ٹھوکرکھاکرنہ سنبھلنے والوں کاخدا ہی حافظ 

0 155

۔ ﷽

ٹھوکرکھاکرنہ سنبھلنے والوں کاخدا ہی حافظ

نقاش نائطی
+966504960485

*ویسے تو یہ کہانی بالکل ہی معمولی ہے، لاڈلے کمسن بیٹے کے دوست جو آجکل اپنے والدین کے ہمراہ، عرب کی کھاڑی کا مکین مستقل ہے، اسکی طرف سے، یوم ولادت پر آئے، زبان عربی کے اسکے مطبوعہ تہنیتی پیغام کے, راز و اسرار کو جاننے کی بے تابی, اور اپنے لاڈلے کی بے تابی کو دور کرنے کی خاطر، ہم میں پائی جانے والی بے چینی،ہمیں عربی مترجم مولوی ملا کے درتک لیجاتی ہے لیکن ہم نہاد پیدائشی مسلمانوں کے، رٹے رٹائے سال میں کم از کم ایک، خصوصا رمضان المبارک کی متبرک ساعات میں ایک دو ختم پورا کرتے اور پنچ گانہ نمازوں میں، مختلف سورات قرآنی کو, ہمہ وقت طوطے کی طرح رٹنے کے باوجود، مالک کائنات کی طرف سے 1400سال قبل عطا کئے، اپنی روز مرہ کی زندگانی سے تعلق خاص و ہدایات پانے والے کم و بیش 6 ہزار پیغامات الہی سے نابلد، انجان کورے رہنے کی، اپنی بے بسی پر، ہمیں کبھی افسوس نہیں ہوا کرتا ہے*
*بعض وقت معمولی ذرات بھی جان لیوا کرب دے جاتے ہیں۔ہلکا بالکل ہی ہلکا غیر معمولی سوئی کی نوک سے بھی چھوٹا تنکا، جب ہماری آنکھوں میں چلا جاتا ہے تو آنکھوں کو مستقل رگڑتے ہمارے دست و چشم، ہماری بے چینی اور لال آنکھیں ماجراء حال سب پر عیاں کرنے کے لئے کافی ہوتی ہیں۔آس پاس والے ہمارے اپنے، علم عرفان سے بھی نابلد،کہ غازی علم وعرفان، وقت حال، ماہر ڈاکٹر و صلاح کار بنے، اپنی اپنی آرا لئے ہماری مدد کے لئے لپکتے دیکھ کر، ایک گونا سکون تو ملتا ہے، لیکن اس کی سنیں کہ کس کی سنیں کہ، ہمارے چشم کی تکلیف میں افاقہ کے اور بڑھوتری ہی ہوئی پائی جاتی ہے*

*تین چار پانچ دہوں پر مشتمل، تنگ دست کہ خوشحال زندگانی کے اختتام پر،بعد الموت ہزاروں سال والی ایک لمبی،تنگ وتاریک قبر و برزخ کی زندگانی و محشر بعد والی تا ابد اپنی زندگانی کو، دوزخ کی تپش و جلن سے محفوظ رکھنے اور جنت کے ہزارہا نعمتوں سے صدا لطف اندور رہنے کی چاہ و ٹڑپ بھی،اپنے معشیتی تک و دو میں، مختلف الصوبائی کہ مختلف الملکی زبانوں کے ماہر بننے والے ہم، ذکی و عقل مند انسانوں کو بھی، ما قبل مرگ، عربی زبان سیکھنے کی تڑپ سے صدا ماورا و انجان رکھے رکھتا ہے۔ مختلف تفاسیر و مفاہم والے قرآن کریم کو پڑھتے اور اس پر تدبر کرتے دنیوی گھتیوں کو حل کرتے،دین محمدی سے ناآشنا کفار و مشرکین کی سعی کے پس منظر میں، تف ہے ہماری لاعلمی عربی زبان پر،یا زبان قرآنی سے ماورائت پر*

