آہ استاد محترم شیخ الحدیث مولانا وسیم احمد صاحب

0 29

(مفتی عبدالله.خالد شیخ الحدیث وپرنسپل مدرسہ عزیزیہ. بہار شریف ضلع نالندہ (بہار)
_________________________________
غالباً ۱۹۷۲ء اور۱۳۹۲ھج کے ماہ شوال المکرم کی بات ہےکہ میں بہار سے روانہ ہوکر مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپور داخلہ کے ارادہ سےحاضر ہوا ـ مدرسہ مظایرعلوم پہونچنے پرمعلوم یوا کہ یہاں توداخلہ بند ہوچکا ہے چنانچہ رائے مشورہ کے بعد فیصلہ ہوا کہ قاری شریف احمد ص کےمدرسہ میں جسکا نام اُس وقت مدرسہ اشرف العلوم گنگوہ تھا داخلہ کی کوشش کیاجائے ـ میں گنگوہ پہونچا داخلہ فارم پر کیا داخلہ امتحان ہوا اور میرا داخلہ عربی دوم یعنی کافیہ قدوری وغیرہ میں ہوا اور چند دنوں بعد پڑھائی شروع ہوگئی ـ عربی درجات میں اساتذہ تو کئی تھے مثلاً مولانافیاض احمد مولانا وسیم احمد مولاناسراج الحق مولانا شمس الدین مولانا قاری شریف احمد اور پھردو تین سال بعد مولانا رئیس احمد مفتی محمد عمران مولانامحمد انور ص کی.تقرر یاں ہوئیں اور ان سب سے مجھکو شرف تلمذ حاصل ہوا مگر اُس وقت مدرسہ اشرف العلوم گنگوہ میں دواساتذہ بہت ہی معروف ومشہور تھے اور ان دونوں کی طوطی بولتی تھی اور ان دونوں اساتذہ کی وجہ سے دارالعلوم اور مظاہرعلوم کے بعد اس دیار میں تعلیم کے معاملہ میں یہ مدرسہ نہایت نیک نام تھا اور طلبا کا رجوع اسکی جانب بکثرت تھا وہ دو اساتذہ تھے معقولات میں مولانا فیاض احمد ص (جو فی الحال مدرسہ عین العلوم پھولپور الہ آباد کے بانی ومہتمم کے طورپر مستقل شاندار ادارہ چلارہے ہیں)اور منقولات میں حضرت مولانا وسیم احمد ص سنسارپوری نورالله مرقدہ آپکی ولادت باسعادت سن ۱۹۵۲ میں آبائی گاؤں سنسارپور میں ہوئی آپ ابتداء عمر سے ہی سنجیدگی و متانت کے حامل تھےآپ کی ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے ادارہ مدرسہ فیض رحمانی سنسارپور میں ہوئی اسی وقت والدین نے آپکی سنجیدگی اور آپکی ذہانت وقوت حافظہ اور اپنی دینی حمیت اور اسلامی جذبہ کی وجہ سے دینی تعلیم میں لگانے کا فیصلہ کیا ـ چنانچہ آپکا داخلہ مدرسہ اشرف العلوم گنگوہ میں کرادیاگیا ـ آپ نے یہاں اردو فارسی اورابتدائی عربی کی کتب میزان سے شرح جامی بحث فعل تک پڑھا پھر سن 1964 میں مدرسہ مظاہرعلوم سہارن پور میں داخلہ لیا اور شرح جامی بحث اسم کنزالدقائق شرح تہذیب وغیرہ کتب ملیں مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور میں سن 1970 مطابق ۱۳۹۰ میں دورہ حدیث کرکے اول درجہ میں فراغت حاصل کی قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب قدس سرہ نے آنکھوں میں نزول آب کی وجہ سے سن 1968 مطابق 1388 سے ہی بخاری شریف کا درس دینے سے معذرت فرماکر بخاری شریف کا درس اہنے لائق وفائق شاگرد حضرت مولانا محمد یونس ص کے حوالہ.