کچھ باتیں میری ورق نمبر 1

0 92

 

میں بچپن سے ہی خود کو اکیلا محسوس کیا اور ابھی بھی اکیلا محسوس کرتا ہوں پڑھنے لکھنے کی خواہش مجھے شروع سے ہی تھی عمر گزتی رہی طرح طرح کے لوگ ملتے رہے اور اپنے درد کو ہمیشہ اپنے قلم سے کاغذ پہ پروتا رہا اور دھرے دھرے وقت نے مجھے شاعر بنا دیا پھر اس کے بعد اپنے گزشتہ کل کو کبھی غزل کبھی نظم کبھی قطعہ کبھی گیت میں باندھتا رہا میرے حالات نے مجھے چھوٹی سی عمر میں ہی ایسے ایسے سبق دے رکھی تھی کہ میں ہمیشہ پچین رہتا تھا اور اسی بیچینی کے سبب میں شاعری بھی کرتا رہا اسکے بعد ہمارے کلام دیش ویدیش شائع ہوتے رہے اور مجھے لوگ پڑھ کر کہ دعائیں دیتے رہے انہیں لوگوں کی دعا اور اچھی گفتگو سے زندگی کے کچھ پل کو میں ہنس کر جی لیتا تھا

حال میری مفلسی کا جب عیاں ہو جائے گا
وہ یقیاً اک نہ اک دن بدگماں ہو جائے گا
سادگی نے تیری بخشی ہے مجھے دیوانگی
کیا خبر تھی درد مجھ پر مہرباں ہو جائے گا

چھوٹی چھوٹی خوشی میں خود کو رکھ کر جی نے کی امید کرتا رہا لوگوں کی نظر ہم ایک صاحبِ دیوان تھے مگر اپنوں کہ لیے ہم کچھ بھی نہیں تھے کبھی خود سے کبھی اپنے قلم کبھی کتابوں سے بس یہی پوچھتا رہا کے میں کون ہوں میں یہ کیا کر رہا ہوں کیا مجھے آنے والی نسل پہچانے گی کیا مجھے پہ غور و فکر کرے گی کے میں صرف اپنی سانسوں میں ہی سمٹ کر رہ جاؤں گا کہ میں مرنےکے بعد بھی زندہ رہوں گا

رکھی ہوئ کتاب ہے ارؔشد کے سامنے
مجمعہء کلام کہ دیوان کچھ تو ہے

میں قابل ہونے کے بعد بھی خود کو چھوٹا سمجھتا تھا اپنے دشمنوں کے تنقیدوں میں میں مشہور رہتا تھا وجہ یہ تھی کہ میرے پاس مالو ذر نہیں تھا قلم تھا صلاحيت تھی تعلیم بھی بھی مگر محبت نہیں تھی جس کی بدولت میں کچھ کر نہیں سکتا اور ابھی تک میں کچھ ایسا ہی ہوں خیر جو اللہ کو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے

شئیر کرتے رہیں

از قلم ارؔشد دیوان برہمپوری
رابطہ نمبر 9264161866

Leave A Reply

Your email address will not be published.