*ابھی اس موجودہ کوروناقہر کہرام تناظر میں، چشم کشا انسانی کو بھی، دکھائی نہ دینے والے، معمولی جرثومہ نے،اپنی استعداد متعدی کی قہر برپائی سے،وقت کے جابر تر، یہود وہنود و نصاری نازی حکمرانوں اور انکی اعلی تعلیم یافتہ، تمدنی ترقی یافتہ افواج، مختبرگاہ کہ رسدگاہ تک کو، حیران و پریشان محو حیرت و مضطرب و مضمحل رکھے ہوئے ہے۔ شمس و قمر پر تک اپنی رسگاہیں تعمیرکرنے والے یا اسکا خواب سجائے، مسلسل جہد سے، تابکاری کے معمولی ذرات کو بھی، لمحوں کی تباہی و بربادی بناتے، انسانی بستیوں میں، ہیرو شما، ناگاساکی کی قیامت صغری بپا کرنے والے،اپنی تسکین انارکی کی خاطر، کمزور مسلم ملکوں پر، اپنے آہنی توپ خانوں، دور مار میزائل خانوں سے چڑھائی کر، لاکھوں معصوم سویلین مرد و زن مسلمان مرد وزن پر مشتمل انسانیت تک کو موت کی نیند سلانے والے، جابر صلیبی حکمران، ایک معمولی جرثومے کے ہاتھوں،اپنے لاکھوں شہریوں کو، لاچارگی، بے بسی کی موت مرتے دیکھنے پر مجبور ہیں۔اور کل کے دجال و ہٹلر صفت جابر صیہونی حکمرانوں کو، ایک معمولی کورونا جرثومہ کے سامنے، بے بس و بے کس، تڑپتا دیکھ کر، عالم بھر کے 700 کروڑ،عام انسان محضوظ ہورہے ہیں۔ یہی تو دنیا کا دستور ہے ہر جابر و ظالم کا باپ ہوا کرتا ہے ۔ ظالم و جابر،ان صیہونی حکمرانوں کو کوئی ان سے بھی بڑا جابر و ظالم دشمن، ان کے مد مقابل،انہیں چیلنج کرتا سامنے آئے تو،انہیں ایک گونا سکون تو ملے۔میدان حرب بدر میں، کفار کے سب سے بڑے سردار ابوجہل کو مرنے کے غم سے زیادہ، معصوم مسلم بچوں کے ہاتھوں زخمی ہوتے،مرنے کا ملال تھا،کچھ اسی طرز، تمدنی ترقی پذیر عالمی قوتوں کو، ان کے مدمقابل، طاقتور تر سے مارے جانے کا اتنا غم وحزن نہ ہوتا،لیکن اب تو وہ،کھلی آنکھوں سے تک نہ دیکھے جانے والے، ایک معمولی، کورونا جرثومہ کے ہاتھوں، لاکھوں کی تعداد میں اپنوں کے تڑپتے، مرنے کامنظر، بے بسی سے دیکھنے پر مجبور ہیں۔یہی انکی ستم ظریفی ہے، کہ کل کے طاقتور تر جابر حکمران، قدرت کے بنائے کمزور تر جرثومہ، کےہاتھوں، لاکھوں کی تعداد میں ہلاک ہوتے، پس منظر میں بھی، اپنے بچاؤ میں، کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی ہے مادیئت کی ترقی پذیری کی معراج اور قدرت کے انہیں سبق سکھانے کا یہ انداز، جسے پورا عالم دیکھے جارہا ہے*

*حضرت آدم کے دنیا پر قدم رکھنے کے بعد سے، مختلف ادوار میں، مختلف قوموں میں، مالک دو جہاں کی طرف سے، مختلف اسقام کے عذاب آتے رہے ہیں یا زمین کو پلٹ کر، یا پتھروں کی بارش سے، پوری پوری بستیوں کو تاراج کر، مالک دو جہاں اپنی قہارئیت و جبارئیت کے مظاہروں سے حضرت انسان کو وقت وقت سے متنبہ کرتے آئے ہیں، لیکن آسمانی عذاب مختلف علاقوں،مختلف بستیوں ہی پر آیا کرتے تھے پورا عالم متاثر نہیں ہوا کرتا تھا۔ ہاں البتہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں طوفان نوح نے، پورے عالم کو غرقاب کر متاثر کیا تھا۔ پتہ نہیں آج سے کتنے ہزار سال قبل طوفان نوح نے پورے عالم کو،پانی میں ڈبوتے ہوئے، سر زمین پر اجتماعی عبادات کو وقتی طور معدوم کردیا تھا۔ لیکن ڈوبتے تباہ ہوتے عالم کا مشاہدہ کرتے، کشتی نوح میں تو، بارگاہ ایزدی میں، باہم اجتماعی حمد و ثناء ہو رہی ہوتی تھی۔ لیکن غالبا آج کے اس زمانہ کے یہ چند ماہ، اس اعتبار سے، بعد حضرت آدم علیہ السلام، تاریخ کے اوراق میں، ایسے آزمایشی رقمطراز کئے جائیں گے کہ پورے عالم میں آجتماعی عبادات موقوف کردی گئی ہوں۔حرمین شریفین میں کچھ وقت کے لئے عبادات پہلے بھی موقوف ہوتی رہی تھیں، لیکن پورے عالم کے تمام تر عبادگاہوں میں، اتنے لمبے عرصے تک، ہم انسانوں کو، وہ بھی رمضان المبارک کے،ایسے بابرکت لمحات میں بھی، پورے عالم کے ہم مسلمانوں کو،ایک ساتھ اپنی مساجد والی اجتماعی عبادات سے محروم رکھا گیا ہو، ایسا حضرت آدم علیہ کے دور سے،اب تک نہیں دیکھا گیا ہوگا*

