رام راجیہ پرتیک 6 سالہ سنگھی مودی راجیہ کے سنہرے کارنامے

0 23

               نقاش نائطی

           +966504960485
پہلے نوٹ بندی، جی ایس ٹی، سی اے اے، این آرسی، اور اب کرونا وبا پس منظر میں،دہلی انتخاب جیتنے ٹرمپ اور اسکے ہزاروں باڈی گارڈ کو گجرات آگرہ دہلی لاتے ہوئے،بھارت میں کرورنا پھیلاتے تناظر میں، 22 مارچ تک، ہزاروں کروڑ مدھیہ پردیش کے 36 ایم ایل کو خریدنے پر لگاتےہوئے، عوامی ووٹوں سےجیتی ہوئی جن لوک پریہ کانگریس سرکار کو، زبردستی ہٹا کر، مدھیہ پردیش میں،پوری طرح کنول کھلوانے کے بعد، شکرانے کے طور، سو کروڑ دیش واسیوں سے تالی اور تھالی بجواتے ہوئے، موگامبو مہاراج ایسے خوش ہوئے کہ، صرف چار گھنٹہ کی بھی مہلت نہ دیتے ہوئے، بغیر تیاری کے، دیش بھر کے 21 دن والے لاک ڈاؤن کا، من کی بات بم برساتے ہوئے،  مختلف شہروں میں مصروف معاش،کئی کروڑ یومیہ مزدور پر، کورونا سےکم، بھوک فاقہ سے زیادہ مرنے کا فرمان جاری کردیا۔
بھارت کے ناکام ترین پی ایم کے شاندار کارناموں میں سے ایک، من کی بات،لاک ڈاؤن بم دھماکے کا نتیجہ ہے کہ، ودیشوں میں پھنسے امیروں کو، کروڑوں روپیہ خرچ کر،ہوائی جہازوں میں، انہیں واپس ھند لاتے پس منظر میں بھی،  بھارت میں غریب مزدور اپنے اپنے گھروں میں لوٹنے کے لئے،ریل و بس سروس نہ رہتے پس منظر میں،شہروں سے اپنے اپنے گاؤں دیہات، گھروں میں پہنچنے کے لئے،کئی کئی سو کلو میٹر، بھوکے سفر کرتے ہوئے دم توڑ رہے ہیں۔ اور یہ بکاؤ میڈیا، مودی مہان کے گن گانے میں ہی نہ صرف ویست ہے بلکہ مودی جی کو عالم کا سب سے ہوشیار زیرک لیڈر ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے
تالی اور تھالی دیش واسیوں کے ہاتھوں پٹوانے اور بجوانے کے بعد، مودی جی کے بغیر تیاری اچانک 21 دن+ 19دن+  15 دن + پتہ نہیں اور کتنے دن،  والے لاک ڈاؤن سے بدحال دم توڑتے بچ گئے، کئی کروڑ یومیہ مزدور،  پھر سنگھی مودی یوگی والی رام راجیہ برہمنی سرکار کے لئے، ووٹ دیں گے؟ یا پھر ای وی جیت ہی کو،بھی اگلے انتخاب میں،سرحد پارپلجھڑیاں چھوڑتے پس منظر میں، مودی جی  کی شاندار کامیابی بتایا جائیگاوما علینا الا البلاغ
بھارت کے سڑکوں کی کہانی جمعیتہ علماء کے ایک کارکن کے زبانی
 بھارت کی سڑکوں پر بھوک تڑپ رہی ہے
 محمد اکرم پرتاپگڑھی 30- اپریل 2020
 لاک ڈاؤن ون تو جیسے تیسے بیت گیا، لیکن لاک ڈاؤن ٹو کے مناظر کلیجہ چیر دینے والے ہیں، خبروں  کے مطابق لاکھوں لوگ بھارت کی سڑکوں پر پیدل چلتے ہوئے نظر آرہے ہیں، گجرات سے، ممبئی سے، دلی سے اور دیگر مقامات سے لوگ جھنڈ کے جھنڈ پیدل نکل پڑے ہیں، ان پیدل سفر کرنے والوں میں بوڑھے، جوان اور بچے سبھی شامل ہیں، دھوپ کی شدت، اپریل کا سخت ترین مہینہ اور دودھ پیتے معصوم بچے یہ سب مناظر دیکھ کر دل دہل جا رہا ہے،
