ایک بار پھر اوکھلا شاہین باغ کے رہائشی اور امانت اللہ خان نے مثال قائم کردی

0 426

 

افطار سے کچھ دیر قبل کا وقت ہے دہلی پولیس ڈاکٹر ظفرالاسلام صاحب کے گھر انہیں گرفتار کرنے آتی ہے امانت اللہ خان کو پتا چلتا ہے وہ ڈاکٹر صاحب کے گھر آتے ہیں اور مین گیٹ پر کھڑے ہوجاتے ہیں پولیس سے پوچھتے ہیں آپ کہاں آے ہیں آپ کے پاس کوئی نوٹس ہے تو پہلے وہ دکھائیں اوکھلا ایس ایچ او کہتا ہے ہم صرف پوچھ گچھ کرینگے امانت اللہ خان کہتے ہیں کہ آپ بغیر نوٹس کے کچھ نہیں کرسکتے پولس اپنے اعلیٰ ادھیکاری سے بات کرتی ہے امانت اللہ خان بھی اعلیٰ ادھیکاری سے بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسپیشل سیل اور مقامی پولیس بلاوجہ پریشان کررہی ہے ان لوگوں پر ایف آئی آر ہونی چاہیے دھیرے دھیرے مقامی لوگوں تک خبر پہونچتی ہے وہ بھی آنا شروع ہوجاتے ہیں ڈاکٹر صاحب کے گھر کے باہر ایک بھیڑ اکٹھا ہوجاتی ہے افطار کا وقت ہوجاتا ہے لیکن لوگ وہاں سے نہیں ہلتے ہماری مائیں اور بہنیں گھر سے کھجور اور کیلا وغیرہ وہیں بھیجنا شروع کردیتی ہیں آخر افطار کا وقت ہوتا ہے لوگ وہیں کھڑے کھڑے افطار کرتے ہیں لیکن وہاں سے نہیں ہلتے پولیس کے ماتھے پسینے سے شرابور ہیں اسے سمجھ میں نہیں آتا ہے وہ کیا کرے بار بار اعلیٰ ادھیکاری سے باتیں ہورہی ہیں لیکن بن کچھ نہیں رہا آخری حربے کے طور پر لوگوں پر چلاتی ہے بھیڑ اس سے زیادہ رعب دار آواز سے اسے متنبہ کرتی ہے پولیس کو سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہاں پر دال نہیں گلیگی واپس جہاں سے آئی تھی چلی جاتی ہے ان سارے مومنٹ میں ایک اہم بات جو سمجھ آتی ہے وہ ہے لوگوں کا بے خوف ہوکر اتحاد کا ثبوت اگر لوگ وہاں پر متحد ہو کر نہیں آتے تو جس طرح باقی لوگوں کو جس نے بھی سی اے اے این آر سی وغیرہ کی مخالفت کی ہے پولیس گرفتار کر کے لے گئی ہے انہیں بھی لے جاتی یہ الگ بات ہے کہ ان کی شخصیت اوروں سے جدا ہے
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کے عمل سے عوام اور قائد کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے جس طرح سے امانت اللہ خان نے اپنا کردار اب تک اپنی عوام کے لئے نبھایا ہے وہ لائق تحسین عمل ہے اور ہمارے دوسرے رہنماؤں کے لیے سبق ہے وہیں عوام نے جس طرح سے اس لاک ڈاؤن میں رمضان کے مہینے میں افطار کے وقت (حالانکہ یہ وہی عوام ہے جس نے ابھی کچھ دن پہلے دنیا کا سب سے لمبا دھرنا دیا ہے اور گولی بم جیسی چیزوں سے بھی جسے نہ ڈرایا جا سکا) جس طرح اپنے اس قائد کے لیے جو ہمیشہ سے حق کی آواز اٹھاتا رہا ہے جس کے دل میں ملت کا درد ہے جو قوم کا انمول سرمایہ ہے جس نے اپنی نہیں قوم کی آواز اٹھانے کی وجہ سے دشمنوں کے نشانے پر ہے اس کا بھرپور ساتھ دیا اور انکی حفاظت کی یہی جذبہ اگر پورے ہندی مسلمانوں میں آجائے طاغوت کا خوف دل سے نکال پھینکے اور اپنے قائد اور قوم کے سرمائے کے لیے اپنا سینہ پیش کردے تو یقیناً دشمنوں کو ہمیشہ ناکامی اور نامرادی ہی ہاتھ لگیگی_
ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے

محمد حسان، ریسرچ اسکالر ایل این ایم یو دربھنگہ

Leave A Reply

Your email address will not be published.