی تعلیمی یونیورسٹی کے قیام دوران، کچھ حد تک بے ضابطگیاں ہوئی ہونگی۔ آج کے دور حکومت میں ایسی بے ضابطگیاں کس سے سرزد نہیں ہوتیں۔ کیا اس کورونا قہر کہرام کی روک تھام کے لئے دیش واسیوں کے دئیے ہزاروں کروڑ کے، پی ایم کیر فنڈ میں، بے ضابطگیاں نہیں ہوئی ہیں؟ کیا اس پی ایم کیر فنڈ سے گجراتی سنگھی برہمن پونجی پتی کی  معرفت، گجرات احمد آباد ہاسپٹل میں، نقلی وینٹیلیٹر خریداری خرد بعد نہیں ہوئی ہے؟ پھر  اعظم خان  ہی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑنے آخر کیوں چھوڑا گیا ہے؟ اعظم خان کو بچانے کی ہم مسلمانوں کو بھلے ہی فکر نہ ہو، انہیں بچانے اکلیش یادو سامنے کیوں نہیں آرہے ہیں؟ انکے اپنے چاچاؤں کی مخالفت کے باوجود نوجوان اکلیش  کو بھارت کے سب سے بڑے صوبہ یوپی کا چیف منسٹر بنائے جانے کا اکلیش جی کو احساس تک نہیں ہے کیا؟
دہلی فساد کس نے اور کس مقصد کے تحت کروائے؟ کیا اس کا ادراک ہم مسلمانوں کے چہیتے، نام نہاد سیکیولر ھیرو لیڈر کیجریوال کو کیا نہیں ہے؟پھر کیوں قاتل گجرات سنگھی مودی امیت شاہ کے اشارے پر، دہلی پولیس کے ہاتھوں،”آپ” پارٹی کونسلر، مسلم طاہر حسین کو، دہلی فساد کا بلی کا بکرا بنائے جانے پر، نام نہاد سیکیولر مسلم چہیتے کیجریوال خاموش کیوں ہیں؟ طاہر حسین کو بچانے اور سنگھی سازش کا شکار بن، دہلی میں ہلاک و برباد ہوئے مسلمانوں کو انصاف ملنے کی امید چھوڑئیے، دہلی اقتدار ملنے کے بعد، نام نہاد سیکیولر رہنما کیجریوال کی، قاتل گجرات امیت شاہ سے قربت، قاتل دہلی فساد زدگان کو بچانے میں کیجریوال کا رول کچھ اہم لگنے لگا ہے۔ یہی تو خاصہ ہے ان نام نہاد سیکیولر لیڈروں کا اپنے مفاد کے لئے یہ مسلمانوں کو قریب  تو کرتے ہیں اور اقتدار ملنے کے بعد سالن سے کڑی پتے کو نکال پھینکے جیسا، پھینک دیتے ہیں۔ اسی لئے ان سیکیولر پارٹیوں کو تو ہم نے آزادی بھارت کے ان ستر سالوں میں بخوبی دیکھ لیا ہے۔اب کیوں نہ ان سیکولر پارٹیوں کو تو نہ چھوڑیں، لیکن اپنے میں اسدالدین اویسی جیسے مخلص مسلم لیڈروں کو پہلے فوقیت دیں ، جہاں جہاں اسدالدین اویسی جیسے مخلص لیڈران کے نمائیندے کھڑے ہیں وہاں اپنے ذاتی تمام اختلافات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے، اپنے تمام تر ووٹوں سے انہیں جیت سے ہمکنار کروائیں اور جہاں جہاں اسدالدین اویسی جیسے مخلص لیڈران نہیں لڑ رہے ہیں،وہاں وہاں بھی، کسی بھی سیکولر پارٹی سے اپنی وفاداری کو پس پشت رکھتے ہوئے، باہم ملی اتفاق کے ذریعہ سنگھی امیدوار کو ہرانے لائق کسی بھی پارٹی کے خود ساختہ امیدوار ہی کو، بھلے ہی وہ برادران وطن میں سے کوئی، آزاد امیدوار ہی کیوں نہ الیکشن لڑ رہا ہو، اسے کامیاب بناتے ہوئے فسطائی سنگھی طاقتوں کو مات دینے کی کوشش کرنا ہمارا فرض منصبی ہے۔کوشش کرنا ہمارا ملی تقاضا ہے باقی مشیت ایزدی، وہ جو ہم مسلمانوں کے لئے مناسب سمجھے ،اسے اقتدار سونپ دیگا۔ ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہےگجراتی مسلمانوں کا یہ قاتل جوڑا، مسلم دشمنی کی اپنی تمام تر سازشوں کے باوجود، وہ ہم مسلمانوں کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ہمارا محافظ تو رب رحیم مالک دوجہاں ہے۔اس کے مکر و چالاکی کی سامنے ان سنگھیوں کا مکر و فریب لا معنی ہے۔
