لاک ڈان اور مولوی

0 80

 

موجودہ لاک ڈان میں یوں تو ہر شخص بےحال اوربدحال ہے ،یہ بھی سہی ہےکہ سماج کے مختلف افراد اور تنظیم کی جانب سے مستقل راحت رسانی کی کوشش کی جارہی ہے….مگرایک طبقہ ہے باضمیر حیاپسند مولویوں کابھی جس طرف توجہ کی ضرورت ہے … مولوی کئی شعبے میں بٹے ہیں جن میں سے کچھ توماشاءاللہ خوش حال ہیں. کچھ مفلوک الحال اور کچھ دونوں کےدرمیان معلق،…بعض وہ ہیں جو کسی ادارے یاتنظیم کے سربراہ ہیں بعض منصب امامت پہ فائز ہیں اور کچھ تجارت وغیرہ سے جڑے ہیں ان کے حالات کے بارے میں اندازہ لگانا ذرا مشکل ہےکیونکہ ان میں سےبعض کی خدمات مع وظائف کے جاری ہےاور دیگر کےپاس جمع پونجی ہونے کاامکان ہے – مگر مذکورہ تمام سےبڑی تعداد ان مولویوں کی ہےجوکسی ادارے میں ملازم ہیں یاپھرآزادنہ ٹیوشن وغیرہ کے ذریعے گزراوقات کرتے ہیں ان پاس کچھ رہابھی ہوگا توابتک صرف ہوچکاہوگا، ادارے کے ملازمین کو ضرور تنخواہ ملنی چاہئے مگر مل رہی ہوگی کہنا ذرا مشکل ہے…کیونکہ جب لاک ڈان ہوا تومدارس کے تعلیمی سال کا وہ آخری مرحلہ تھا تب تک تواکثرمدارس مقروض ہو جایا کرتے ہیں جن کی بھرپائی رمضان کے چندوں سے ہوتی ہے جس سے اس سال اب تک محرومی ہے( آنے والے وقت کےاندر ان مدارس کو پاؤں پر کھڑا کرنےکیلئے امت کےہرفرد کوقائدانہ کردار اداکرنا پڑے گا ورنہ نتائج بد کیلئےتیار رہیِں، اب تک اہل مدارس آتے رہے ہیں چندہ اکٹھاکرنے ابکی بار ہم خودجاکرانکی امداد کریں گے انشاءاللہ – یہ حقیقت ہےکہ ہمارے پاس زکواہ کی رقم نہ ہوگی یا کم ہوگی …تو کیاہوا اس آیت پرعمل کرینگے ویؤثرون علیٰ انفسھم ولواکان بھم خصاصہ)
اہل مدارس کی اپنی مجبوریاں ہوسکتی ہیں
مگرہم اپنےاخراجات کو دیکھتے ہوئے انکی ضروریات کااحساس کرکےتعاون توکرسکتے ہیں، توہم اپنے پاس پڑوس اوراہل قرابت واہل محلہ میں ضرور ایسوں کاخیال رکھیں یہ اپنی مجبوری کاذکر آپ سےنہیں کریں گے” ولایسئلون الناس الحافا” نہ چمٹ کرآپ سے مانگیں گے ،چہرہ پڑھیں آنکھیں بھی تو بولتی ہیں
……ذرا سوچیں ! عین سیزن میں لاک ڈان – نہ قرآن خوانی نہ میلاد خوانی نہ فاتحہ خوانی نہ نکاح خوانی نہ جلسہ جلوس نہ امتحان کانذرانہ نہ تراویح کاجھاڑ پھونک دم تعویذ ……ہائےہائے
یہ سارے بونس تو لٹ ہی گئے نا…شعبان تک یہ کسک محسوس ہوگی
زکریا حسن قاسمی

Leave A Reply

Your email address will not be published.