آؤ ہم سب مل کر عہد کر یں

0 87

 

 

ہم سب لاک ڈاؤن میں بیٹھے ہیں۔ کچھ ہی دنوں میں دو مہینے پورے ہو جائیں گے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو شدید معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔۔۔۔۔ کاروبار بند ہونے سے غریبوں کے علاؤہ عام بر سر روزگارر طبقہ بھی بے روزگاری کا شکار ہوگیا ہے جس کی وجہ لوگوں کو اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ ایسے میں رمضان کا مبارک مہینہ بھی جاری ہے ۔لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہی عبادتیں کررہے ہیں۔ ہماری مسجدیں بند ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت عیدالفطر کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کے درمیان چند دکانوں اور شاپنگ مال کو کھولنے کی اجازت دینے والی ہے۔۔۔۔ اس بھاری لاک ڈاؤن میں دکانیں اور مال کھولنے کا کیا مطلب ہے آپ خود سوچئے۔۔۔۔۔ غور کیجیے۔
ایسے میں دکانیں کھلیں تو لوگ خریداری کے لئے ٹوٹ پڑیںگے۔۔۔جس سے لوگوں میں فاصلہ بھی نہیں ہوگا اور کرونا پھیلنے کاخطرہ زیادہ ہوجائےگا۔۔۔۔اس سے پہلے تبلیغی جماعت والوں پر الزام لگایا گیا تھاکہ مسلمانوں کی وجہ سے کرونا پھیلا ہے۔۔۔۔۔تو کیا آپ یہ چاہیںگے کہ عید کی خریداری کے بہانے ایک اور الزام لگایا جائے۔اور پھر ایک بار مسلمانوں کو ذمےدار ٹھہرایا جائے۔نہیں بالکل نہیں ۔۔۔۔ آئیے اس بار ہم سب مل کر عہد کر لیں کہ خریداری نہیں کریںگے۔۔۔ ہم ان پیسوں سے غریبوں کی مدد کریں اور اپنے اللہ کو راضی کریں گے تاکہ اس وبا سے ہمیں جلدی نجات ملے۔
جب یہ رعایت دی جاری ہے اس وقت ہمارے مبارک ماہ کا آخری عشرہ ہوگا۔ عید خوشی کا نام ہے۔۔۔۔۔۔اور اس خوشی کو ہر کوئی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق مناتا ہے۔ ہم پورے ماہ کے روزے رکھنے کے بعد عیدالفطر مناتے ہیں۔ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے بطور خاص روزے داروں کےلئے ایک تحفہ ہوتا ہے۔ اسلام نے شریعت کے دائرے میں رہ کر خوشیاں منانے کی اجازت دی ہے۔ عید کا دن تمام امت مسلمہ کے لئے بہت اہم ہوتا ہے۔ نئے کپڑوں کا اہتمام کرتے ہیں۔۔۔۔نئے جوتے ۔۔۔چوڑیاں۔۔۔۔جُھمکا ۔۔۔۔۔ بالی اور گھر کے لئے نئی چادریں، پردے اور نہ جانے کیا کیا خریدے جاتے ہیں۔
سبھی لوگ اپنے اپنے محلے یا علاقے میں ایک جگہ جمع ہو کر عید کی نماز ادا کرتے ہیں، سب ایک دوسرے سے ہنسی خوشی مل کر مبارک باد دیتے ہیں۔ اچھا لباس زیب تن کرنا ،اظہار خوشی اور عید کا دن منانے میں شامل ہوتا ہے۔
عید کے دن نیا کپڑا اور سیویاں کوئی لازم اور واجب نہیں، اور ضروری سمجھنا غلط ہے، ہاں عید کے دن اپنے پاس موجودہ کپڑوں میں سے عمدہ کپڑا پہننا اور عید الفطر میں نماز سے پہلے میٹھی چیز کھاکر عیدگاہ جانا مستحب ہے، میٹھی چیز میں سویاں بھی داخل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن طاق عدد کھجوریں کھاکر نماز کے لیے جایا کرتے تھے، لہٰذا کھجور اگر میسر ہو تو وہی افضل ہے،نیا کپڑا بنواکر پہننا بھی درست ہے: وندب یوم الفطر أکلہ حلوا وترًا․․․ قبل صلاتہا․․․ ولبسہ أحسن ثیابہ إلخ وفي الشامي: قال في فتح القدیر: ویستحب کون ذلک المطعوم حلوًا لما في البخاری: کان علیہ الصلاة والسلام لا یغدو یوم الفطر حتی یأکل تمرات ویأکلہن وترًا، قلت فالظاہر أن التمر أفضل․ (شامي)
