ملک بھر کے پرواسی مزدوروں کی موت کا ذمہ دار کون؟

0 104

 

                   نقاش نائطی
           +966504960485
آتما نربھر بھارت ریفورمس کے 20 لاکھ کروڑ کے لالی پاپ قرضہ جات اسکیمیں اور پی ایم کیر کورونا فنڈ میں میں، عظیم پریم جی سمیت دیش کے ہزاروں لوگوں کے چندے میں دئیے، ہزاروں لاکھوں کروڑ عطیہ جات کے، پبلک محاسبہ سے سنگھی حکومت کا انکار
اڑیسہ کے امبالا سے یوپی کے پیلی بھیت 452 کلو میٹر کا لمبا سفر، تپتی سورج کی کرنیں اور آگ اگلتی شاہراؤں پر بچھی تارکول، پھر بھی اسے کسی صورت، اپنے آبائی گاؤں، اس سنگھی حکومتی ان دیکھی،بغیر نام والی، بھیانک ایمرجنسی سے کم، بہت کم سختی والی، 77کی ایمرجنسی  کے، اس وقت کے سب سے طاقت ور سیاست دان یا کہ ابن سیاستدان، سنجے گاندھی اور بی جے پی سنگھی سانسد منیکا گاندھی کے سنگھی سانسد فرزند ارجمند، ورون گاندھی کے پیلی بھیت گاؤں،کسی صورت اسے پہنچنا تھا۔ اسکے کاندھے پر کپڑے میں لپٹی اسکے لاڈلے بیٹے کی میت، گھٹری کی شکل وہ اٹھائے چلا جارہا  تھا۔اس کے بڑھاپے کا سہارا اسکا اپنا لاڈلابیٹا،گو اس کی طبیعت اسے ساتھ لئے، پیدل 452 کلومیٹر سفر چلنے کی نہ تھی لیکن مجبوری تھی،سنگھی آمر حکمران مودی جی کے اچانک اعلان کردہ لاک ڈاؤن سے، اس کی روزانہ اجرتی کمائی ایک طرف بند ہوچکی تھی، تو وہیں پر بیوی بچوں کے پیٹ کی بھوک مٹانے کی ذمہ داری بھی اس پر تھی، مودی سنگھی حکومت کے، راحت کاری کے تمام تر اعلانات،2014 عام انتخاب قبل کئے، ہر بھارتی کے بنک ایکاؤنٹ میں  15 لاکھ روپیہ جمع کئے جانے والے اعلان جیسے، سراب مانند ثابت ہو رہے تھے۔پرواسی مزدوروں کی راحت کاری جیسے انیک حکومتی اعلانات کے تحت،سرکاری خزانہ سے نکلنے والے ہزاروں کروڑ، حکومتی طور پر خرچ تو ہو رہے تھے لیکن غریب بھارتیہ عوام کے دست و منھ میں کوئی نوالہ نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ ایسے میں وہ پردیش کی صعوبتیں کیسے برداشت کرتا؟ وہ اکیلا رہتا تو ایسے ویسے بھوکے پیٹ کی بلبلاہٹ کو برداشت کر،جی ہی لیتا؟ لیکن معصوم بچے اور اسکی ماں کو کیا کھلاتا؟
اس بھارت دیش و اسکے صوبہ اترپردیش پر حکومت کررہی مودی یوگی حکومت ،بیروں ملک کے پرواسی مزدوروں کو، کروڑوں خرچ کر، انہیں بھارت لارہی تھی لیکن بھارت ہی کے مختلف صوبوں میں اپنی روزی روٹی کماتے ہوئے، اس ترقی پذیر بھارت کے ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مست، کروڑوں غریب مزدوروں کی فکر اس سنگھی حکومت کو کہاں رہتی؟ ایسے میں بیمار بیٹے کو کندھے پر سوار کئے،وہ اپنی بیوی اور گاؤں والوں کے ساتھ اڑیسہ کے امبالا شہر سے یوپی کے پیلی بھیت 452 کلومیٹر کا لمبا سفر پیدل ہی طہ کرتے، اپنے آبائی گاؤں پہنچنے کی دھن میں چلا جارہا تھا، بغیر کھائے نقاہت، اور دوا دارو کے بغیر اتنے لمبے سفر کی ہچکولے کی تاب، شاید معصوم بیٹا نہ لاسکا اور اسکے ہاتھوں تڑپتے ہوئے، اس نے جان دے دی۔ وہ غریب کر بھی کیا سکتا تھا؟ اسکے لاچار ہاتھوں اسکے اپنے معصوم بیمار بیٹے کی موت پر وہ چیخ چیخ رو بھی نہیں سکتا تھا، سر راہ انجان جگہ پر، اپنے بیٹے کا آنتم سنسکار کرتے ہوئے، مقامی حکام کی نظروں آتے ہوئے، انجان گاؤں میں مقامی حکومتی کارکنوں کے ظلم وستم کا نشانہ بن، 14 دن کی کورنٹائین جیل کی صعوببتیں برداشت کرنے کی،اس میں ہمت باقی نہ رہی تھی۔ اپنے لاڈلے کے بےجان پارتو شریر کو، انجان جگہ گڑھا کھود دفن کرنے کی وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اس کے پاس اس کے سوا اور چارہ ہی نہ تھآ،کہ اپنے لاڈلے کے مردہ جسم کو گھٹری کی شکل باندھ کر، کندھے پر اٹھائے، تیز تیز قدم چلتے، روتے دل و دماغ کے ساتھ، تقریبا دوڑتے اپنے گاؤں اپنے دیہات اپنوں کے بیچ پہنچے اور اسکا انتم سنسکار کرے۔ اسی لئے تو وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر تیز تیز چلے  جا رہا تھا،  اسے نہ کھانے کی فکر تھی نہ پانی پینے کی فکر تھی۔ہاں البتہ راستے میں کئی جگہ سماجی خدمت گار کھانا پانی دیتے ملتے تھے۔ ان پرواسی مزدوروں کی مدد کرتے پائے گئے تھے اس سے انہوں نے بہت سارے سوال بھی کئے تھے۔ اسے تو بس ایک ہی فکر  تھی۔ اسکے لاڈلے کی وفات کا کسی کو علم نہ ہو،ورنہ مقامی پرشاسن کے 14 دن کی کورنٹائین سزا ،اسکے بارے میں سوچ سوچ کر، وہ آدھ مرا ہوا جارہا تھا۔ اس نے ہزار منع کیا تھا اس مددگار کو، جس نے اسے کچھ کھانا اور 500 روپے دئے تھےکہ اس کا فوٹو نہ نکالے اور اس کے بیٹے کی موت کی خبر عام نہ کرے،  لیکن قدرت کو،ان سنگھی حکمرانوں کی، بے حسی کو طشت از بام کرنا جو تھا، اس لئے اس کے ہزار منع کرنے کے باوجود اسکی مدد کو آگے آئے دست ہی ، اس کی وبال جان بن گئے تھے
بھارت کا سب سے بڑے رقبہ والا، اور سب سے زیادہ پرواسی مزدوروں سے بھارت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والے صوبہ اترپردیش، اور اس پر حکومت کررہی اپنے مذہب کی بھگوا دھاری، سنیاسی یوگی مہاراج کی ھندوسنگھی حکومت، انکے آدھ مرے چھیتڑوں کو نوچ کھاتے پائی گئی ہے۔