ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کا بیان

0 70

کل ، 28 اپریل  2020 کومیں نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ جاری کیا   جس پر مجھے کوئی اضافہ نہیں کرنا ہے  ۔  ذرائع ابلاغ کو اس ٹویٹ میں کسی اضافے کا حق نہیں ہے۔ یہ ٹویٹ اس  تناظر میں تھاکہ ہمارے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جا رہاہے ، چاہے وہ لنچنگ ہو یا فسادات یا میڈیا کے  حملے یا مسلمانوں کے مسائل  حل کرنے کے بارے میں سیاسی اور ادارہ جاتی  رویے ۔

 میں نے کبھی بھی اپنے ملک کے خلاف کسی غیر ملکی حکومت یا تنظیم سے شکایت نہیں کی ہے اور نہ ہی میں مستقبل میں ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میں ایک  محب وطن ہوں اور میں نے ہمیشہ بیرون ملکوں میں اپنے ملک کا دفاع کیا ہے۔ ملک کے اندر  میں نے ہمیشہ مسائل کے بارے میں آواز اٹھائی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں کسی بھی دوسرے ملک کی طرح مسائل موجود ہیں لیکن ہم اور ہمارا سیاسی ، آئینی اور عدالتی نظام ان سے نمٹنے کے قابل  ہے۔

 

میں نے ہمیشہ ہی عربی میڈیا اور الجزیرہ جیسے چینلز پر اپنے ملک کا دفاع کیا ہے ۔ کارگل جنگ کے دوران ہندوستان کا  میرا  دفاع آج  بھی عرب دنیا میں بہت سے لوگوں کو یاد ہے۔ جب کویت کے المجتمع میگزین نے برسوں قبل مجھ سے کشمیر کے بارے میں ہندوستانی مسلمانوں کے نقطۂ نظر کے بارے میں لکھنے کو کہا تو   ایڈیٹر صاحب  یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ میں نے ہندوستانی موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی مسلمان ہندوستان سے کشمیر کی  علیحدگی کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ یہ مضمون پاکستان  کے  ایک شخص کے  جواب  کے ساتھ شائع ہوا تھا اور یہ آخری بار تھا جب میں نے اس میگزین کے لئے کچھ لکھا تھا۔ میرے علم کے مطابق ، ہندوستانی مسلمانوں نے عرب اور مسلم دنیا میں اپنے ملک کے خلاف بیرونی طاقتوں سے کبھی شکایت نہیں کی۔ میں  اور دوسرے ہندوستانی مسلمان قانون کی حکمرانی ، ہندوستانی آئین اور ہمارے ملک کے عظیم اداروں پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے عام آدمی پارٹی (آپ) اور دہلی حکومت پر حملہ کرنا شروع کردیا ہے گویا وہ میرے ٹویٹ کے ذمہ دار ہیں۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں آپ کا ممبر نہ   تھا  اور نہ ہی ہوں  ۔  وہ  جس کمیشن کی میں سربراہی کرتا ہوں وہ ایک قانونی اور خود مختار ادارہ ہے جو دہلی اقلیتی کمیشن ایکٹ 1999 کے تحت چلتا ہے۔ آپ یا دہلی میں اس کی حکومت کمیشن نہیں چلاتی ہے ۔ کمیشن  خود اپنے کام کے لئے جوابدہ ہے۔ میں اس موقع  پر میڈیا کے  علم میں لانا چاہتا  ہوں کہ کل ، جس دن میری ٹویٹ سامنے آئی ، ریاستہائے متحدہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے  کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ  ہندوستان  کی مذہبی آزادیوں  میں بہت تیزی سے خرابی آئی  ہے  اور حکومت نے مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں  کوہراساں کرنے اور ان کے خلاف  تشدد کی مہمات جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ میں ہندوتوادیوں  اور ان کے گودی  میڈیا کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بین الاقوامی کمیشن کے اس سنگین الزام کا نوٹس لیں۔ میرے خیالات کو بعض الیکٹرانک چینلوں نے  بگاڑ کر پیش کیا ہے  اور میر طرف غلط باتوں کو منسوب کیا ہے ۔  مین ان کے خلاف مناسب قانونی اقدام کروں گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.