*ہمیں یاد پڑتا ہے، غالبا امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے، نیند کی غفلت میں ایک بار صبح کی نماز قضا کیا ہوتی ہے، پورا دن،اپنی غفلت پر، بارگاہ ایزدی میں آہ و زاری کا سلسلہ جاری رہتا ہے،تھکے ہارے رات گئے بستر پر دراز ہوتے ہیں کہ وقت اذان آنکھ نہیں کھل پاتی، صبح کی ایک نماز قضا پر، دن بھر کی آہ و زاری سے پریشان، شیطان رجیم خود، انہیں نیند سے بیدار کرنے پہنچ جاتا ہے۔ یہ ہوتے تھے ہمارے اسلاف کے اعمال، کہ شیطان رجیم بھی انہیں احکام ربانی کی۔یاد دہانی کے لئے، اٹھانے پہنچ جاتا تھا۔*

*بشمول حرم مکی مدنی و قبلہ اول کے، پورے عالم کی مساجدمیں اجتماعی عبادات سے امتناع اور وہ بھی رمضان کی مبارک ساعات والی اجتماعی تراویح، قیام اللیل کی رقت آمیز تلاوت قرآنی و سسکیوں سے لبریز اجتماعی دعا، نیز دنیا بھر کی مساجد میں اعتکاف کی آہ و زاریاں، اور اپنے اپنے علاقے کے تمام مسلمان، تونگر کہ مفلس،خاندانی رتبہ و مرتبہ والا ہو یا نچلی سے نچلی ذات کا کلمہ گو مسلمان، محمود وایاز بنے، سب نماز عید بعد بغلگیر ہو ملنا، برادران وطن کے ساتھ شیر خورمہ، ساتھ نوش فرمانا، ان تمام حسین لمحات سے ماورا، پورے عالم کی انسانیت کو، ایسے کیا جینا پڑا تھا ماضی قریب یا بعید میں؟ تراویح و نماز عید ،مانا کہ نفل و سنن ہیں، لیکن جمعہ کو تو عید المومنین کہا گیا ہے اور اتنے لمبے عرصہ تک پورےعالم کے مسلمانوں سے، اپنی اجتماعیت درشاتے،فرض جمعہ تک سے، محروم رکھا جانا، ہم مسلمین پر، یہ عذاب الہی نہیں تو اورکیا ہے؟ اور ہم مسلمان ہیں کہ اپنی کوتاہیوں و رحمان و رحیم کی طرف سے، کن امور پر، ہماری آزمائش پکڑ ہورہی ہے اس کا ادراک حاصل کرنے کی سعی تک،دنیا کے کسی خطہ میں گئی ہو۔*

