کورونا کی مارا ماری اور عید کی خریداری…؟

0 41
(محمد قاسم ٹانڈؔوی=09319019005)
کورونا وائرس وبا کا عذاب ملک میں آنے اور پھیلنے کے بعد اگر حالات و قرائن کا بادئ النظر سے مشاہدہ کیا جائے اور دیگر اقوام و ملل سے وابستہ افراد اور ان کے اداروں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مجموعی نفع و نقصان کو ضرب و تقسیم کیا کے حصار میں لایا جائے تو یہ بات واضح طور پر عیاں ہوتی ہےکہ:
"مذکورہ بیماری کو مزید پھیلنے سے روکنے کےلئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے جتنی بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیلیں کی گئیں ان اپیلوں کا سب سے زیادہ نہ صرف احترام، اہتمام اور پابندی کی ہم نے بلکہ اس دوران بڑی سے بڑی قربانی اور بڑے سے بڑا نقصان خواہ امور دنیا سے متعلق ہو یا امور دینی سے "طوعا و کرہا” ہم نے اس کو مکمل طور پر برداشت کر عملی جامہ بھی پہنایا ہے” اور ہم اس بات کا مکمل خیال رکھے رہے کہ حکومتی سطح پر کی جانے والی اپیلوں کی کسی بھی صورت خلاف ورزی نہ ہو جائے، تاکہ فرقہ پرست ٹولے، شدت پسند لابی اور متعصبانہ ذہنیت کے حامل گودی میڈیا کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کا موقع ہی ہاتھ نہ لگے؟ کیوں کہ ہمارے اکابر و ائمہ اور ماہرین سماج اس بات کو شدت سے محسوس کر رہے تھے کہ خدانخواستہ اگر اس بیماری کو لےکر حالات مزید ابتر ہوتے ہیں تو ہمیں کو مورد الزام ٹھہرائے جائےگا، اس لئے احتیاط ہی میں حفاظت و بچاؤ ہے۔ لیکن اتنی احتیاط و پابندی برتنے کے باوجود میڈیا اور اس کے دائیں بائیں گھومنے والے زعفرانی ٹولے نے عالمی سطح پر مسلمانوں کو بدنام کرنے اور اس عالمگیر وبا و بلا کو ہندو مسلم بنا کر ہی دم لیا اور ہمیں بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی؟لہذا ملک میں تیزی سے پھیلتے اس مہلک و جان لیوا وائرس کے تار اور ثبوت؛ جیسا کہ میڈیا کی عادت ہے کہ وہ رونما ہونے والے ہر تخریبی واقعہ اور حملے کے فوراً بعد بنا تحقیق و ثبوت اس کو مسلمانوں سے جوڑ دیتا ہے یہاں بھی اس نے حکومت کے تئیں مکمل وفاداری اور شدت پسند لابی کو خوش کرنے کےلئے پوری طرح سے اسے مسلمانوں سے جوڑ کر تبلیغی جماعت اور اس کے امیر محترم کے سر اس کا ٹھیکرا پھوڑ دیا؛ جو کہ یہ اس کا ایک ناقابل معاف جرم تھا، اسی لئے ہمارے علماء نے میڈیا کی اس بودی حرکت کو چیلینج کرنے کےلئے عدالت کا رخ کر مقدمہ دائر کیا ہے۔
بہرکیف ! لاک ڈاؤن نفاذ کے روز اول سے سب سے زیادہ قربانیاں بھی ہماری طرف سے پیش کی گئیں اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ بدنام بھی ہمیں کو کیا گیا؛ جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور جیسا کہ سننے میں آ رہا ہے کہ عید کی مناسبت سے بازار دوکانیں کھول دی جائیں گی؛ ہمیں تو یہ بھی کسی خفیہ سازش اور ان کی منظم پلاننگ کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
چلئے پہلے اس دوران دینی و دنیاوی اعتبار سے ہونے والے نقصان اور اس موقع کی مناسبت سے دی جانے والی قربانیوں پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں اور اندازہ لگاتے ہیں کہ اس عالمی وبا کی وجہ سے بحیثیت مسلمان ہمیں کتنے عظیم خسارہ سے دوچار ہونا پڑا ہے؟ اور کیا اس کی تلافی و تدارک ممکن ہے؟
مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے فرمان سے سب سے پہلے تو مدارس و مکاتب کا نظام متآثر و چوپٹ ہوا، اس معنی کر کہ مدارس میں جاری تعلیمی سلسلے کو نہ صرف موقوف کر دیا گیا بلکہ سالانہ امتحان تک منسوخ کر دئے گئے، اس بات سے مکمل قطع نظر کہ یہ امر واقعی طلبہ کے مستقبل اور صلاحیتوں پر کتنا اثر انداز ہوگا؟ اور ان کی ترقی و تنزلی میں یہ کیا کردار ادا کرےگا؟
دوسرے بعض علاقوں میں اختتام سال پر سالانہ تعلیمی اور اصلاحی پروگرام منعقد کرائے جاتے ہیں جن کا ایک اہم اور بڑا مقصد زیراہتمام مدارس کےلئے مالی وصولیابی اور عوام کی طرف سے ہنگامی تعاون درکار ہوتا ہے، مگر یہ اہم مقصد بھی لاک ڈاؤن کے نذر ہو کر رہ گیا، جس کا بڑا نقصان یہ سامنے آیا کہ متوسط و کمزور حالت میں چل رہے اکثر مدارس کے اساتذہ و ملازمین کی نہ صرف کئی ماہ کی تنخواہیں ملنے سے رہ گئیں بلکہ اس فراوانئی مال کے سلسلے میں دور دور تک بھی حالات ساتھ دیتے نظر نہیں آ رہے ہیں؛ جس سے کچھ تسلی حاصل ہو۔
تیسرے: مرحلے وار "چلہ کشی” (40/یومیہ لاک ڈاؤن) کے پورا سے قبل ہی تیسرے مرحلے کےلئے مزید دو ہفتوں کی توسیع کر "لاک ڈاؤن” میں اضافہ کا اعلان کر دیا گیا ہے، اس دوران ہماری مساجد قریب قریب بند اور ویران ہیں، رمضان المبارک جیسا پاکیزہ، عظیم الشان اور روح پَروَر مہینہ جس کا سال بھر انتظار رہتا ہے اور بہت سی مخصوص عبادتیں اسی ماہ مبارک میں انجام دی جاتی ہیں، ان سے ہم یکسر محروم کر دئے گئے، حتی کہ تراویح جیسا اجتماعی مسنون عمل جو کہ اس ماہ مبارک کی خصوصی عبادت کا درجہ رکھنے کی بنیاد پر عوام الناس اس میں اپنی شرکت کو یقینی بناتے ہیں، اس سال اس روحانی اور اجتماعیت کے ساتھ ادا کی جانے والی قرآنی عبادت سے محروم رہ گئے، اور چار و ناچار صبر کر اپنی اپنی قیام گاہوں پر انفراداً اس کو ادا کر رہے ہیں۔
چوتھے: اسی قرآنی عبادت اور اجتماعی عمل کے تعلق سے ہمارے وہ حفاظ کرام جو دور و قریب کا سفر طے کر قرآن سنتے سناتے تھے اور اس کی برکت سے یہ حضرات پورے سال کےلئے قرآن کریم کی طرف سے بےفکر و مطمئن ہو جاتے تھے، مگر اب کی بار یہ بھی نہ ہو سکا اور حفاظ کرام کی ایک بڑی تعداد بہتر انتظام اور مناسب جگہ میسر نہ ہونے کی وجہ سے گھروں۔میں مقید ہو کر مغموم و رنجیدہ ہے اور گردش زمانہ کی مار جھیل صبر کرنے پر مجبور ہے۔
پانچویں: رمضان کا مہینہ اس معنی کر بھی مبارک و مسعود تصور کیا جاتا ہے کہ ہمارے مدارس اسلامیہ اور مکاتب دینیہ کی سالانہ آمدنی اور مالی وصولیابی کے واسطے یہ اہم موقع اور بہترین ذریعہ بن کر سایہ فگن ہوتا تھا، جس میں اہل مدارس و مکاتب سے وابستہ حضرات صاحب ثروت اور اہلِ خیر حضرات سے ملاقات کر نکالی جانے والی مال کی زکاۃ وصول کرتے تھے اور مدارس و مکاتب کو در پیش ضروریات کی تکمیل اور سالانہ خرچ کے واسطے زکاۃ اکٹھا کرنے میں بھرپور تگ و دو کرتے تھے، مگر مدارس و مکاتب کو ہونے والی اس ماہ کی آمدنی "لاک ڈاؤن” کے چلتے اس بار قریب قریب ختم ہی سمجھو، اسی سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہےکہ: جن مدارس و مکاتب کی کل آمدنی اور مالی وصولیابی کا دار و مدار اس ماہ مبارک میں حاصل شدہ مالی اثاثے اور عوامی تعاون پر موقوف تھا اور اب کی بار اسے وصولا نہ جا سکا تو لوک ڈاؤن کے ختم ہونے اور مدارس کے کھلنے پر اہل مدارس کو نظام برقرار رکھنے میں کس قدر دقت و پریشانی کا سامنا کرنا ہوگا؛ خود اندازہ لگا لیجئے؟