ایک دن، رات کے تقریباً ڈھائی، تین بجے تھے، جب سات سائیکل سوار ہوٹل کی پارکنگ میں داخل ہوئے اور مغربی جانب پانی کے ٹینک کے پاس جا گرے، میں نے ان ساتوں لوگوں کوچوکیدار کے ذریعے سے بلوایا اوران سے  معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ لوگ سورت سے نکلے ہیں اور چھتیس گڑھ جا رہے ہیں جو ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے، کھانے کے متعلق سوال کیا تو غیرت مند مزدوروں کا سر خاموشی سے جھک گیا، اس خاموشی نے مجھے بہت کچھ سمجھا دیا، اور میں ان کے کھانے پینے کے انتظام میں لگ گیا
  ایک دن شام سات آٹھ بجے دو تین عورتیں دو تین بچے اور نوجوان لڑکیاں پونے سےچھندواڑا کے لمبے سفر پر جا رہی تھیں، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ سب پونے میں کرائے کے مکان میں رہتی تھیں، راشن وغیرہ ختم ہوجانے کے بعد جب کہیں سے کوئی مدد نہیں ملی اور بچے بھوک سے تڑپنے لگے تب انھوں نے اس جان لیوا سفر کا ارادہ کیا، خیر ان کے لئے بھی کھانے پینے کے انتظامات کئے گئے، ایسے بے شمار لوگ سڑکوں پر نکل پڑے ہیں، جن کو منزل کا بھی پتہ نہیں ہے، اور وہ چلتے چلے جا رہے ہیں، ہزاروں کلومیٹر کا سفرسائیکلوں سے بھی طے کیا جا رہا ہے، کہیں کہیں پر نیک دل لوگوں نے ان مسافرین کے کھانے پینے کا انتظام بھی کیا ہوا ہے، لیکن یہ انتظامات  بالکل نا کے برابر ہیں
  ٹرک ڈرائیور جنھیں سماج میں گھٹیا نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ تمام لوگ اس وقت مسیحا بنے ہوئے ہیں، یہ ڈرائیور راستوں میں ان پیدل مسافروں کے کھانے پینے کا خوب دھیان دے رہے ہیں
  پیدل چلنے والوں میں بھوک پیاس کی وجہ سے کئی لوگ اپنی جان بھی دے چکے ہیں، کتنے لوگ پولیس کی لاٹھیوں کا شکار ہو چکے ہیں، پیدل چلنے والوں کے ہاتھ پیر سوج سوج کر ناقابل دید ہو چکے ہیں
  کتنے ہی پیدل چلنے والے مسافر ٹرکوں کے سامنے ہاتھ پیر جوڑے کھڑے ہو جا رہے ہیں کہ پانی پلا دو، کھانا کھلا دو، ساتھ میں لیتے چلو، تیز رفتار ٹرکوں کے سامنے بیٹھ جا رہے ہیں کہ شاید کسی کو ترس آجائے، لیکن ٹرک ڈرائیور حضرات بھی پولیس کی لاٹھیوں کے ڈر سے کسی کو بٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں، البتہ کھانے پینے کا بندوبست کر دے رہے ہیں، صبح سے شام تک ایسے سینکڑوں لوگ سامنے آ رہے ہیں، جن کی آپ بیتی  آنکھوں کو بھگو دے رہی ہے، ایک ایسے شخص سے بھی ملاقات ہوئی جسے قریب چار دن کے بعد کھانا نصیب ہوا تھا، اور ایک شخص نے بتایا کہ ایک ہفتے کے بعد کھانا کھا رہا ہوں
  مزدور طبقے کے حالات نا گفتہ بہ ہیں، وہ گویا اب صرف موت کا انتظار کر رہے ہیں اور موت کو انھوں نے یقینی بنا لیا ہے، وہ پیدل صرف اس لئے چل پڑے ہیں تاکہ جان نکلے تو وطن کے قریب پہنچ کر نکلے
  آٹھ سال، دس سال اور بارہ سال کے بچے تنہا نکل پڑے ہیں، انہیں محسوس ہو گیا ہے کہ اگر کورونا سے بچ بھی گئے تو بھوک مار ڈالے گی، اور جب مرنا ہی مقدر ہو چکا ہے تو اپنے ماں باپ کے قدموں میں جان دینے کے لئے ہزاروں کلومیٹر کا پیدل سفر  آسان ہو چکا ہے
