یادوں کا عکس آئینہ ادراک میں ہے

0 82

ازقلم۔ کالسیکر زکریا ۔داپولی کوکن

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
کسی بھی انسان کی عظمت کا اندازہ ہمیں تاریخ کے مطالعہ سے ہوتا ہے تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جن کی زندگی کا مقصد آرام و آسائش کے بجائے قوموں کو سنوار نا ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک عظیم شخصیت محترم سید سر تھے۔ جنہوں نے اپنی بے لوث خدمات اور انتھک محنت و كاوشوں کے ذریعے قوموں کی تعمیر میں اہم کردار نبھایا۔ آپ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
جناب سید شبیر احمد ایسی ادبی شخصیت کا مجسم نمونہ ہیں جنہوں نے نہ جانے کتنے پتھروں کو تراش کر ہیرا بنا دیا۔ ان کے تراشے هوۓ ہیروں کی چمک دھمک سے مہاراشٹر کے کونے کونے روشن ہیں۔ جس طرح آفتاب اپنی چمک دمک اور تمازت کے لیے مشہور ہے۔ جس طرح قوس قزح اپنی یکجہتی کا خاموش پیغام سناتی ہے۔ جس طرح گلشن اپنی مہکتی فضاؤں سے محفل کو معطر کر دیتا ہے ۔ان تمام صلاحیتوں کا مجسم نمونہ محترم سید شبیر احمد صاحب تھے۔ موصوف کی ادبی سماجی کاوشوں کو قلمبند کرنا سمندر کو کوزے میں سمیٹنے کے مصداق کے ہیں۔ محترم سید شبیر احمد صاحب نے اپنی زندگی کے۳۵سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان پیتیس سالوں میں اپنے تجربات کی بنیاد پر بہترین استاد، بےمثال ہیڈ ماسٹر ،باوقار ایڈمنسٹریٹو آفیسر اور ایک ماہر ایجوکیشنل کونسلر کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں۔
محترم سید شبیر احمد کی پیدائش 24 نومبر 1954 کو کولا پور میں ہوئیں۔اپنی ابتدائی تعلیم انجمن خیرالاسلام اردو هائی اسكول و جونیئر كالج سے 1969 میں مکمل کیں۔ اسی ادارے سے 1973 میں ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے لیے پونے کا رخ کیا۔ پونہ یونیورسٹی سے آپ نے 1986میں ماسٹر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کیں۔اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھتے ہوئے آپ نےبی ایڈ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈی ایس ایم کا کورس کیا- آپ بچپن ہی سے کافی ذہین طالب علم رہے۔ آپ ہمیشہ اپنا قیمتی وقت عبادت کرنے اور مطالعہ کرنے میں گزار تے تھے۔ اپنے تعلیمی سفر میں کبھی آپ نے مشکلات کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا۔
# ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو
ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے
جمیلہ عارف فضلانی اردو ڈی ایڈ کالج كونڈوه میں جب اپنے تدریسی خدمات کی شروعات کیں تو انکے مشفقانہ رویّہ اور نظم و ضبط پر مضبوط گرفت دیکھتے ہوئے آپ كو پرنسپل کے عہدے پرسرفرازکیاگیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے بہت ہی کم عرصہ میں آپ نے اس ادارے کو ترقی کی طرف گامزن کیا۔ آپ ہی کے دور میں اردو ڈیڈ کالج،مراٹھی ڈیڈ کالج ، بی ایڈ کالج کا آغاز کیا گیا ۔آپ نے ان اداروں میں نظم و ضبط کا ایسا نظام بنایا تھا جس میں سمندر سے گہری خاموشی تھی۔ جس کی فضا بھی امن و شانتی کا پیغام دیتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے پہاڑوں کے پرسکون دامن میں تعلیم حاصل کر رہے ہو۔
ان پہاڑوں کے دامن میں ان کی گونجتی هوئی آواز اخلاق و تربیت کا درس دیتی تھی۔وہ اپنے شاگردوں میں تمام صلاحیتیں اس طرح بھر دیتے تھے جیسے آفتاب سے مخاطب هو كر کہہ رہے ہو
اے آفتاب تو اپنی شعاعوں کو گن كے رکھ دے
ہم بھی اپنے میدان کے ذروں کو چمکانا سکھا رہے ہیں۔
ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے ملک کی کئ تنظیموں نے انہیں ادبی ایوارڈ سے نوازا ۔اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی اس انداز میں کیا کرتے تھے جب بھی میرا شاگرد دنیا کے کسی کونے میں جائے گا سکّوں کی طرح کھنکتا ہوا نظر آئے گا اور یہ بات آج فیصد درست ثابت ہو رہی ہے۔ آج ان کے ہونہار شاگرد تدریسی فرائض اور مختلف ادبی ادارے قائم کرکے سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں.
آخرکار 1 مئی بروز جمعہ 2020 کی رات کو اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ایک بہترین استاد ،پرنسپل ،اسکالر تمام طلبہ کے دلوں پر راج کرنے والی شخصیت اس دار فانی سے کوچ کر گئ ۔ میں اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اہل خانہ اور طلباء و طالبات کو صبر جمیل عطا کرے۔ مرحوم کی دینی ،تعلیمی اورسماجی خدمات کو قبول فرمائے۔ مرحوم کی قبر پر رحمت و رضوان کی پھولوں کی بارش فرمائے۔آمین ثم آمین۔
آج بھی ہمارے دلوں میں انکی یادیں تروتازہ ہے ۔
یہی نہیں کہ وہ سب سے جدا سا لگتا تھا عجیب شخص تھا ہر دم نیا سا لگتا تھا
از قلم۔ زکریا کالسیکر ۔داپولی کوکن

Leave A Reply

Your email address will not be published.