خود سے پرواسی مزدوروں کو دوسرے صوبوں سے بس وریل کا انتظام کر، انہیں انکے گاؤں دیہات پہنچوانے کا انتظام کروانے کے بجائے، ان پیدل آرہے ہزاروں مزدوروں کو، راستے میں کھانا پانی کا انتظام کر، وقتی سکون مہیا کرنے کے بجائے، اپنے اللہ بھگوان کو اس رمضان مہینے میں خوش کرنے اور اسکی رضا حاصل  کرنے ہی کے لئے، راستے میں ہر ہر گاؤں دیہات شہروں کے مسلمان،یوپی بہار کے ان پیدل سفر کررہے پرواسی مزدوروں کو، کم از کم کھانا پانی دیتے ہوئے پنیہ کما رہے تھے۔ لیکن یوگی مہاراج کے اس فرمان شاہی نے، کہ پیدل سفر کررہے ان پرواسی مزدوروں کے، پیدل سفر کرنے ہی پر پابندی عائد کرتے ہوئے، راستے میں انہیں کھانا پانی تقسیم کرنے والے رضاکاروں پر ایک طرف جہاں پابندی عائد کردی ہے، وہیں پر یوپی کی سرحد پر پولیس حکام کی چھتر چھایہ میں، غیر قانونی ٹرک ڈرائیور ان پرواسی مزدوروں سے، کچھ سو ٹکٹ کی جگہ پر، ہزاروں لوٹتے ہوئے، انہیں انکے گاؤں دیہات پہنچوانے کے بہانے سے ان پریشان حال پرواسی مزدوروں سے، کئی کئی ہزار لوٹ رہے ہیں۔گویا پہلے سے تباہ حال، ہزاروں کلو میٹر کا پیدل سفر کر یوپی کی سرحد تک پہنچنے والے، ان بدحال مزدوروں کو، یوپی کی سرحد میں  پیدل سفر کرنے سےمناہی کا قانوں پاس کر، ان بدحال پرواسی مزدوروں ہی سے پرائیویٹ ٹرک ڈرائیوروں کو درمیان ڈال کر، انہیں لوٹا جارہا ہے۔ یہ ٹرک ڈرائیور ان پرواسی مزدوروں سے یوپی سرحد سے ان کے گاؤں چھوڑنے کے لئے ٹرک بھر بھر انہیں لیجا کر، ہر ٹرپ پر لاکھ لاکھ روپے کما رہے ہیں جس میں ایک حصہ یوپی پرشاسن کو بھی مل رہا ہے۔ ابھی  یوپی کے اوریہ   میں ٹرک حادثہ میں مرنے والے یہی وہ بدحال 24 پرواسی مزدور تھے جو ایسے ہی غیر قانونی ٹرک سے سفر کررہے تھے۔مہاراشٹر اورنگ آباد ریل پٹری پر تھکے ماندے سوئے ، ریل مالگاڑی کے نیچے کٹ کر مرے، 26 مزدور بھی شمال ھند کے پرواسی مزدور ہی تھے
 دیش کے بڑے سیاست دان، وہ بھی سنگھی برہمن ہوں تو ان کی دانستہ خامیاں، لغزشین بھی ادائے دلبربا قرار دی جاتی ہیں۔سنگھی برہمن بکاؤ میڈیا، اسے حسن دلفریز قرار دیتے، رائی کو پہاڑ ثابت کرتے، ان سے سرزد ہر غلطی و لغزش کو انکے حسیں کارناموں کی شکل پیش کرتے ہوئے،انہیں بھگوان مانند پیش کیا کرتی ہے۔
نومبر اواخر کورونا وبا نے، چائینئز صنعتی شہر ہوہانگ میں دستک دی تھی۔ 11 جنوری میں پہلی موت قبول کی گئی تھی، وسط جنوری چائینئز ایک ماہ کی عام سالانہ تعطیل سے بیرون چائینا اس سقم نے اپنے پاؤں پسارنے شروع کر دئیے تھے۔ اٹلی اسپیں امریکہ سمیت بہت سے یورپی ممالک فروری تک اس نام نہاد وبا سے کراہنے لگے تھے۔اختتام جنوری سے قبل یہ متعدی مرض، اٹلی کے ہمارے مہمانان، "اتھیتھی دیوا بھوا” کے ذریعہ سے، بھارت میں بھی دستک دے چکاتھا، سعودی عرب سے لوٹے،76 سالہ کلبرگی کرناٹک کے پہلے کورونا مریض کی موت 13 مارچ کو منظر عام پرآچکی تھی۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت نے مارچ کے پہلے ہفتہ میں، اس کورونا متعدی وبا کے قہر سے بھارت سمیت اقوام عالم کو متنبہ کردیا تھا۔