غزل

0 34

 

نگاہ۔یار میں دیکھوں در و دیوار میں دیکھوں
کبھی خوابوں میں جی لوں میں کبھی گھر بار میں دیکھوں
کبھی وہ روبہ رو آئیں مرا پھر حال وہ پوچھیں
کبھی میں دھڑکنیں تھاموں کبھی اغیار میں دیکھوں
کبھی تو مےکدے آکر مرے ہمدم مجھے ڈھونڈھو
کہ کیسے لب پہ آتا ہے مرے انکار میں دیکھوں
کبھی تو آکے اس دل کو ارادہ اپنا سمجھاؤ
کہ منظر کیوں سجاؤں خواب کیوں بیکار میں دیکھوں
اگر احساس۔غم خواری مجھے بھی راس آ جائے
تو جینے مرنے کا دنیا میں کچھ ویاپار میں دیکھوں
سر۔محفل نظر بھر کے وہ اسکا دیکھنا مجھ کو
تو خود کو آئینے میں کیوں نہ سو سو بار میں دیکھوں
ہوا دشوار اب میرا بھی چلنا ساتھ دنیا کے
کہ بس چپ چاپ بیٹھے وقت کی رفتار میں دیکھوں
کبھی ذکر۔وفا بزم۔سخن میں وہ بیان۔عشق
سنورتا خود کا اس کی نظروں میں کردار میں دیکھوں
تکے ہے راہ میری بھی کوئی ہے منتظر میرا
کہ اپنی قبر بلآخر یہاں تیار میں دیکھوں.

۔ڈاکٹر دویا جین
نئ دہلی.

Leave A Reply

Your email address will not be published.