چھٹے: یہ رمضان المبارک ہمارے علاقوں میں آباد نہ جانے کتنے قبیلے اور خاندانوں کے سر پر یوں ہی بےسر و سامانی اور عسرت و تنگی کی حالت میں آیا اور شاید ویسے ہی چلا بھی جائےگا، اس دوران نہ تو انہیں کوئی سرکاری امداد و اسکیم کا فائدہ پہنچا اور نہ ہی وہ اپنی غیرت و خداری کی خاطر گھروں سے باہر نکل تیرے میرے سامنے دست سوال دراز کر سکے بلکہ پانی نمک کو ہی اپنی غذائے حلال بنائے خود کو صابر و شاکر کی مجسم تصویر بنائے اپنے گھروں میں مقید ہیں، نہ وہ خود کسی سے کچھ کہہ سکے اور نہ ہی کسی بندۂ خدا کی رسائی ان غریب عوام تک ہوئی اور وہ اسی طرح بےچارگی، بےمائیگی اور بےبسی کی حالت اختیار کئے "صائم اللیل والنہار” کی کیفیت میں جی رہے ہیں۔
یہ ہے موجودہ خوفناک صورتحال جبکہ مستقبل کے سلسلے میں ماہرین اقتصادیات و معاشیات کا اشارہ ہےکہ حالات بد سے بدتر کی طرف رواں دواں ہے اور مسلسل ایسے اندیشوں کا اظہار کیا جا رہا ہے جو شعبہائے زندگی کو تاریک سے تاریک تر بنا دینے والے ہوں گے، اس لئے ان کا کہنا ہےکہ:
"ہر آدمی اپنی جمع پونجی کے خرچ کرنے میں بہت ہی احتیاط سے کام لے اور اسراف و فضول خرچی سے حتی الامکان بچے؛ پتہ نہیں کب حالات سازگار ہوں اور کب ملک کی معیشت پٹری پر لوٹے؟ ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا”۔
ایسے پریشان کن، تشویشناک حالات اور سنگین مالی بحران کی دستک دیتے اوقات میں بھلا کون ہمارا ہمدرد و غم خوار ہو سکتا ہے؟ اور کیسے کوئی صبر و تسلی کا باعث بن سکتا ہے؟
ہاں رذالت و منافقت میں ڈوبا ٹولہ جو دراصل ہمارے دین و دنیا کا ازلی دشمن ہے، وہ اگر تسلی و ہمدردی اور خیرخواہی کا سامان لےکر ایسے وقت حاضر ہو جائے تو کچھ بعید نہیں اس لئے کہ اس ٹولہ کا مقصد ہماری امداد کرنا یا ضرورت پوری کرنا نہیں بلکہ اس کورونا وائرس بیماری کے اصل پھیلاؤ کی وجوہات پر پردہ ڈال کر منظم سازش اور پوری پلاننگ کے تحت اس امر کو عملی جامہ پہنانا ہوگا کہ مسلمانوں کی غفلت و لاپرواہی، سوشل ڈسٹینسگ کی خلاف ورزی اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کے سبب ہی اس مرض نے ترقی کی اور مسلمانوں کی اس غیر متوقع حرکت سے پورے دیش کو خطرہ لاحق ہوا۔
اس تعلق سے دیگر وجوہات بھی ممکن ہیں، مگر اصل وجہ یہی محسوس ہوتی ہے کہ عید کے موقع پر بازار اور دوکانوں کو آخر کیوں کھولا جا رہا ہے؟ جب بس، ٹرین، ہوائی جہاز، اسکول، کالج اور کوچنگ سینٹر وغیرہ تمام بند ہیں تو پھر تقریبا دو ماہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے عوام میں صرف مسلمانوں کی ہی فکر کیوں اچانک اس طرح ستانے لگی اور کیوں ان کےلئے اشیاء ضروریہ سے بھی زیادہ تکلفات کا بند و بست کرنے کی باتیں کی جانے لگیں؟
مسلمانوں ! ہوش کے ناخن لینے کی سخت ضرورت ہے ورنہ احوال و قرائن جن ایام مصیبت کی پیش گوئی کر رہے ہیں، ایسے میں قطعا مناسب نہیں ہے کہ ہم خریداریئے عید کے بہانے گھروں سے نکلیں اور پہلے ساہوکاروں کے ہاتھوں مہنگے داموں لٹ کر خالی جیب ہو جائیں دوسرے مرض کے متعدی ہونے کا الزام بھی اپنے اور اپنی قوم کے سر پر تھوپنے کا باعث بنیں۔ اس لئے بہت ہی احتیاط اور سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت ہے، رہا عید کا مسئلہ تو اگر اجازت ہوگی تو "دوگانۂ عید” ادا کر لیں گے، ورنہ تو وہ بھی کوئی فرض نہیں ہے، مگر حکمرانوں کی شازش و پلاننگ کسی بھی قیمت قوم کے سر تھوپنے اور منڈھنے نہیں دینا ہے۔ کم میٹھی سوئیاں کھا لینا، پرانے رکھے کپڑے جوتے پہن لینا، اس بار عیدی مت لینا دینا مگر اس بات کو ضرور دامن کے پلو سے باندھے رہنا کہ ہمیں ملک بھی عزیز ہے اور اپنی قوم کی عزت و سربلندی بھی پیاری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.