لیکن ہمارے 56″سینے والے مہا شکتی سالی نازی  سنگھی ویر لیڈر مودی جی کو، عالم کے سب سے مہا شکتی سالی امریکی صدر ٹرمپ مہاراج اور ان کے ہزاروں حفاظتی دستے کو بھارت بلاتے ہوئے، اپنی مہانتا درشا، دہلی قلعہ فتح کرنا جو تھا، اسی لئے وار فوٹنگ طرز پر، گجرات احمد آباد موٹورا اسٹیڈیم تعمیر کروا، دیش بھر سے سوا لاکھ گجراتی تاجر برادری کو، گجرات بلوا، نمستے ٹرمپ  اپنی طاقت درشانا جو تھا۔بھلے ہی، ہزاروں کا ٹرمپ کا حفاظتی عملہ، اپنے ساتھ لائے کورونا وبا کو، موٹورا اسٹیڈیم میں شریک ہزاروں گجراتیوں کے واسطے سے،دیش بھر میں، خصوصا مایانگری ممبئی میں کورونا وبا پھیلائی گئی تھی۔اسی لئے تو گجرات احمد آباد جو کورونا سقم کا بھارتی ہوہانگ شہر بنا ہوا ہے،موٹورا اسٹیڈیم نمستے ٹرمپ فنکشن  میں شریک ہزاروں گجراتیوں کے اس وبا کو ممبئی منتقل کرتے تناظر میں،ممبئی پردیش سب سے زیادہ کورونا وبا کا متاثر صوبہ بن چکا ہے۔ ٹرمپ مہاراج اور اسکا ہزاروں کا حفاظتی دستہ، آگرہ اور دہلی کی گلیوں کو روندتے ہوئے،وہاں وہاں کورونا سقم قہر بپا کروانے میں ممد رہا ہے۔اس پر طرہ یہ کہ مدھیہ پردیش عوامی منتخب کانگریس سرکار کو،اپنی سنگھی ریشہ دوانیوں سے، پلٹتے ہوئے،مدھیہ پردیش میں کنول کھلوانے میں مست، سنگھی مرکزی حکومت، عالم میں اپنے قہر کہرام کے پنجے گاڑتے، کورونا متعدی وباتناظرباوجود، مارچ تیسرے ہفتہ تک، پارلیمنٹ سیشن جاری رکھے ہوئے تھی۔ مدھیہ پردیش آپریشن کنول کی مکمل کامیابی تیقن بعد، 22 مارچ شام 5 بجے شکرانے  کے طور، کورونا دیوتا کے لئے،تالی اور تھالی دیش بھر میں بجوانے کا سنگھی فرمان جاری ہوا،دیش بھر عوام کے حکم آوری تالی تھالی بجانے سے، موگامبو مہاراج اتنے خوش ہوئے،کہ بغیر تیاری کے ہی 137 کروڑ کی دنیا کی سب سے بڑی جمہورئیت پر سنگھی  ہٹلر شاہی نازی فرمان، 21دن کی،اپنے اپنے گھر،  قید بامشقت، لاک ڈاؤن کرفیو نما سزا کا فرمان جاری کردیا گیا۔ اپنے اپنے گاؤں دیہات سے ہزاروں کلومیٹر دور مختلف شہروں میں،یومیہ اجرت پر، مصروف معاش 60 فیصد غریب پروازی مزدوروں پر مشتمل، یہ کثیر الابادی والا ملک بھارت،اس پر گذشتہ 6 سال سے حکومت کررہے سنگھی حکمران ،انکے اچانک کرفیو نما لاک ڈاؤن سے دیش بھر میں مصروف معاش کروڑوں پرواسی مزدوروں کو ہونے والی ممکنہ تکلیف سے ماورا، جب تک انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا تیر تو کمان سے نکل چکا تھا، اپنا رعب جھاڑتے نمستے ٹرمپ فنکشن،اور اقوام متحدہ کے کورونا سقم متعدی وبا اعلان کرنے کے بعد، فروی مہینے میں ہی  بیرون بھارت سے ھند تشریف لائے  1640 تبلیغیوں کے مقابلہ 10 لاکھ 14 ہزار 953 افراد جملہ 10،16،593 بند آئے افراد، جس میں سے بیشتر کورونا مرض کے ساتھ غیر ممالک سے بھارت تشریف لائے، تمام مسافرین کو، ملکی ایرپورٹس پر، بغیر صحت عامہ، جانچ کئے، بھارت میں داخل ہونے دینے کی اپنی فاش غلطی کو چھپانے،دیش پر گذشتہ 6 سال سے اپنی ارتھ ویستھا ناکام حکومت چلا رہے،سنگھی مودی  بریگیڈ نے،صرف اور صرف اپنی فاش غلطی سے دیش واسیوں کی نظریں ہٹانے کے لئے،اپنے سائبر میڈیا سنگھی سیل اور برہمنی بکاؤ میڈیا کے توسط سے، 24/7ہمہ وقت نشر ہونے والی لائیو نشریات سے، اس کورونا مہاماری کو بھی تبلیغی جماعت کے بہانے، مسلم مخالف نفرت پھیلانے میں،سنگھی حکومتی  پوری توجہ مبذول کرائی گئی
اس پس منظر میں صرف 4 گھنٹہ کی مہلت سے پورے دیش میں کرفیو نما 21 دن کا لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے، مختلف شہروں میں پھنسے ان کروڑوں پرواسی مزدوروں کو وقت پر کھانا پانی پہنچوانے کا انتظام نہ کرتے ہوئے، صرف کورونا مہاماری کا ڈر بتا کر،  پردیش میں بغیر روزگار زبردستی قید کرواتے ہوئے، انہیں پیدل ہی ہزاروں کلومیٹر کا سفر طہ کر اپنے اپنے گاؤں دیہات پہنچنے ہر مجبور کرنے والے، پس منظر میں، پیدل سفر کررہے ان پرواسی مزدوروں میں سے دو چار سو مزدور دیش بھر میں جو مرگئیے ہیں ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ باقاعدہ  سنگھی امیت شاہ والی وزارت داخلہ سے اجازت لیکر 1640 ودیشی تبلیغیوں کے بھارت آئے ہس منظر میں، دیش بھر میں کورونا پھیلانے کا مجرم قرار دے، اپنے برہمنی بکاؤ الکٹرونک  میڈیا پر گلے پھاڑ پھاڑ کر تبلیغی جماعت سربراہ مولانا سعد کو، دیش دروھ اور غدار وطن،بھگوڑا مجرم قرار دینے والے میڈیا اینکر، کئی سو ان پرواسی   مزدوروں کے بے وقت مرنے پر،137 کروڑ دیش واسیوں پر بغیر تیاری کرفیو نما 21 دن کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے والے  مہان مودی جی پر،، ان ہرواسی مزدوروں کے قتل کا الزام کیوں نہیں لگاتے ہیں؟ کیا اس چمنستان بھارت سے انصاف آٹھ چکا ہے؟ کیا ان کئی سو پرواسی مزدوروں کو قبل ازوقت موت کے سلسلے میں انصاف نہیں ملیگا؟ مولانا سعد کو ان کے ناکردہ گناہ کے لئے دار ہر لٹکانے کی خواہش رکھنے والے سنگھی میڈیا کرمیوں کو،ان پرواسی مزدوروں کےمرنے کی کوئی فکر نہیں ہے؟آخر ان۔کئی سو پرواسی مزدوروں کا قاتل کون ہے؟  وما علینا الا البلاغ

Leave A Reply

Your email address will not be published.