مبطلات روزہ سے مکمل اجتناب کیجئے

0 48

 

 

مفتی نظرالاسلام قاسمی الظہیری ۔۔مدرسہ نورالعلوم ۔موریٹھا ۔دربھنگہ___ 9608720882
_________________________
مذہب اسلام میں روزہ بھی پانچ ستونوں میں سے ایک ستون ہے جس پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت سے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔(1) اس بات پر گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔(2) نماز قائم کرنا ۔(3) زکوٰۃ دینا ۔(4) رمضان شریف کے روزے رکھنا ۔(5) قدرت ہونے پر بیت اللہ کا حج کرنا ۔روزہ کی فرضیت کتاب اللہ احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور اس کو بلا عذر ترک کرنے والا سخت کنہگار اور فاسق ہے ۔جو لوگ بلاعذر روزہ ترک کرتے ہیں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ا س بددعا سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ جان بوجھ کر روزہ چھوڑ نے کا کتنا بھیانک نتیجہ ہے ۔کعب بن عجرہ راوی ہیں ۔۔۔قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ”احضروا المنبر“، فحضرنا، فلما ارتقى درجة قال: ”آمين“، فلما ارتقى الدرجة الثانية قال: ”آمين“، فلما ارتقى الدرجة الثالثة قال: آمين، فلمنزل قلنا: يا رسول الله، لقد سمعنا منك اليوم شيئا ما كنا نسمعه، قال : إن جبريل عليه الصلاة والسلام عرض لي، فقال: بعدا لمن أدرك رمضان فلم يغفرله، قلت : آمين، فلما رقيت الثالثة قال : بعدا لمن ذكرت عنده فلم يصل عليك قلت آمين، فلما رقيت الثالثة قال : بعدا لمن أدرك أبواه الكبر عنده أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة، قلت : آمين . ۔۔
کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ منبر کے قریب ہوجاؤ ہم لوگ حاضر ہوگئے جب حضور نے منبر کے پہلے درجہ پر قدم رکھا تو فرمایا آمین جب دوسرے پر قدم رکھا تو فرمایا آمین جب تیسرے پر قدم رکھا تو فرمایا آمین ۔جب آپ خطبہ سے فارغ ہوکر نیچے اترے تو ہم نے عرض کیا کہ ہم نے آج اپ سے منبر پر چڑھتے ہوئے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس وقت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے جب پہلے درجہ پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان شریف کا مقدس ومعظم مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی جب میں دوسرے پر قدم رکھا تو اس نے کہا ہلاک ہو وہ شخص کہ آپ کا ذکر چلے اور درود نہ بھیجے تو میں نے کہا آمین جب تیسرے پر چڑھا تو کہا ہلاک ہو وہ شخص جس نے والدین کو پایا اور جنت کا مستحق نہ بن سکا ۔بہرحال حدیث شریف میں جس پہلے شخص کا تذکرہ آیا ہے وہ یہ کہ لوگوں کو سید الشہور حاصل ہوں اور یونہی گنوا دے یعنی رمضان شریف جیسا خیروبرکت والا عظیم مہینہ بھی غفلت اور معاصی میں گذاردے اور جس شخص سے اتنا عظیم مہینہ بھی اس طرح سے نکل جائے کہ اس کی کوتاہیوں کی وجہ سے مغفرت سے محروم رہے تو پھر اس کی ہلاکت میں کیا تامل ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنے روزہ کو لیکر فکر کریں کہ کیا ہم کو جو تمام مہینوں کا سردار حاصل ہواہے جسے رمضان شریف کہا جاتا اور جتنی بھی فضیلتیں اس ماہ مبارک کی ہیں ہم اپنے روزے کے بدولت اس فضیلت کا حقدار بن بھی رہے ہیں یا یونہی دن گذاری ہے ۔ہر شخص اپنے روزہ کولیکر متفکر ہوں اور ہاں روزہ کی فضیلت جتنی بھی کتاب اللہ احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہیں وہ سب اپنی جگہ برحق ہے ان سب کا نہ تو آج تک کسی نے انکار کیا ہے اور نہ کوئی ماں ایسا بچہ جنم سکتی ہے جس میں یہ جرآت ہو کہ انکار کر بیٹھے ۔لیکن یہ بات بھی متفق علیہ ہے کہ اگر روزہ رکھ کر مبطلات روزہ سے اجتناب نہیں کیاگیا تو پھر وہ روزہ قابل قبول نہیں ہے اس لئے ہم ہر لمحہ مبطلات روزہ سے دور بھاگیں ۔