سنگھیوں کا چرترء کھل کر سامنے آرہا ہے 

            نقاش نائطی
      +966504950485
ویسے تو وشو ھندو پریشد کے سابق سربراہ پروین توگڑیا اور کرناٹک رام سینا کے صدر  پرمود متھالک کی کالی زبان سے نفرت کا زہر جو زمانے سے بھارتی فضا میں جھڑتا تھا، اس پر میڈیا کی نظر کم ہی جاتی تھی لیکن ایم آئی ایم  کے اکبر اویسی  کی زبان پھسل کر، کچھ وقفے کے لئے پولیس کو ہٹانے پر،دیش دشمنوں کوسبق سکھانے کی بات انہوں نے کیاکہہ دی کہ نہ صرف اکبر اویسی کو پابند سلاسل ہونا پڑا بلکہ ایک لمبی قانونی جنگ لڑنی بھی پڑ رہی ہے، پھر بھی  مسلسل ایک لمبے عرصے تک دیش کی الیکٹرونک میڈیا، اکبرالدین  اوئسی کےمیڈیا ٹرائل کے بہانے، انکا چرترء ہرن کرتےرہے۔ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کئی دہوں تک سبھیتا اور  اقدار کا، دوسروں کوپاٹھ پڑھانے والی، بی جے پی، کچھ سالہ دہلی، اپنے اقتدار کے نشے میں، جب  اپنے سابق اثاثی بڑے سیاسی لیڈر،  سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کے اصول و اخلاق کو درکنار کر،اپنے اصلی چرترء کو، اپنے بڑبولے بیانوں سے دیش کی کروڑوں  عام جنتا کو دکھا اور درشا رہی ہے۔ اپنے چال چرترء اور مکروہ چہرہ سے کروڑوں دیش واسیوں کو متعارف کروا رہی ہے۔ تو ایسے میں، دیش کی مین آسٹریم الیکٹرونک میڈیا،اپنے سنگھی آقاؤں کے اشاروں پر،نہ صرف اس سمت خاموش رہتی ہے، بلکہ غیر ضروری دیگر مسائل پر، اپنے اینکروں کی معرفت، میڈیا پر خصوصی طور  بلائے گئے مہمانوں سے، ایسے ایڑھے تیڑھے سوالات کرتے ہوئے، دیش میں مذہبی منافرت بھڑکانے میں مشغول لگتی ہے
ستیہ ھندی ڈاٹ کام کے “آسوتوش کی بات” پروگرام میں،بھارتیہ جنتا پارٹی کے دھمکی بھرے، بھڑکیلے،بڑے بول،  دیش بھر میں شہری ترمیمی قانون  پر عوامی غم وغصہ  کا جو اظہار  ہورہا ہے اس سے پریشان حال بی جے پی، کیا ایسے ایڑھے تیڑھے بیانات دے رہی ہے؟ یا اصل میں انکا چرترء ہی، اب وقفے وقفے سے کھل کر دیش کی جنتا کے سامنے آرہا ہے؟ جیسے جیسے بھارت کے مختلف حصوں میں عوامی احتجاج بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے سنگھیوں کی اصلیت اور ان کا مکروہ چہرہ دیش واسیوں کے سامنے آرہا ہے

موجودہ بی جے پی  لیڈروں کی بھاشا سے ڈر لگنے لگا ہے کہ یہ بھارت کی سبھتہ اقدار کو اور کتنا گرا دیں گے؟ بہار کے نتیش کمار نے اپنی سہیوگی بی جے پی پارٹی کو دیش کے مختلف حصوں سے اٹھ رہے عوامی احتجاج  سے شہریت ترمیمی بل پر از سر نو غور کرنے کی درخواست کی ہے۔یوپی سے خبر آئی ہے کہ یوپی سنگھی حکومت نے، صوبے میں  شہریت ترمیمی قانون سی سی اے کی مخالفت کرنے کے بہانے صوبے میں آشانتی پھیلانے والے ،32 ہزار احتجاجی لوگوں کی پہچان کرنے کی بات کہی ہے۔ کیا یوپی سرکار ان تمام شہریت ترمیمی قانون کےخلاف احتجاج کرنے والوں کو جیل میں ٹھونسنے کی تیاری کر رہی ہے؟ دیش کی، بی جے پی سرکار کے، دیش واسیوں کو، شہریت ترمیمی قانون، سی سی اے کے سلسلے میں، موجود غلط فہمیوں کے دور کرنے کے، بھارت سرکار جاگرکتا ابھیان پر، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ  میں تقریر کرتے ہوئے اترپردیش سرکار کے منسٹر آف اسٹیٹ کے درجے والے  ایڈوائزر لیبر ڈپارٹمنٹ، رگھو راج سنگھ نے، اپنی تقریر کے دوران، سی سی اے کے خلاف پردرشن کرنے والوں پر حملہ آور ہوتے دبنگانہ  انداز میں کہا کہ “مودی اور یوگی کے خلاف نعرہ لگایا تو میں تمہیں ( عوامی احتجاج کرنے والوں کو) زندہ گاڑ دونگا”۔ یہ مسجد وزارت پر بیٹھے ایک ذمہ دار بی جے پی کے نیتا  کا عوامی جن سبھا میں دیا بیان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ “مودی اور یوگی تو پریشان ہونے والے نہیں ہیں، ہمارے مودی یوگی تو ایسے ہی دیش چلائیں گے۔اگر تم مٹھی بھر کرپٹ لوگوں نے، مودی یوگی کے خلاف مردہ باد کا نعرہ لگایا  تو(ہم سنگھی لیڈران)  سب کو زندہ گاڑھ دونگا”