تین چار سال قبل گجرات صوبائی انتخاب میں،کانگریس  دلت گٹھ جوڑ ، ان سنگھئوں کو انکے اپنے گڑھ میں زبردست ٹکر دے رہا تھا۔دلت مسلم کانگریس قربت گجرات اسمبلی انتخاب کو آسان بنانے ہوئے تھی۔لیکن ہم مسلمانوں ہی کے مکمل ساتھ سے کئی مرتبہ یوپی کی چیف منسٹر بنی،نام نہادبہن مایاوتی نے، اس وقت، سی بی آئی بلیک میلنگ ڈر ہی سے کیوں نہ ہو، سنگھی مودی امیت شاہ کے اشارے ہی پر، گجرات اسمبلی کے موقع پر یوپی سے دور گجرات میں، صرف اور صرف دلت ووٹوں کو توڑتے ہوئے، سنگھیوں کی جیت آسان کرنے کے لئے، گجرات اسمبلی کی 182 سیٹوں میں سے 142 پر اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے، کانگریس دلت گٹھ جوڑ ،دلت نوجوان لیڈر جگنیش تک کے خلاف اپنے دلت امیدوار،میدان میں اتارتے ہوئے، اسے ہرانے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت گجرات اسمبلی کی 12 سیٹوں پر بہن مایاوتی کے ووٹ کاٹنے کی وجہ سے، کانگریس ان بارہ  سیٹوں پرسنگھی امیدواروں سے ہارتے ہوئے، صرف اور صرف نام نہاد سیکیولر بہن مایاوتی کی وجہ سے  گجرات صوبائی حکومت بنانے سے رہ گئی تھی۔ اگر اس وقت بہن مایاوتی اپنے امیدوار گجرات انتخاب کھڑے کرنے کے بجائے، کانگریس دلت مسلم گٹھ جوڑ کو، اپنی حالت پر بھی چھوڑ دیتی تواس وقت گجرات صوبائی انتخاب سنگھی مودی بی جے ہارتے ہوئے، اپنی خراب ارتھ ویستھا نوٹ بندی جی دیش ٹی کے واسطے سے  2019 مرکزی انتخاب ہارتے ہوئے،اب تک ٹوٹ کر، بکھر کر، ختم بھی ہوچکے ہوتے۔ اس وقت گجرات اسمبلی میں بی جے پی صرف 99 سیٹوں پر کامیاب ہو پائی تھی، جس میں سے 12 سیٹیں جو اس نے مایاوتی کے سیکیولر ووٹ کاٹنے سے جیتے تھے اگر ان 12 سیٹوں پر بی جے ہار جاتی تو اپنی 87  اسمبلی سیٹ، 90 سے3 کم اکثریت سے پیچھے رہتے ہوئے، اپنے ہی سنگھی گڑھ گجرات سے اس وقت بی جے پی باہر  یوچکی ہوتی
ہار جیت تو مقدر کا کھیل ہے،ہمارے اپنے نام نہاد سیکیولر بہن مایاوتی اور نام نہاد سیکیولر بہاری بابو نتیش کمار، کیا سنگھیوں کی گود میں چلے نہیں گئے، اس لئے کون جیتتا ہے یا کون ہارتا ہے؟ اس کی فکر سے اوپر اٹھتے ہوئے، اپنے شاندار مستقبل کے لئے، اپنے سے مخلص لیڈشب کو اپنی تمام تر کوششوں سے جیت سے ہمکنار کرنے کی کوشش کی جانی چاہئیے۔گذشتہ بہار الیکشن میں تو ہم مسلمانوں نے،اسد بھائی پر نام نہاد سیکولر نتیش بابو کو فوقیت دے کر دیکھ لیا، اب کی بار  بہار انتخاب میں اسدالدین اویسی نے جتنے بھی امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔انہیں اپنے تمام تر مسلم ووٹوں سے جیتاتے ہوئے، بہار صوبائی انتخاب سے سنگھیوں کا صفایا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ بہار کے زیرک سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والی مسلم  قیادت، مختلف سیکیولر سیاسی پارٹیوں سے اپنی وفاداری کے باوجود، ایک روشن سیاسی مستقبل کی خاطر، اب کی بار،  بہار انتخاب میں اپنے قیمتی ووٹوں سے اسدالدین اویسی کو ملک گیر سطح کا مسلم لیڈر بنانا ہے۔ وما علینا الا البلاغ

Leave A Reply

Your email address will not be published.