وہ جو دل نواز تھا، وہ تو چلا گیا

0 105

مت سہل ہمیں جانو! پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردےسے انسان نکلتے ہیں۔
دنیا میں کچھ تاریخ ساز شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جو نا صرف اپنی تعلیمی،سماجی، سیاسی و مذہبی کارناموں اور عظیم خدمات کے ذریعے سماج اور ملک میں اپنا مقام پیدا کرتی ہیں بلکہ تاریخ میں اپنے انجام دیئے گئے کارناموں اور کاوشوں کی بدولت ہمیشہ کے لئے اپنا نام جعلی حروف میں درج کرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک عظیم شخصیت نوید عبدالرحمن انتولے تھے۔
نوید عبدالرحمن انتولے مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی اور مرکزی وزیر المرحوم بیرسٹر عبدالرحمن انتولے کے فرزند تھے. نویدانتولے کو خدمت خلق کا جذبہ اپنے والد سے وراثت میں ملا تھا. غریبوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنا اور عام لوگوں کی تکالیف دور کرنا ان کی زندگی کا مقصد رہا۔ انہی خدمات کے سبب بہت ہی کم عرصے میں عوام میں کافی مشہور و معروف شخصیت بن گئے تھے.
2018میں نوید انتولے نے وزیراعلیٰ اور شیو سینا کے لیڈر ادھو ٹھاکرے کی موجودگی میں شیو سینا میں شمولیت اختیار کی تھی اور خطهءكوکن میں عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں سرگرم ہوگئے تھے. اپنے سیاسی دور کا آغاز اپنے گاؤں سے کیا. اور اپنی پارٹی کو بھاری اکثریت سے گاؤں کی پنچایت الیکشن میں جیت دلائیں۔ حال ہی میں ودھان سبھا الیکشن میں شیوسینا کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا. نوید انتولے سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ ضلع رائے گڈھ کے مروڈ جنجیرہ میں واقع وسنت راؤ کالج آرٹس اینڈ کامرس کے ایڈ منسٹریٹر بھی تھے۔
بیرسٹر اے آر انتولے کی وفات کے بعد سرزمیں کو کن میں مایهء ناذ سیاسی شخصیت کی کمی محسوس ہونے لگی تھی ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ اس کمی کو پورا کرنے میں نوید انتولے کافی حد تک کامیاب هو رهے تھے کہ28 اپریل 2020 کو اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے نوید انتولے صاحب اس دار فانی سے کوچ کر گئے. پورے کوکن میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور اس خبر پر کوئی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں تھاکیونکہ یہ خبر نا قابلِ یقین تھی. نوید بھائی انتولے بہت ہی صاف دل اور سخی انسان تھے.
موصولہ اطلاعات کے مطابق انہیں دل کا دورہ پڑا تو فوری طور پر ان کی رہائش کے نزدیک منترا لئے سے قریب ہی واقع سیفی ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہنچنے سے قبل ان کی روح پرواز کرکے اپنے مالک حقیقی سے جاملی. نوید انتولے صاحب کی ناگہانی وفات پرحلقهءكوكن کی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے اپنے تعزیتی پیغام میں دکھ کا اظہار کیا اور ان کے اس طرح اچانک دنیا سےچلے جانے کوشیوسینا پارٹی کا بڑا نقصان قرار دیا۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ شیوسینا نے ایک نوجوان لیڈر کو کھودیا۔
اپنی مختصر زندگی میں انہوں نے عوام کو یہ پیغام دیا کہ
# ہزاروں برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
میں اللّٰہ سبحان و تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ ان کی مغفرت فرمائے،جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین
از قلم:کالسیکر زکریا ۔ داپولی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.