مفتی سعید احمد پالنپوری کی رحلت اہل علم طبقہ کے لئے بڑا خسارہ ہے

0 23

 

سیف الاسلام مدنی!
اس دار فانی میں روز اول سے ہی بے شمار لوگ آئیں ہے اور کتنے ہی نفوس گردش زمانہ کے ساتھ زندگی کو گزار کر، حالات کے نشیب و فراز سے آشنا ہوکر زیر سایہ افلاک آرام فرما ہوگئے اور ہمیشہ کی نیند کی سوگئے، دنیائے فانی میں کسی کو بقاء نہیں انجام آخر قضاء ہے جو مومن کے لئے تحفہ لایزال ہے،

بے شمار آئے اور چلے گئے نہ کسی لب پر انکا تذکرہ ہے اور ہی زندگی کے کارنامے سپرد قرطاس، لیکن یقینی طور پر بعض نفوس وہ ہیں جنہوں نے اپنے علم و عمل کردار، کے ذریعہ دنیائے انسانی پر اپنے نقش مرتسم کئے ہیں، اور لاکھوں دلوں پر حکمرانی کی ہے جنکی زندگی کا مقصد اشاعت اسلام اور احکام اسلام کی پاسداری رہا ہے، جب وہ وقت موعود پر اس دنیا سے اپنے اعمال حسنہ کی جزا پانے اپنے رب کے حضور تشریف لے جاتے ہیں، تو دنیا میں انکا نام بھی زندہ رہتا ہے انکا کردار بھی زندہ رہتا ہے اور انکی کاوشیں بھی زندہ رہتی ہیں اور وہ عرصہ پر محیط دورانیہ تک لوگوں کے دلوں میں زندہ و جاوید رہتے ہیں،

ایسے ہی ایک یکتائے زمانہ در فرید گوہر نایاب مفسر قرآن جناب مفتی سعید احمد پالنپوری ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کچھ اس انداز سے گزاری ہے کہ لوگوں کے لئے باعث افتخار رہیں گے اور ایک جہاں کے تشنہ لب انکے چھوڑے ہوئے سمندر سے اپنی پیاس بجھاتے رہینگے، انکا ہمارے درمیان سے رخصت ہونا باعث قلق ہے وہ حسن اخلاق کی تصویر اور اسلام کے بڑے عالم تھے آپ نے عرصہ داراز تک دارالعلوم دیوبند میں علم حدیث کی تدریس کے ذریعہ، لاکھوں تشنگان علوم نبوت کی پیاس بجھائی ہے، دنیا بھر میں پھیلے ہوئے، انکے شاگرد، دین اسلام کی آبیاری کررہے ہیں، یوں تو آپ محتاج تعارف نہیں اہل علم طبقہ، آپکو خوب جانتا ہے، بر صغیر کے اندر اہل علم میں آپ محتاج تعارف نہیں، آپ کا مقام مسلم ہے،

آپ نے علم حدیث،کی تدریس کے ساتھ مختلف فنون پر کتابیں لکھی، جس میں بعض کتابیں علم حدیث سے متعلق ہیں اور بعض علم تفسیر سے، بعض دیگر موضوعات پر، آپ کی مشہور کتابیں،ہیں
مبادیات فقہ
آپ فتویٰ کیسے دیں
حرمت مصاہرت
داڑھی اور انبیا کی سنت
تحشیہ امدادالفتاوی
کیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے؟
تسہیل ادلہ کاملہ
مشاہیر محدثین وفقہا کرام اور تذکرہ روایان کتب
تفسیر ہدایت القرآن
آسان نحو (دو حصے )
آسان صرف (دو حصے)
آسان منطق
مبادی الفلسفہ (عربی)
معین الفلسفہ
العون الکبیر ( حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب ‘‘ الفوز الکبیر ‘‘کی مفصل (عربی شرح)
فیض المنعم ( شرح مقدمہ صحیح مسلم)
تحفتہ القاری شرح بخاری
تحفتہ الالمعی شرح ترمذی
رحمتہ اللہ الواسعہ شرح حجتہ اللہ البالغہ
اسکے علاوہ بھی کئی علمی کتابیں موجود ہیں جو آنے والی نسل کے لئے، قیمتی ہے
موصوف کا انداز، درس نہایت مقبول اور عام فہم ہوتا ہے، اسی طرح آپ کی تمام تصانیف نہایت آسان، عام فہم اور مقبول عام و خاص ہیں، آپ کی تقریریں نہایت مبسوط، اور علمی نکات سے پر، اور تحریریں نہایت مرتب، واضح اور جامع ہوتی تھیں!
ہم اللہ سے دعاء گو ہیں کہ مولانا موصوف کو بہترین اجر عطافرمائے
اور اپنی شایان شان اجر عطافرمائے، اور دارالعلوم کو آپکا نعم البدل نصیب فرمائے، آمین!

Leave A Reply

Your email address will not be published.