ہندوستانی مسلمانوں پر دوہرے وائرس کی یلغار

0 119

 

کرونا وائرس جیسی وبا کی وجہ سے پوری دنیا میں نفسی نفسی کا عالم ہے لوگ گھروں میں قید ہیں مزدور بھوک سے مر رہے ہیں امراء جسے اللہ نے توفیق دی ہے خیر کے کاموں میں لگے ہیں دنیا کی ساری حکومتیں اس وبا کے تدراک میں لگی ہے لیکن اللہ کی یہ ایسی پکڑ ہے کہ کسی طور بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ایسے وقتوں میں بندہ مومن کا ایمان اور بھی اللہ کی ذات پر مضبوط ہوتا ہے کہ ہے کوئی جو اس نظام ہستی کو چلا رہا ہے جسکی مرضی کے بغیر جتنی بھی کوششیں کرلی جائے لیکن بیکار ہے اسی لیے عبادت کے لائق اسی کی ذات ہے جو سب کا خالق و مالک ہے اگر کوئی اس وبا سے نجات دلا سکتا ہے تو صرف و صرف اللہ رباالعالمین ہی دلا سکتا ہے ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس رمضان کے متبرک مہینے میں اللہ کے سامنے گریہ زاری اور خلوص دل کے ساتھ اپنے گناہوں سے توبہ کی جائے اور اپنے آپ کو عمل کے اس سانچے میں ڈھال دے کہ رمضان کی برکت کی وجہ سے بخشا جائے جسے اللہ نے صاحب حیثیت بنایا ہے وہ غریبوں کا پرسان حال ہو تو یقیناً اللہ کی ذات معاف کرنے والی اور رحم کرنے والی ہے یقیناً ساری عالم انسانیت کو اس عذاب سے چھٹکارا ملیگا اور کرونا جیسی وبا ختم ہوگی اور یقیناً ختم ہوگی لیکن ہمارے ملک میں اس وبا سے بھی بڑی وبا اور اس وائرس سے بھی خطرناک وائرس جو 1914 میں ہندو مہاسبھا اور پھر اس کا بھائی 1925 میں آر ایس ایس پیدا ہوا جو مسلسل نوے سالوں سے ہمارے ملک میں دھیرے دھیرے پھیل رہا ہے اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ اسکی زد میں پورا ہندوستان آچکا ہے یہ اس قدر سرایت کرچکا ہے کہ حاکم بنا بیٹھا ہے اور اس ناگزیر حالات میں بھی ایک خاص ہندوستانی قوم کو دوہری مار سے مسلسل دوچار کررہا ہے
پورا ملک لاک ڈاؤن ہے لوگ پوری طرح سے ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں ایسے حالات میں اس کی سرکاری ایجنسیاں دہلی کے شاہین باغ سے سی اے اے اور این آرسی کے ورودھ میں جو جامعہ کے طالب علم شامل تھے چن چن کر گرفتار کررہی ہے یہاں تک حاملہ صفورا کو بھی نہیں چھوڑا اس کی حالت نہایت ہی ناساز ہے لیکن کسی مہیلا آیوگ کی نیند نہیں ٹوٹی اس لیے کہ وہ مسلمان ہے
ڈاکٹر ظفرالاسلام صاحب نے کیا خطا کی ہے انکے ٹویٹ میں کونسی دیش دروھی والی بات ہے ان پر دیش دروھ کا مقدمہ بھی کردیا گیا حالانکہ انہوں نے اپنے ناکردہ گناہوں کی معافی بھی مانگی لیکن یہ ساری چیزیں تب اہمیت رکھتی ہیں جب سرکار کی نیت درست ہو
جس ملک کی آزادی کے لیے تقریباً ہم ڈیڑھ سو سال تک لڑے ہم نے لاکھوں جانیں گنوائی اسی ملک کی آزادی کے پچھتر سال بعد بھی ہمیں غدار وطن سمجھا جاتا ہے اور ہم وطن سے محبت کی دلیلیں دیتے پھر رہے ہیں

اسی ملک میں ہمیں اچھوت سمجھا جارہا ہے کرونہ وائرس پھیلانے والا بتایا جارہا ہے ہم سے سبزیاں نہیں خرید رہے ہیں (البتہ پٹرول اور گیس سعودی ریال دینار و درھم اس سے مستثنیٰ ہے اس لیے کہ اس سے کرونا نہیں پھیلتا ہے) ہماری آئیڈی چیک ہورہی ہے مسلمانوں کے لیے اس گاؤں میں آنا منع ہے یہ بورڈ لگا دیا جاتا ہے یہی سرکار بنگلہ دیش اور پاکستان جسے ابدی دشمن سمجھتی ہے وہاں سے ہندوؤں کے لانے کے لیے قانون بناتی ہے لیکن اگر یہاں کا مسلمان اپنا درد اگر ٹوئٹر پر لکھ دیتا ہے تو وہ غدار ہے ایک پاکستانی طارق فتح کو میڈیا اپنے ساتھ بٹھا کر ساری دنیا کی مسلم آبادی خاص کر ہندوستانی مسلمانوں کو گالی سنواتی ہے تو یہ دیش بھگتی اگر کوئی مسلمان کسی پاکستانی سے بات بھی کرلے تو دیش دروہ دہلی الیکش کے وقت بھڑکاؤ بھاشن دینے والے دنگا کروانے والے باہر موج میں گھوم رہے ہیں ان پر ایف آئی آر تک نہیں لیکن مسلمانوں میں سے کسی کی ذرا سی آواز نکلی فوراً گرفتاری اور کیا کیا ہوجاتا ہے حد تو یہ ہے کہ ہم جسے سیکولر سمجھکر ووٹ دیتے ہیں وہ سب سے بڑا سنگھی ہوجاتا ہے امانت اللہ خان کو وقف چئیرمین سے اس لیے ہٹا دیا جاتا ہے کہ وہ دہلی دنگا میں لٹے ہوئے لوگوں کی مدد کرتا ہے دنگائیوں کی گرفتاری کے نام پر صرف مسلمانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے گویا قاتل مقتول دونوں ہی مسلمانوں کو بنا دیا جاتا ہے پھر بھی ہم خاموش ہیں جیسے معمول کی باتیں ہوں
یہ دوہرا معیار ہماری سرکار کا ہے اور ہم اتنے ڈرے سہمے ہیں کہ ہمارے منہ سے ایک آواز نہیں نکل رہی ہے یقین جانیے اگر ہمارا یہی حال رہا تو ہم پچھتر سال بعد بھی اس سے برے حالات میں تو رہینگے لیکن بہتر نہیں ہوسکتے اب بھی وقت ہے اپنے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرنے کا آواز اٹھانے کا جواب دینے کا اپنا حق مانگنے کا انصاف وامید کے راستے کو چننے کا یقیناً اس راستے میں بہت سارے مشکلات آئنگے اور آبھی رہے ہیں جسے کچھ لوگ مسلسل جھیل رہے ہیں لیکن کچھ لوگوں سے کچھ نہیں ہونے والا ہندوستان کے ہر شہری کو اس راستے پر چلنا ہوگا ہر ایک کو اپنی ذمہ داری خود سمجھنی ہوگی تبھی ہماری جمہوریت بچ سکتی ہے آپ بھول جائیں نام نہاد قائدین کو جو آپ پر ہورے ظلم کے خلاف کچھ کرینگے یہ بیانات تو دے سکتے ہیں لیکن قربانیاں نہیں
کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ انہوں نے کچھ کیا یا کہا تو انہیں بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے چونکہ انہیں قائد کہلانے کا شوق تو ہے لیکن وہ جگر نہیں جو شاہ اسماعیل شہید مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابولکلام آزاد وغیرہ میں تھا جنہوں نے قوم کے لیے جام شہادت بھی نوش کیا اور جیل کی سلاخوں کو اپنا مسکن بھی بنایا ہاں البتہ یہ گھبرائیں نہیں ظلم سہتے رہیں کا نعرہ ضرور لگاتے نظر آئینگے
آج کے وقت میں سوشل میڈیا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں آواز اٹھانے کے لیے اپنی بات رکھنے کے لیے لوگوں تک اپنا درد پہنچانے کے لیے انکی کوئی ضرورت نہیں چنانچہ خود متحرک ہوں ٹوئٹر سے یا جس پلیٹ فارم سے آپ جڑے ہیں وہاں سے آواز اٹھائیں اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آج جامعہ کے طلبہ اور ظفرالاسلام صاحب کے ساتھ جو ہورہا ہے وہی ہر ایک چھوٹے بڑے کے ساتھ ہونا ہے بس باری کا انتظار کرنا پڑے گا غلامی کی ایسی زنجیروں میں جکڑ دیا جائیگا کہ آپ کو سانسوں کی قیمتیں بھی چکانی پڑینگی یہ ایک سرد جنگ ہے جو میڈیا کے ذریعے سے ہندوستانی مسلمان اور سیکولر عوام سے سرکار لڑرہی ہے اگر آپ نے وقت رہتے اس کی نضاقت کو سمجھا تو یقیناً آپ سرخرو ہونگے ورنہ تباہی وبربادی آپکا مقدر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا

محمد حسان سلفی

Leave A Reply

Your email address will not be published.