مسلم نوجوانوں پر UAPA کے تحت مقدمہ درج کرجیل میں ڈالا جانا تشویش ناک: شکیل سلفی

0 160

مسلمانوں سے بدلالینے کی نیت سے امت شاہ CAAتحریک کارو ں کی کرا رہا گرفتاریاں: نظرعالم
مسلم نوجوانوں پر UAPA کے تحت مقدمہ درج کرجیل میں ڈالا جانا تشویش ناک: شکیل سلفی

دربھنگہ:  پریس ریلیز۔ایک طرف ملک کورونا کے قہر سے پریشان ہے اور اس سے تحفظ کی راہیں ڈھونڈرہا ہے تو دوسری طرف ذرائع ابلاغ کے ساتھ ہی حکومت بھی مذہبی منافرت کو فروغ دے رہی ہے۔ ایک جانب وزیراعظم تلقین کررہے ہیں کہ لوگ مذہبی بنیادوں پر نہ لڑیں اور سب مل جل کر وبا کا مقابلہ کریں تو دوسری جانب خود ان کی حکومت مذہب کی بنیاد پر ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنانے سے بازنہیں آرہی ہے۔ان خیالات کا اظہارکرتے ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے کہاکہ جس طرح دہلی میں امت شاہ کی پولیس مسلمانوں کو ہراساں کررہی ہے اور مسلم نوجوانوں کی اندھادھند گرفتاریاں کررہی ہے اس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ وزیراعظم کو بھی اہمیت نہیں دیتے۔ایسے وقت میں جب کہ وزارت داخلہ کو کورونا کنٹرول میں اپنی توانائی لگانی چاہئے۔ وہ ان لوگو پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑ رہی ہے جنہیں پہلے ہی فساد میں بری طرح کچلاجاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح طلبہ لیڈروں کو فساد میں ان کے مبینہ کردار کی بنیاد پر غلط طریقہ سے پھنسایا جارہا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ امت شاہ کا ایجنڈا ملک کو کورونا کی وبا سے تحفظ دینے کی بجائے ایک خاص طبقہ پر ظلم و ستم کرنا ہی رہ گیا ہے۔اس حقیقت کے باوجود کے غیرملکی ایجنسیاں مذہبی تعصب کے لئے ہندوستان کو موردالزام ٹھہرارہی ہیں اور ہمارے ملک کی بدنامی ہورہی ہے۔وزارت داخلہ اور خودوزیراعظم کو بھی اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور حکومت اس نازک موقع پر بھی اپنے مخالفین کو سبق سکھانے میں لگی ہے۔ نظرعالم کہا کہ اگر یہی حالت رہی تو ہم کورونا کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی جنگ بھی ہار جائیں گے۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے سرپرست شکیل سلفی نے دہلی میں فساد کے نام پر سی اے اے مخالف تحریک کاروں کی گرفتاریوں کے ساتھ ہی مسلم نوجوانوں پر یو اے پی اے کے تحت مقدمات درج کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نازک صورت حال میں بھی حکومت اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈا پر کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے سماجی کارکنوں، صحافیوں اور طلبہ لیڈروں پر بدنام زمانہ یواے پی اے قانون کے تحت مقدمات درج کئے جارہے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ حاملہ خواتین کو بھی گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جارہا ہے۔ بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ عدالت سے بھی انہیں کوئی راحت نہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ لیڈر صفورہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی بدنیتی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ جب عدالت نے اسے حاملہ ہونے کی وجہ سے ضمانت دے دی تو اسے دوسرے مقدمہ میں پھنساکرگرفتار کرلیا۔ شکیل سلفی نے مشہور اسلامی اسکالر اور دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ظفرالاسلام خان پر غداری کا مقدمہ درج کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے عہدہ کے صحیح استعمال کی سزا دی گئی ہے جب کہ ڈاکٹر خان مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارم اور چینلوں پر ہندوستان کا مضبوطی سے دفاع کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال تشویش ناک ہے اور اگر اس پر روک نہی لگی تو اس کے بھیانک انجام ہوسکتے ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.