*ویسے تو عالم کی کل آبادی، ساڑھے سات ہزار کروڑ میں کم و بیش 24% ایک ہزارنوسو کروڑ ہم مسلمان،دنیا کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں، جس میں سے 18 سے 20% فیصد شیعہ مسلمانوں کو چھوڑ کر، تقریبا دیڑھ ہزار کروڑ،دعویداران جنت، سب سنی مسلمان ہیں۔لیکن ہم ڈیڑھ کروڑ سنی مسلمانوں میں صحیح العقیدہ اللہ کے رسول ﷺ و صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے اسلوب پر چلنے والے،اہل سلف کے دین پر پوری طرح عمل ہیرا کتنے مومنین باقی رہتے ہیں۔ کیا اس پر بھی ہم مسلمین نے کبھی غور کیا ہے*
*ماقبل رسالت کے چالیس لمبے سال،اپنے حسن اخلاق ،حسن معاملت سے،کردار سازی کا ایسا بہترین نمونہ پیش کیا گیا کہ دوست تو دوست، دشمن اسلام بھی آپ کے امیں و صادق ہونے کے ضامن پائے جاتے تھے۔ 10 سالہ مکی زندگی تو امتحانی ادوار میں بھی، ذاتی طورایمان کی مضبوطی کی کوشش کی جاتی رہی۔مدنی زندگی کے 13 سال میں مختلف مہمات غزوات کے لئے آپﷺ کے دو سال مدینہ سے باہر گزرے۔ الغرض 23 سالہ نبوی زندگی میں،اعمال کی محنت جتنی کی گئی،اس سے زیادہ،شرک و وبدعات سے بچنے کی تربیت دی جاتی رہی ۔یہاں تک اس سلسلہ کی روایت، عن جابر بن عبدالله رضي الله عنهما، "أن النبي صلى الله علیہ وسلم كان يقول في خطبته”،جو پورے عالم کے ہم مسلمان، اپنے جمعہ خطبہ میں،  ہر ہفتہ جو سنتے ہیں، "فإن خير الحديث كتاب الله، وخير الهديِ هديُ محمد، وشر الأمور محدَثاتها، وكل بدعة ضلالة”رواه مسلم*
*ترجمہ:-"سب سے بہترین کلام اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہترین طریقہ محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ بدترین کلام دین میں اضافہ ہےاور دین میں اضافہ بدعت ہے اور بر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہ جہنم میں جائےگا*
*حجة الوداع کے موقع پر،ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو، گواہ بناکر،آپ ﷺ کا، حکم آلہی کی تعمیل میں،دین کے پورے احکام کو، صحابہ کے واسطے سے تاقیامت آنے والے ہم مسلمین تک، پہنچائے جانے کا اقرار کروانا، کیا معنی و مطلب رکھتا ہے؟ ابھی کچھ دہوں پہلے تک، ہم تک پہنچی کسی بھی حدیث کو حدیث صحیح ہونے یا ضعیف و موضوع ہونے کو پوچھنے یا جرح کرنے کے لئے، فنانین علماء کرام یا محدیثین سے رجوع ہونا پڑتا تھا،لیکن الحمد للہ فی زمانہ جدت پسند علماء کرام و محدثین کرام کی محنت و کاوشوں کے ثمرے میں، قرآن مجید کی مختلف تفاسیر وتراجم، احادیث صحیحہ کے مختلف محدثیں کے کتب آسان متلاشی جدول کے ساتھ، گوگل پر ہمہ وقت موجود ہیں۔ اور کسی بھی انسان کی انگلیوں کی ذرا سی جنبش، کسی بھی موضوع پر،احکام قرآنی و ہدایات احادیث، لحظوں میں ہمارے لئے چشم کشا کیا کرتے ہیں۔ ایسے تمدنی ترقی پذیر زمانے میں بھی، ہم صحیح احکام قرآنی و ہدایات احادیث کے سامنے رہتے، اپنے باپ دادا سے چلتے آئے دینی احکام یا اپنے مکتبہ فکر کے علماء کرام کے اقوال ہی پر، عمل پیرا رہنے کو ترجیح دیتے ہوئے، دین حنیف کے برخلاف،پورے عالم کے ہم مسلمان، شرک و وبدعات میں غرق، کفار کی طریقت یا اسکے بمثل اعمال پر عمل پیرا پائے جاتے ہیں۔ تو ایسے میں مالک دو جہاں اپنی صفت، رحمن و رحیم سے ماورا، اپنا وصف جبار و قہار سے، ہم پر آزمایشوں کے پہاڑ توڑتے پائے نہ جائیں تو فی زمانہ، ہم مسلمانان عالم میں پائے جانے والے شرک وبدعات و شیعیت رافضیت کے خرافات میں غرقان، ہم مسلمانوں کی کثرت تعداد سے متاثر ہو، ہمیں ہمہ وقت نوازتے کیا ہم اپنے رب کو صدا پائیں گے؟نہیں بالکل نہیں ہمارا رب کریم جہاں رحمن و رحیم بھی ہے وہیں اس نے اپنے جبار وقہار والے اوصاف سے ہمیں نہ صرف باخبر،بلکہ متنبہ بھی کئے ہوئے ہے*

