رمضان المبارک مومنوں کے لئے نیکیاں کمانے کا بہترین موقع ہے

0 30
news
جمشید اشرف
ماہ مقدس رمضان المبارک تمام تر رحمتوں اور  برکتوں کے ساتھ ہمارے  اوپر سایہ فگن ہے۔یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن جیسی عظیم الشان کتاب نازل ہوئی۔ایسی کتاب جو کائینات انسانی کے لئے سراپا رشد و ہدایت ہے۔یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں بندوں کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ صبر اور غمخواری کا مہینہ ہے جسکا بدلہ جنت ہے۔
رمضان المبارک کا روزہ امت محمدیہ کے لئے ایک خصوصی انعام ہے۔روزہ روحانی تزکیہ ،تقوی وپرہیزگاری حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔اور اللہ تعالٰی کو  تقوی کی زندگی ہی مطلوب ہے۔
رمضان المبارک خیر و برکت،رحمت اور مغفرت کا مہینہ ہے۔اس مہینے میں خدا کی رحمتیں اور برکتیں بارش کی طرح برستی ہیں۔اس متبرک مہینے کی عظمت میں بندوں کے نیکیوں کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے ۔حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر کوئی شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے غیر فرض عبادت کرتا ہے یعنی سنت یا نفل وغیرہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالٰی اس کا ثواب فرضوں کے برابر عطا کرتا ہے۔ اور فرض ادا  کرنے کا ثواب  ستر فرضوں کے برابر عطا فرماتا ہے۔
یقینا ہمارے لئے نیکیاں کمانے کا اس سے بہترین  موسم اور کیا ہو سکتا ہے؟ کہ ہمارے نفلوں کا ثواب فرضوں کے برابر اور فرضوں کا ثواب ستر فرضوں کے برابر مل رہا ہے۔قربان جائیے خدائے رحمان و رحیم کی ذات پر کہ اپنے بندوں کے لئے اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول کر رکھ دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اپنے دامن میں نیک اعمال کے ذخیرے جمع کرنے کا اس سے بہتر موقع  اور کوئی نہیں ہو سکتا ؟ذرا غور کیجئے کہ اگر کوئی شخص فصل بونے کے موسم میں اس پہ محنت ہی نہ کرے تو فصل کاٹنے کے وقت وہ فصل پانے سے محروم رہ جائے گا۔ اسی طرح کمانے کے سیزن میں بھی  محنت سے نہ کمائے تو وہ انسان مفلس و نادار ہو جائے گا اور اس کے اہل و عیال فقر و فاقہ کے شکار ہو جائیں گے۔جس طرح دنیوی کاروبار کا ایک سیزن ہوتا ہے اسی طرح رمضان المبارک مومنوں کے لئے نیک  اعمال کمانے کا سیزن ہے جس میں ہر عمل کی قیمت اور دنوں کے مقابلے ستر گنا بڑھی ہوئی ہے۔
ہم دنیا میں معمولی نفع حاصل کرنے کی خاطر کتنی محنت و مشقت کرتے ہیں۔چند پیسوں کا نفع حاصل کرنے کے لئے دھوپ کی تمازت اور گرمی کی شدت برداشت کر لیتے ہیں،بھوکا رہنا پڑے رہ لیتے ہیں،راتوں کو جاگنا پڑے جاگ لیتے ہیں،مگر آخرت کے اتنے بڑے فائدے اور منافع جس میں ایک نیکی کے بدلے ستر نیکیاں مل رہی ہیں؛ اسے حاصل کرنے میں ہماری کوئ دلچسپی نہیں ہے۔یہ ہمارے لئے بڑی ہی محرومی اور بدنصیبی کی بات ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان کا مہینہ آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو خطاب فرمایا:
