حشر بپا ہے!

0 30

 

ماہ دسمبر میں جب پورے ملک میں شہریت ترممیی بل کی مخالفت میں احتجاج کی ایک آندھی چل رہی تھی. خبر ملی کہ چین میں ایک کورونا نامی وباء پھیلی ہے جس کے سبب ہزاروں اموات ہورہی ہیں. خبر سننا. کچھ دیر افسوس کرنا پھر بھول جانا ہماری عادت ہے. ہم نے اس خبر کو بھی اہمیت نہ دی. اور یوں بھی اپنے ہی ملک میں ہمیں اجنبی ثابت کرنے کی سازشوں سے نبردآزما تھے ۔ اور کسی بات کا ہوش ہی نہ تھا ۔

دن گزرتے گئے. چین سے اٹلی اور پھر امریکہ میں وباء پھیلتی گئی. سعودی ممالک نے دوراندیشی کا مظاہرہ کیا. عمرہ کے سفر پر پابندی عائد کردی گئی. زائرین مایوس ہوگئے. پھر حرم شریف اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری پر بھی پابندی عائد کردی گئی. عالم اسلام میں بے چینی پھیل گئی. مگر حکومت ہند چین کی بانسری بجاتی رہی. اس نے بیرونی پروازیں معطل نہیں کیں. سیکڑوں سیاح ہندوستان آتے اور جاتے رہے. !

مارچ کے پہلے ہفتے میں کورونا سے متاثرہ مریض کا پتہ چلا. اور پھر بھی دو ہفتوں تک حکومت بیدار نہ ہوئی. 14 مارچ کو کچھ ریاستوں میں اسکول کالجس بند کئے گئے ایک ہفتہ اور بیت گیا اور 22 مارچ کو وزیر اعظم نے جنتا کرفیو کا تجربہ کیا اور دوسرے دن سے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا…!
ساری دنیا کے لوگ آکر وائرس پھیلا کر چلے گئے تب انہیں لاک ڈاؤن کی سوجھی!

اب پچھتائے کیا ہوت
جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

اپنی لاپرواہیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل آوری کے احکامات نافذ کئے گئے

لاک ڈاؤن کی تدبیر انڈیا میں کارگر نہیں ہوسکتی . یہاں کے عوام کا مزاج، ماحول، معاشرتی قید وبند برداشت نہیں کرسکتا ۔ یہاں سکھ دکھ سانجھے ہیں ۔ لوگ ایکدوسرے سے کٹ کر نہیں جی سکتے ۔یہاں عوام کو گھروں میں رہنے کی تاکید کرنا ایسا لگ رہا ہے جیسے ان پر ظلم کیا جارہا ہو.! یہاں لوگوں کا کھانا ہضم نہیں ہوتا جب تک کہ وہ د وسروں کی سن گن نہ لے لیں. چاہے مرد ہوں یا خواتین ، ضعیف ہوں یا بچے. یہاں کوئی بھی گھر میں رہنا پسند نہیں کرتا. وائرس کا خوف اپنی جگہ مگر یہ قید تنہائی انہیں منظور نہیں!

حکومت خواہ مخواہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرکے یومیہ مزدوری کرنے والوں کو بھوک سے مارنے پر تلی ہوئی ہے. ! کوئی امداد انہیں پیٹ بھر کر دووقت کا کھانا میسر نہیں کروا سکتی! انکے بچے بھوک سے بلبلا رہے ہیں. انہیں سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کیوں اپنا پیٹ بھرنے سے قاصر ہیں ؟ کیا ہے یہ کورونا ؟ کہاں ہے ؟ کیا بھوک سے زیادہ مہلک ہے ؟ گھر سے باہر وائرس کا خوف ہے اور گھر کے اندر بھوک کی تڑپ! موت تو ادھر بھی منڈلا رہی ہے اور ادھر بھی. ! کریں تو کیا کریں ؟ ایک طرف کنواں ایک طرف کھائی والا معاملہ ہے. نہ جانے کب تک اس دار پہ لٹکتے رہنا ہے!

اور متوسط طبقے کا تو اور بھی برا حال ہے. وہ نہ تو ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی انکی ضرورتوں کو سمجھنے والا ہے. ہزار ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر جو رقم پس انداز کی تھی وہ اس لاک ڈاؤن کی نذر ہورہی ہے. اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں. اور وہ مجبور ہیں کہ پیٹ کا دوزخ تو ہر حال میں بھرنا ہی ہے.

خواتین کا براحال ہے. مرد حضرات کے گھروں سے جانے کے بعد کچھ فرصت کے پل میسر ہوتے تھے اب ان سے بھی محروم ہیں. احتیاطاً ملازماؤں کو چھٹی دے دی گئی ہے تو کام کو بوجھ اور بڑھ گیا ہے. اور مرد جب گھر میں بیٹھا ہوتا ہے اور بے کار ہوتا ہے تو اسے نت نئی فرمائشیں سوجھتی ہیں. اب تو ہوٹلس بھی بند ہیں اور سب کچھ خواتین کو بنانا پڑتا ہے. لاک ڈاؤن انکی کمر توڑ رہا ہے. ایک سماجی سروے کی رپورٹ ہے کہ لاک ڈاؤن میں خانگی جبر اور گھریلو تشدد کے واقعات میں بڑا اضافہ ہوا ہے.

نوجوان موبائیل تھامے ہوئے کہ وقت گزاری کا واحد مشغلہ یہی رہ گیا ہے، بچے امتحانات ملتوی ہونے پر خوشی سے پھولے نہیں سمارہے ہیں، بے فکری سے ٹی وی کارٹونس اور موبائلس پر گیمس میں مشغول ہیں . ایک عجیب سا پرشور ماحول ….. پولیس کے سائرن کی آوازیں اس ماحول کو اور وحشت ناک کردیتی ہیں. متاثرہ اور فوت شدہ کی تعداد جاننے کی بے چینی…. کون نیگیٹیگو ہے کون پازیٹیو ہے ؟ کون بچا کون مرا؟ بس سب کی زبانوں پر یہی سوالات مچل رہے ہیں ۔!ایسا لگ رہا ہے جیسے ایک حشر سا بپا ہے. !

کورونا کا عذاب اپنی جگہ مگر شب وروز جن عذابوں سے گزر رہے ہیں انکا شمار بھی نہیں کیا جاسکتا!!!

اذان کی آوازوں سے محروم سماعتیں ،مساجد ویران ، جمعہ کی فضیلتوں سے محروم ملت ، مقدس راتوں کی عبادات حتی کہ قبرستان جانے کی بھی ممانعت اور اب ممکن ہے کہ رمضان کے شب وروز بھی اسی لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں گزریں….

غرض کہ خانگی، ملی، معاشرتی، معاشی، ملکی ہر سطح پر حالات خراب ہیں اور اس پر ستم یہ کہ لاک ڈاؤن کی فرصتوں میں جب پریشانیوں کے باوجود لوگ خود کو منہمک رکھنے اور وقت گزاری کرنے میں مگن ہیں ایسے میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشیل میڈیا پر مسلسل زہر افشانی ڈیپریشن میں مبتلا کررہی ہے.

"اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں
روز اک موت نئے طرز کی ایجاد کرے ”

کے مصداق ذہنی طور پر ہلاک کرنے کی سازشیں عروج پر ہیں. دنیا قبرستانوں میں تبدیل ہورہی ہے اور یہاں فرقہ پرستی کے ناگ پھن پھیلائے بیٹھے ہیں!

*رخسانہ نازنین*
*بیدر*
کرناٹک

Leave A Reply

Your email address will not be published.