حضرت معاذ بن انس ؓروایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ڈر سے لباس میں فضول خرچی سے اپنے آپکو بچایا حالانکہ وہ اس پر قادر تھا تو کل قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے سامنے اس کو بلائیگا اور جنت کے زیورات میں سے جو وہ چاہے گا اس کو پہنایا جائے گا(ترمذی)۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں گندے کپڑے پہنے ہوئے حاضر خدمت ہوا۔ آپﷺنے فرمایا : کیا اس شخص کو کوئی چیز نہیں ملی کہ یہ اپنے کپڑے دھوسکے؟ (نسائی، مسند احمد)۔غرضیکہ حسب استطاعت فضول خرچی کے بغیر اچھے وصاف ستھرے لباس پہننے چاہئیں۔
البتہ عید کے دن نیا یا پہلے سے موجود کپڑوں میں سے اچھا کپڑا پہننا مستحب ہے، اگر اللہ نے کسی کو وسعت دی ہے، تو اُس کے لیے عید کے دن نئے کپڑے پہننے میں مضائقہ نہیں؛ بلکہ مستحب ہے لیکن اعتدال بہرحال ہر چیز میں ضروری ہے اور لباس میں تکبر، تفاخر اور دکھلاوے سے احتراز ضروری ہے۔
ساری دنیا میں کرونا وائرس کی وبا چل رہی اور اسی کے مدنظر ساری دنیا میں لاک ڈاؤن چل رہا جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، لوگ بے روزگار ہیں۔ بہرحال لوگ ہرطرح کی پریشانی میں ہیں۔
اس موقع پر مسلمانوں کی اعلیٰ قیادت اور بڑے بڑے علماء فرزندان توحید کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اس سال اپنے لئے اگر کپڑا سلوا بھی سکتے ہو تو بھی نہ سلوائیں، اپنے بچوں کو بھی سمجھائیں کہ بیٹا اس سال ہم عیدپر نئے کپڑے نہیں خریدیں گے۔ بلکہ ان پیسوں سے غریبوں کی مدد کریں گے۔ ہم اتنے سالوں سے عید میں نئے کپڑے پہنتے آئے ایک سال ہم عید کی خریداری نہ کرتے ہوئے جو کپڑے ہمارے پاس رکھے ہوئے ہیں ان میں سے ہی اچھا جوڑا نکال کر پہنیں۔۔۔۔۔اور اپنے کپڑوں میں کسی غریب کو بھی دیں۔۔۔۔
ہم نے اللہ کے لئے روزے رکھےجس کا اجر بھی وہی دے گا۔ میں تمام امت مسلمہ سے اپیل کرتی ہوں کہ عیدالفطر کی کوئی بھی خریداری نہ کریں۔۔۔۔یہ ایک طرح سے ہماری حفاظت ہی ہوگی۔۔دکانیں کھلیں گی۔۔۔۔ مال کھلیں گے تو وہاں بھیڑ ہونا لازمی ہے۔۔۔اور جو یہ لاک ڈاؤن ہوا ہے اس کا کیا فائدہ ہوگا۔ چار مئی کو شراب کی دکانیں کھل گئی تھی اور وہاں جو بھیڑ نظر آئی تھی۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔ایک دکان کے کھلنے سے یہ حال تھا تو سوچئے اگر خریداری کے لئے دکانیں کھلیں گی تو کیا ہوگا۔۔۔اور پھر سارا الزام مسلمانوں پر آئے گا۔۔۔۔اس سے اچھا تو یہ ہے کہ ہماری مسجدیں کھولی جائیں۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو صرف عید کے موقع پر ہی کپڑے خریدتے ہیں۔۔۔ پر اب کی بار اللہ کو راضی کریں اور جو ہیں اس میں گزارا کر لیں۔۔۔۔ عیدالفطر کی خریداری کے نام پر پھر مسلمانوں کو بدنام کیا جائے گا۔اس لئے ہماری وزیر اعلیٰ سے درخواست ہے کہ اس لاک ڈاؤن کو عید کے بعد ہی ختم کریں اور تمام دکانیں مارکیٹ بند رکھیں تاکہ کرونا پھیلنے کاخطرہ نہ ہو اور ہمیں جلد اس سے نجات ملے۔

سیدہ تبسم منظور ناڈکر (موربہ) ممبئی
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
9870971871

Leave A Reply

Your email address will not be published.