"تمہارے پاس ماہ رمضان آ گیا۔یہ بڑی برکت والا مہینہ ہے۔اللہ نے اس کے روزے کو تم پر فرض کیا ہے۔اس میں جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔دوزخ کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں ۔اور شر کش شیاطین قید کر دئے جاتے ہیں۔اس میں اللہ کی ایک خاص رات(شب قدر) ہے جو ساری راتوں کی سردار ہے۔اس شب میں عبادت کرنے کا ثواب  ہزار مہینوں کی عبادت سے  افضل ہے۔جو کوئ شب قدر جیسی مقدس رات کی عبادت سے محروم رہ گیا وہ بہت ہی بدنصیب ہے”۔(مفہوم حدیث)
اللہ تعالٰی نے مسلمانوں پر رمضان کے روزے فرض کئے اور کہا کہ جو شخص تم میں سے اس مہینہ کو پائے اس پر لازم ہے کہ پورے مہینے کا روزہ رکھے۔
حدیث قدسی میں اللہ تعالٰی کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ "روزہ خالص میرے لئے ہے اور میں ہی اپنے ہاتھوں سے اس کا اجر دوں گا ۔کیوں کہ بندہ صرف میری ہی خاطر اپنی خواہشات نفسانی  اور کھانے پینے کو چھوڑتا ہے”۔
روزہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی چند گھنٹے مسلسل اپنی بنیادی اور انتہائی ضروری خواہشات پر قابو پاکر اللہ کے حکم کے تابع ہو جائے۔اور اسی کا نام تقوی ہے۔قرآن کریم کے اس جملے  "لعلکم تتقون "سے یہی مراد ہے کہ انسان اس ایک ماہ کی روحانی و جسمانی تربیت کے ذریعے  متقی اور پرہیزگار بن جائے۔
بڑے ہی خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس ماہ مقدس کا احترام کرتے ہیں اور نیک اعمال کا اہتمام کرکے اپنے مولا کو راضی کر لیتے ہیں۔اور بڑے ہی بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس مبارک مہینے میں بھی غفلت برتتے ہیں۔اور اپنے قیمتی اوقات کو لہوولعب میں گزار کر خدا کے غضب کا مستحق بن جاتے ہیں۔
ہمیں چاہئے کہ اس مبارک مہینے کا احترام اور قدر کریں۔اپنے قیمتی اوقات کو ہرگز لہوولعب میں ضائع نہ کریں۔بلکہ اسے اللہ کے ذکر ،قرآن کریم کی تلاوت، دعا ،توبہ و استغفار میں گزاریں۔دن میں روزہ رکھیں اور رات میں تراویح اہتمام کے ساتھ ادا کریں۔اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ تراویح کی نماز میں بہت ہی تساہلی برتتے ہیں۔ادھر تراویح میں قرآن مقدس کی تلاوت ہو رہی ہوتی ہے اور ادھر کچھ لوگ شور و شغب اور گپ شپ میں مشغول رہتے ہیں یا پھر وہ بیٹھے رہتے ہیں، جب امام رکوع کی تکبیر کہتا ہے تو فورا وہ بھی رکوع میں چلے جاتے ہیں۔۔۔۔نہ قیام صحیح ہوا نہ رکوع۔۔۔بس جیسے تیسے تراویح کی رسم ادا ہو گئ۔۔۔۔
  اللہ کے بندو! اللہ کی عبادت میں اخلاص و للہیت ہونی چاہئے۔۔۔۔تبھی اس کا اجر ملے گا۔صرف رسم ادا کر لینے سے عبادت کا ثواب نہیں ملتا۔۔
صاحبو! اس نیکیوں کے سیزن کو غنیمت سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ سامان آخرت جمع کر لیں۔اور اس سنہرے موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔۔۔۔کیونکہ ہم میں سے کسی کو خبر نہیں کہ آئندہ رمضان ہمیں نصیب ہو گا یا نہیں۔۔۔۔۔
اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کو رمضان المبارک کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے اور اس کی رحمتوں اور برکتوں سے خوب خوب مستفیض و مستفید فرمائے۔آمین
جمشید اشرف

Leave A Reply

Your email address will not be published.