غزل

0 133

 

بتوں کو وہ خدا کعبہ کو بھی بت خانہ لکھ دیگا
جو بک جائے قلم تو ہوش کو دیوانہ لکھ دیگا

یہاں مظلوم کو ہوگی سزا کیوں قتل ہوتا ہے
پیالہ زہر کا دیکر اسے پیمانہ لکھ دیگا

مسلماں ہو تمہارے قتل کو کافی ہے بس اتنا
یہ حاکم ہر گواہی کو تری افسانہ لکھ دیگا

تڑپ کو دیکھ کر میری قمر یہ مجھسے کہتا ہے
ہجر میں جس کے مرتا ہے وہی بیگانہ لکھ دیگا

رہیگا صبح تک روشن اگر دیوانگی ہو تو
جو خواہش ان سے پوچھو گے تو وہ پروانہ لکھ دیگا

چرا کر مال لوگوں کا اگر دیدو صحافی کو
تری تعریف یوں ہوگی کہ تجھکو دانا لکھ دیگا

سنا ہے غم غلط ہوتا ہے مے سے تو کبھی تم بھی
مگر حسان واعظ تو تمہیں میخانہ لکھ دیگا

حسان جاذب

Leave A Reply

Your email address will not be published.