*ابھی کورونا متعدی وبا پس منظر میں،پوری انسانیت کو، اس سے آمان میں رکھنے ہی کے لئے، ہمیں اپنی مسجدوں اور رمضان المبارک کی اجتماعی عبادات سے،ان دنیوی اسلام دشمن حکمرانوں کے ذریعہ سے محروم جو رکھا گیا ہے، کیا ہم میں اتنی ہمت و طاقت ہے کہ، ہم اپنے پیدا کرنے والے خالق و مالک دو جہاں کی عبادات پر،عمل آوری ہی کے لئے، ان حکمرانوں کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی جسارت پاتے ہیں؟ نہیں بالکل نہیں، ان وقتی اسلام دشمن حکام سے بیر لینے کے بجائے، صدا سے کرتے آئے، بندگی خالق کائنات ہی سےہم اپنی ماورائیت کے لئے، ہزار تاویلات ہزار بہانے ڈھونڈ لاتے پائے جاتے ہیں۔تو پھر کیوں کر، احکام قرآنی کے واسطے سے یا اللہ کے رسول محمد مصطفی ﷺ کے عمل کر بتائے دین حنیف کہ دین اہل سلف،اصحاب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے طریقہ پر، عمل پیرا ہونے کی سعی کرتے کیوں نہیں پائے جاتے؟ سمندر کے جھاگ بمثل، شرک و وبدعات میں غرق ، کثرت تعداد والی نام نہاد مسلمانی، خالق کائنات کو مطلوب تھی کہ اس کے احکام قرآنی و اسوہ محمد مصطفی ﷺ پر عمل پیرا، قلت تعداد والی مومنین کی ٹولی کافی تھی؟ ہمیں لگتا ہے اس جدت پسند تعلیمی ترقی پذیری والی اس دنیا میں، خالق کائینات کے تخلیق کئے، چشم کشا سے تک نہ دیکھے جانے والےمعمولی کورونا جرثومہ کی، ایک قسم ہی سے ڈرے سہمے عالم کی ساڑھے سات ہزار کروڑ انسانیت، سابقہ دو مہینوں سے،اپنے اپنے گھروں، قریوں، گاؤں، شہروں، اورملکوں میں مقید جینے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں اپنی سابقہ لغزشوں سےتوبہ استغفار کر، اپنے اعمال شرک وبدعات سے رجوع کر،دین محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم کی عملی زندگی پر، جب تک پلٹ کر نہیں آئیں گے، ہمیں ایسے دشمنان اسلام کے اشاروں پر، اپنی اجتماعی عبادات سے ماورا ذلیل و رسوا ہوتے ہی جینا پڑیگا۔*
*یہاں کسی مفکر کے اس قول کو یاد رکھتے ہوئے کہ، نجار یا بڑھئی پیشے والے نبی کے ماننے والے یہود اور چرواہا پیشہ والے نبی کے ماننے والے نصاری تو ،ہم مسلمانوں پر اتاری گئی، رب کائینات کے احکام والی کتاب، قرآن مجید کی، پہلی آیت قرآنی کے دوسرے حصہ، "خلق الانسان من علق” پر تدبر و تفکر کر، آج امامت عالم کے دعویدار بن بیٹھے ہیں۔اور ہم،اپنے آبا و اجداد کے آٹھ سو سال تک،تقریبا پورے عالم پر حکمرانی کئے اور ابھی سو سال قبل تک دنیا کے ایک بڑے حصہ پر حکومت کرتے آئے،آج کے ہم، نام نہاد مسلمان، اپنے دشمنوں سے بھی، اپنے حسن اخلاق سے، آمین و صادق لقب پانے والے، اپنے آپ کو، معلم یا استاد پیشے والا کہنے والے، خاتم الانبیاء سرورکونین محمد مصطفی کے ہم امتی، آج پوری انسانیت میں، حد درجہ بے ایمان، ایک دوسرے کو دھوکہ دینے والے،مفاد پرست، بے اوصول، تعلیمی استعداد میں بھی اور اقوام کے مقابلے سب سے پیچھے رہنے والے، ذلالت و رسوائی والی زندگانی جینے پر مجبور، اپنی اور اپنی آل کی پرورش کی فکر میں غرق، بس جئے جارہے ہیں۔اگر اس کورونا پس منظر بعد بھی، ہم نہ سنبھلے، اور شرک وبدعات والے طرز حیات سے، دین حنیف کی طرف نہ پلٹے،تو یقینا ہمیں، ابھی اور کفار و مشرکین کے قدموں کی دھول میں ہی اپنا مقدر تلاشتے ذلالت و رسوائی والی زندگانی جینتے رہنا پڑیگا۔ وما علینا الا البلاغ*

Leave A Reply

Your email address will not be published.