  یہ سارے مناظر میڈیا اور سرکار کی نظروں سے اوجھل ہیں، انہیں یہ سب نہیں دکھائی دے رہا ہے، وہ ابھی تبلیغی جماعت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، ان کے پاس ان بھوکوں کے لئے کوئی پلان نہیں ہے، وہ ابھی مال داروں کے قرض معاف کرنے میں لگے ہیں
  لاک ڈاؤن کب ختم ہوگا، حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے، اس لئے مزدور طبقہ کشمکش میں مبتلا ہے، سواری بند، مزدوری بند، کھانا پینا بند، صرف کالی سڑکیں کھلی ہوئی ہیں، تو مزدوروں نے کالی سڑکوں کا انتخاب کر لیا ہے، ایم پی میں پینتیس کروڑ کے MLA خریدنے کے لئے پیسے تھے، لیکن بھوک سے لڑنے کے لئے کوئی تیاری نہیں ہے، اور عجیب بات ہے کہ الگ الگ طبقے کے رہنما بھی اس زبوں حالی پر خاموش بیٹھے ہیں، سرکار سے نہ سوال کر رہے ہیں نہ ان بھوکے پیاسے مسافروں کی طرف متوجہ کر رہے ہیں، اور بھوک صرف سڑکوں ہی پر نہیں بلکہ گھروں میں بھی تڑپ رہی ہے، وہ MP ، MLA اور گرام پردھان وغیرہ جو ایک ایک ووٹ کے لئے ایک ایک گھر کا دسیوں چکر لگاتے ہیں، آج نہ جانے وہ کہاں غائب ہو گئے ہیں، شراب کےلیے پیسہ پانی کی طرح بہا دینے والے آج کسی بھوکے کا پیٹ بھرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ایک پردھان جو لاکھوں روپئے پردھانی جیتنے کے لیے لٹا دیتا ہے آج پچیس پچاس روپئے کا ماسک تک نہیں بانٹ رہا ہے، پریشانی کے اس عالم میں فرضی  دیش بھکتی کا جنازہ بھی نکلتا ہوا خوب دکھائی دے رہا ہے، اور کئی کئی ملین اور ٹریلین ڈالرز کا خواب دکھانے والی سرکار عوام کا پیٹ نہیں بھر پا رہی ہے، ایک ایک الیکشن میں کئی کئی ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے والے ایک غریب کی بھوک نہیں مٹا پا رہے ہیں، راجستھان کے کوٹہ سے مال داروں کے بچوں کو گھر لانے کے لئے پندرہ سو بسوں کا انتظام کرنے والی سرکار کو کوئی بتا دے کہ یوپی کے کروڑوں لوگ مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کی سڑکوں پر تڑپ رہے ہیں
  اور یاد رکھو! بھوک مٹانا صرف سرکار ہی کی زمہ داری نہیں  ہے، بلکہ ہر بھارتی کی ذمہ داری ہے کہ کوئی ایک بھی بھارتی بھوک سے نہ مرے، ہر شخص اپنے پڑوسی کا خیال کر لے تو بڑی حد تک بھوک کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اپنے اپنے حصے کی روٹیوں میں سے صرف ایک ایک روٹی بھوکے لوگوں کے لئے الگ کریں تب بھی بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا
    یہ چند بے ترتیب جملے شاید کسی کے دل پر اثر کر جائیں، اس لئے لکھ دئے گئے ہیں، باقی حالات کا درد قلم سے صفحات پر اتارنا بہت مشکل ہو رہا ہے، یہ تو صرف محسوس ہی کرنے والی چیز ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.