ہمارے اکابرین کا حال تو یوں تھا کہ رمضان شریف کا مہینہ جب گذار لیتے تو پھر چھ چھ مہینہ تک اللہ سے اسکی قبولیت کی دعا مانگنے میں لگ جاتے مبطلات روزہ کے بارے میں تفصیلی طور پر لکھنے کی گنجائش تو نہیں ہے البتہ اجمالی طور پہ کچھ گوشوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے ۔روزہ داروں کو جہاں اور بھی مفسدات سے اجتناب کرنی چاہئے وہاں اتم درجہ میں زبان پر کنٹرول ہونی چاہیئے روزہ کی حالت میں زبان کی حفاظت بہت بڑی چیز ہے جھوٹ چغلخوری لغو بکواس بد گوئی بد کلامی جھگڑا وغیرہ سب اسی میں داخل ہے بخاری شریف کی روایت ہے کہ روزہ آدمی کے لئے ڈھال ہے اس لئے ہر وقت ہر لمحہ روزہ داروں کو چاہئے کے زبان سے کوئی غلط بات یا بیوقوفی کی بات نہ نکالے ہنسی مذاق جھگڑا وغیرہ سے پرہیز رہے حتی کہ اگر کوئی دوسرا شخص بھی ان سب چیزوں کے کرنے پر آمادہ کرے تو ان سے یہ کہ دے میں روزہ سے ہوں بالخصوص غیبت سے بھت ہی احتراز ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ بعض مشائخ کے ہاں اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے غیبت کتنا بڑا سنگین اور بھیانک گناہ ہے ۔۔زرا دربار رسالت مآب میں پیش آمد واقعات سے اندازہ لگا ئیں ۔معمول مطابق آپ صلی الله عليه وسلم ۔مسجد نبوی میں تشریف فرما ہیں ۔محلہ سے ایک عورت آتی ہے مسئلہ دریافت کرنے اما عائشہ صدیقہ رضی عنہا ۔کھڑی سے دیکھتی رہتی ہیں وہ آنے والی عورت جب واپس ہونے لگتی ہے تو اماں عائشہ صدیقہ باہر آتی ہیں اور آپ ص ۔سے مخاطب ہوکر کہنے لگتی ہے یا رسول اللہ یہ جو عورت آتی تھی چھوٹے قد کی ہے ناٹی ۔۔۔بھٹیا ہے ۔۔اتنا سننا تھا کہ آپ صلی الله عليه وسلم کا چہرہ انور سرخ ہوگیا اماں عائشہ صدیقہ سمجھ گئ آپ ناراض ہوگئے ۔۔۔فداک امی وابیک یارسول اللہ ۔۔۔مجھ سے کیا غلطی ہو گئی مجھے باخبر کریں نبی صلی الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ تم نے ابھی اس وقت اتنی بڑی غلطی کی ہے اور اتنا سنگین جرم کیا ہے کے اس جرم کے سزا میں اگر میں تم کو دریا میں پھینک دوں تو دریا کے پانی کارنگ کالا ہو جائے گا ۔۔الله اکبر ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دوعورتوں نے روزہ رکھا بحالت روزہ اس شدت سے بھوک لگی کہ ناقابل برداشت بن گئی اور موت کے قریب جا پہنچی صحابہ کرام رضی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو حضور نے ایک پیالہ ان کے پاس بھیجا اور ان دونوں کو اس میں قے کرنے کا حکم فرمایا جب دونوں نے قے کی تو اس میں گوشت کے ٹکرے اور تازہ کھایا ہوا خون نکلا لوگوں کو حیرت ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انہوں نے حق تعالیٰ شانہ کی حلال روزی سے تو روزہ رکھا اور حرام چیزوں کو کھا یا کہ دونوں لوگوں کی غیبت کرتی رہیں ۔اس لئے بحالت روزہ غیبت سے بہت ہی زیادہ احتراز کرنی چاہئے اور جس طرح روزے کے ظاہری آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان سب چیزوں سے اجتناب کیا جائے جن سے روزہ ٹوٹنے یا پھر مکروہ ہونے کا اندیشہ ہوں اسی طرح سے ہر انسان کو روزہ کے باطنی آداب کے بارے ميں بھی سوچنی چاہئے کہ روزہ کی حالت میں ہر برے کام اور ہر بری بات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے ۔ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے رمضان شریف کا روزہ رکھا اور پھر تین چیزوں سے محفوظ رہا تو میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔حضرت ابو عبیدہ ابن الجراح نے عر ض کیا یارسول اللہ وہ تین چیزیں کونسی ہیں فرمایا ۔(1) روزہ دار کی زبان (2) روزہ دار کا پیٹ (3) روزہ دار کی شرمگاہ ۔ خلاصہ یہ کہ بہرصورت مبطلات روزہ سے مکمل اجتناب کرنی چاہیے اور خوب سے خوب دعاوں کا اہتمام ہو اپنے لئے اپنے اعزاء اور احبا ب کے لئے اپنے متعلقین کے لئے عالم اسلام کے لئے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو مبطلات روزہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ماہ مبارک کی قد ر کرنے اور اس کے اوقات کو صحیح طور پر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.