کردیا تھا چنانچہ مولانا موصوف نے بخاری شریف حضرت مولانا محمد یونس ص سے پڑھی اور مولانا شیخ یونس ص کے طرزتدریس اور محدثانہ شان سے نہایت متاثر تھے آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا اسعدالله ص ناظم مدرسہ مظاہرعلوم، مفتی مظفر حسین صاحب مولانا محمد الله ص جیسے اکابر اساتذہ شامل ہیں مدرسہ مظاہرعلوم سہارن پور سے فراغت کے بعد ہونہار شاگرد کو قدرداں استاد یعنی قاری شریف احمد صاحب نے اپنے ادارہ مدرسہ اشرف العلوم گنگوہ کےلیئے منتخب فرمالیا اور ہونہارشاگرد بھی اپنے استاد کی بات کو ٹال نہیں سکے اور مدرسہ اشرف العلوم گنگوہ جو اب جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ کے نام سے مشہور ہے میں ایسا تشریف لائے اور استاد کے حکم کی ایسی قدردانی کیا کہ استاد نے جس جگہ پر بٹھایا تھا وہاں سے جب تک جسم میں روح باقی تھی علیحدہ نہیں ہوئے موت ہی نے وہاں سے جدا کیا,جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ میں آپ کی تقرری غالباً 71-1970 میں ہوئی اور بندہ نے یہاں 1972 میں داخلہ لیا ـ مولانا موصوف اس وقت کم عمر نوجوان تھے پیشانی چوڑی، چہرہ بھرا بھرا رنگ صاف گندم گوں بدن نہ تو بالکل نحیف وکمزور نہ ہی بے ڈھب بلکہ بھرا ہوا بدن آواز ترنم آمیز ڈاڑھی بھی ہلکی ہلکی ہی آئی تھی رعب چہرہ سے ہویدا تھا درس دینا شروع فرماتے تو محسوس ہوتا کہ پھول جھڑ رہے ہیں تقریر نہایت متانت وسنجیدگی کے ساتھ مسلسل بغیر تکرارو توقف کے ہوتی اسمائے رجال پر اچھی اور دقیق نظر تھی انکی.تقریر اور درس میں محدث عصر امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت مولانا محمد یونس ص قدس سرہ.کی جھلک نظر آتی تھی یہ بات میں تقریباً.45-40سال قبل کی کہ رہا ہوں
جب میں نے ان سے مشکوۃ شریف جلد.ثانی1976 میں پڑھا تھا ـ اس وقت سے تا ہنوز وہ حدیث کے درس سے متعلق رہے اور مختلف سالوں میں حدیث کی مختلف کتابیں زیردرس رہیں ظاہر ہے کہ 45-40 سال میں حضرت مولانا درس حدیث میں کتنا منجھ گئے ہونگے اسکا تصور بھی مشکل ہے اسکو انشاءاللہ حضرت کے کوئی حال فی الحال کے شاگرد ضرور سپرد قلم کرکے انکی خدمات سے لوگوں کو روشناس کرانے کی کوشش کرینگے ـ جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ میں پہلے جلالین تک درس ہوا کرتا تھا سن 1976 سے موقوف علیہ کے درس کی ابتدا ہوئی جس کا افتتاح قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نوراللہ مرقدہ نے کرایا اور موقوف علیہ کی پہلی جماعت میری ہی تھی جس میں غالبا12-10 طلبا تھے اور پھر غالباً سن 1984 سے دورہ حدیث کادرس بھی شروع ہوگیا اور بخاری شریف پڑھانے کی خدمت استاد مکرم حضرت مولانا وسیم احمد صاحب کے سپرد ہوئی اور تادم آخر اس خدمت کو باحسن وجوہ انجام دیتے رہےادھر کچھ عرصہ سے حضرت گناں گون امراض کے شکار ہو گئے تھے آخر کار ۱۱ اپریل سن ۲۰۲۰ مطابق 16 شعبان المعظم 1441 کو شب میں ۸.۳۵ بجے یہ علم وعمل کا درخشندہ آفتاب غروب ہو گیا اللہم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منہا اناللہ وانا الیہ راجعون
اللھم اغفرلہ وارحمہ وکفرعنہ سیئاتہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ واغسلہ باالماء والثلج والبرد ونقہ من الذنوب والخطایا کما ینق الثوب الابیض من الدنس واجعل قبرہ روضۃ من ریاض الجنۃ وارفع درجتہ فی المہدیین واخلفہ فی عقبہ فی الغابرین اللھم انزلہ منزلا مبارکا وانت خیر المنزلین واجعلہ مع الذین انعمت علیھم من النبیین والصدیقین والشھداءوالصلحین آمین یا رب العلمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.