اپنے روزہ کو معتبر بنائیے

مفتی نظرالاسلام قاسمی الظہیری۔۔مدرسہ نورالعلوم عرفان نگر موریٹھا ۔دربھنگہ ۔ _رابطہ ۔9608720882

0 61

____________________

روزہ مذہب اسلام کے اندر فرض کردہ فرائضوں میں سے ایک فرض ہے لیکن دوسرے فرائض سے یک گونہ فضیلت واہمیت کا اندازہ روزہ کے بارے میں خداتعالیٰ کے اس فرمان سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جتنے بھی فرائض ہیں ان سب کا ثواب اور بدلا دینے کے لئے بندہ کے درمیان فرشتوں کو حائل کیا گیا ہے جب کہ روزہ بھی خدا کے فرض کردہ فرائضوں میں سے ایک فرض ہے لیکن اس کا بدلا اور ثواب کے لئے فرشتوں کو نہیں کہا گیا بلکہ رب نے کہا ۔الصیام لی وانا اجزی بہ ۔۔کہ روزہ خالص میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلا دونگا چونکہ روزہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ریاء کا کوئی دخل ہی نہیں بندہ خالص اللہ کے لئے رکھتا ہے اور خدا ہی کے ڈر سے اپنی تمام تر خواہشات کو ترک کر ڈالتا ہے خواہشات پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے بھوک اور پیاس کی شدت کے عالم میں وہ چاہے تو کھا سکتا ہے وہ چاہے تو پی سکتا ہے لیکن نہیں وہ بندہ ایسا نہیں کرتا اسی وجہ سے روزہ اختصاص کے ساتھ اللہ ہی کے لئے ہوتا ہے اور ماہ رمضان المبارک تو نیکیوں کا فصل اور موسم برسات ہے جس میں رحمت الہی کے خوشگوار جھونکے اور روح پرور ہوائیں چلتی ہیں پورے ماحول پر نورانیت کی چادر لگی رہتی ہے اور سکینت وطمانیت کے بادلوں کاخیمہ ہوتا ہے اور رب کی رحمت و فضل کی کی بارش ہوتی رہتی ہے نیکیوں کی راہیں آسان کردی جاتی ہے اور برائیوں کے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہے جس کی وجہ سے اچھائیوں پر گامزن رہنا اور کوتاہیوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے تو پھر ان تمام تر خوبیوں کے ساتھ ساتھ بندہ کے دلوں سے ریاء نام کی چیز بھی بہت دور ہوجاتی ہے اور پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث جس کو آپ نے شعبان کے آخری روز میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا وہ تو تمام امت مسلمہ کے ذہن و دماغ کو اور زیادہ صاف کر دیا حدیث حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عن سلمان قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في آخر يوم من شعبان فقال : أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم شهر مبارك شهر فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله صيامه فريضة و قيام ليله تطوعا من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه و من أدى فيه فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر و الصبر ثوابه الجنة و شهر المواساة و شهر يزداد فيه رزق المؤمن من فطر فيه صائما كان مغفرة لذنوبه و عتق رقبته من النار و كان له مثل أجره منغير أن ينتقص من أجره شيء قالوا ليس كلنا نجد ما يفطر الصائم فقال : يعطي الله هذا الثواب من فطر صائما على تمرة أو شربة ماء أو مذقة لبن و هو شهر أوله رحمة و أوسطه مغفرة و آخره عتق من النار من خفف عن مملوكه غفر الله له و أعتقه من النار و استكثروا فيه من أربع خصال : خصلتين ترضون بهما ربكم و خصلتين لا غنى بكم عنهما فأما الخصلتان اللتان ترضون بهما ربكم فشهادة أن لا إله إلا الله و تستغفرونه و أما اللتان لا غنى بكم عنهما فتسألون الله الجنة و تعوذون به من النار و من أشبع فيه صائما سقاه الله من حوضي شربة لا يظمأ حتى يدخل الجنة (صحيح ابن خزيمة 3\191).
رسولؐ نے شعبان کے آخری روز میں خطبہ دےتے ہوئے فرمایا اے لوگوں تمہارے اوپر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے اس مبارک مہینے کی ایک رات ۔شب قدر ۔ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس کے روزے اللہ نے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہِ خداوندی میں کھڑے ہونے کو نفل عبادت مقرر کیا ہے جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے کوئی غیر فرض عبادت یعنی سنت اور نفل ادا کرے گا تو اس کو دوسرے دنوں میں ادا کئے گئے فرضوں کے برابر ثواب ملے گا اور اس ماہ میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانہ کے ستر فرضوں کے برابر ثواب ملے گا اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلا جنت ہے یہ غمخوار ی اور ہمدردی کا مہینہ ہے اور اس مہینہ میں مومن کے رزق میں اضافہ کیا جاتاہے جس نے کسی روزہ دار کا اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے روزہ افطار کرایا تو یہ اس کی گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا اور اس سے روزہ دار کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یارسول اللہ ہم میں سے ہر ایک کو بوجہ غربت افطار کرانے کا سامان حاصل نہیں ہوتا تو کیا ہم غرباء اس ثواب سے محروم رہینگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دیگا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی یاصرف پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی کا روزہ افطار کرادے اور جو کوئی کسی روزہ دار کا پورا کھا نا کھلا دے اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض کوثر سے سیراب کریں گے جس کے بعد جنت میں داخلے تک اسے پیاس نہیں لگے گی اور اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی اور جو کوئی اس ماہ میں اپنے خادم یا لونڈی کے کام میں تخفیف کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائیں گے اور اسے دوزخ سے آزادی دیں گے ۔لیکن ہر شخص کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ان تمام تر فضیلتوں اور خوبیوں کا حقدار وہی بندہ ہوگا جو روزہ کو تمام منکرات سے بچ بچا کر گذاردے اس لئے کہ روزہ صرف اور صرف بھوک پیاس کا نام نہیں ہے بلکہ پیٹ کے روزہ کے ساتھ ساتھ زبان کا بھی روزہ رہے آنکھ کا بھی روزہ رہے ہاتھ کا بھی روزہ رہے پاؤں کا بھی روزہ رہے کان کا بھی روزہ رہے تب جاکر وہ روزہ عنداللہ مقبول ہوگا ہمارا آدھا سے زیادہ سماج روزہ تو رکھ لیتے ہیں لیکن اس کو بامقصد نہیں بنا پاتے اور روزہ اسی وقت بامعنی ہوگاجب کہ تمام تر معصیات سے بچا جائے نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کو ایسے روزہ کی ضرورت بھی نہیں ہے اور صرف بھوک پیاس کی شدت برداشت کرلینے سے ہمارا روزہ کبھی بھی مقبول نہیں ہوسکتا ۔حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بحالت روزہ جھوٹ بولنا اور برے عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کھانا چھوڑ دے اس حدیث سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کے اگر ہم روزہ رکھ کر سوائے کھانا پینا چھوڑ کر اور کوئی بھی شے سے نہ رکے ارو اپنی زندگی میں تبدیلی نہ لاسکے تو خدا کو ایسے روزے کی کوئی پرواہ نہیں ہے اس لئے ہم اپنے روزہ کو معتبر بنائے اور جتنے بھی مبطلات روزہ ہیں ان سب سے دور بھاگیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.