دلیپ گھوش مغربی  بنگال میں بی جے پی  کے بڑے ذمہ دار لیڈر ہیں۔ اور اگر مغربی بنگال میں خدا نہ خواستہ بی جے پی انتخاب جیتتے حکومت بنانے کامیاب ہوتی ہے تو یہ مکھیہ منتری کے دعویدار بھی ہیں۔ ان کو اس بات کی بڑی فکر ہے کہ شہریت قانون کے خلاف  مغربی بنگال میں جو عوامی احتجاج چل رہا ہے ممتا  بنرجی کی سرکار، اس عوامی احتجاج کو روکنے یا کچلنے کے لئے ،پولیس لاٹھی چارج اور فائرنگ کیوں نہیں کررہی ہے؟ لوگوں کے ہاتھ پیر کیوں نہیں ٹوٹ رہے ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ  عوامی احتجاج کے بہانے، پبلک پراپرٹی کا جو نقصان کرتے ہیں ان کو کتے کی طرح گولی مارنی چاہئیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری سرکار جو اتر پردیش میں اور آسام میں ہے، وہاں ہم نے کتوں کی طرح گولی ماری ہے۔ان کا مطلب صاف ہے جو سنگھی  شہریت قانون کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں ان سبھوں کو نہ صرف کتوں کی طرح گولی ماردینی چاہئیے بلکہ ان کا مطلب صاف ہے کہ شہریت قانون کے خلاف اترپردیش میں، عوامی پرامن احتجاج کرنے والے  غیر مسلح عوام پر، اتر پردیش سنگھی چیف منسٹر کے حکم سے اتر پردیش پولیس نے جو لاٹھی چارج اور فائرنگ کرتے ہوئے، بیس تیس بے قصور نہتے عوام کو مار گرایا ہے یہ سب  احتجاجیوں کو پاگل کتے کی طرح بلدیہ حکم نامہ سے گولی مار دئیے جانے کے بمثل سوچی سمجھی سنگھی پالیسی کے تحت مارا گیا ہے
 مغربی اترپردیش کے بی جے پی پربھاری یا  ذمہ دار کیلاش وجئے ورگی، جنکا بی جے پی کے بڑے نیتاؤں میں شمار ہوتا ہے اور یہ بھی چیف منسٹر مغربی بنگال بننے کے  دعویدار ہیں ان کا بیان ہے کہ اگر مغربی بنگال میں بی جے پی کی سرکار بنتی ہے تو سی سی اے قانون کے خلاف  احتجاج کرنے والے تمام احتجاجیوں کو مرغا بنائیں گے اور کہیں گے تیرا کیا ہوگا کالیہ؟ پچھلے دنوں کانگریسی راجیہ مدھیہ پردیش کے اندور میں، کانگریس سرکار کے خلاف احتجاج کے دوران، جب پولیس ادھیکاری ملے تو انہوں  نےآرایس ایس کے ذمہ دار لیڈروں کے درمیان بولتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سنگھ کے عہدیدار  یا پد ادھیکاری نہیں ہوتے تو شہر میں آگ لگا دیتے۔  یہ ایک غنڈہ کی بھاشا ہے یا بی جے پی کے ورش ادھیکاری کی بھاشا ہے؟ یا ایک ممبر آف پارلیمنٹ کی بھاشا ہے؟ یا ایک بی جے پی نیتا کی بھاشا ہے؟دیش کی عام جنتا کو اسے دیکھنا پرکھنا اور پہچاننا چاہئیے۔ اس پر دیش کے ارباب عقل وفہم و ادراک  کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئیے کہ راج نیتی یا سیاست  غنڈوں کے بیچ چلی گئی ہے  یا غنڈے بی جے پی میں چلے آئے ہیں؟ کیلاش وجئے ورگی  کے بیٹے آکاش وجئے ورگی کے، کچھ عرصہ پہلے  بیٹ اٹھا کر میونسپل کارپوریشن کے کرم چاریوں،ادھیکاریوں کو مارتے انکی ویڈیو عوامی سطح پر جاری  ہوئی تھی، لیکن ابھی تک، اخلاقی اقدار کا ڈھونگ کرنے والی، بی جے پی سرکار کی طرف سے ان پر کسی بھی قسم کی کاروائی نہیں ہوئی ہے
تلنگانہ کے بی جے پی ممبر آف پارلیمنٹ بالی سنجے کمار ،  شہریت ترمیمی قانون سی سی اے کی موافقت میں سنگھی بھارت سرکار کی طرف سے دیش بھر میں شروع کئے گئے، ابھیان میں، بیان دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سنگھی حکومت کے خلاف  جنگ شروع ہوگئی ہے وہ کہتے ہیں  “شہریت بل کی مخالفت کرنے والے اگر  لاٹھی چلاتے ہیں تو ہم  (یعنی کہ سنگھی حکومت) چاقو چلائیں گے، وہ چاقو چلائیں گے تو ہم بندوق چلائیں گے۔ وہ بندوق چلائیں گے تو ہم میزائل چلائیں گے” مطلب سی سی اے سنگھی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں پردرشن کاریوں کو مشین گنوں بموں یا میزائیلوں سے مارگرانا چاہئیے”یہ سب دیش پتا موہن داس کرم چند گاندھی جی کے 150 سالہ جنم دیوس ورش برسی کے موقع پر، دیش پر حکومت کررہی  بی جے پی کے لیڈروں کے اخلاق و اقدار سامنے آرہے ہیں
تلنگانہ کے نظام آباد کے دوسرے  ممبر آف پارلیمنٹ، شری اروند نے ایم آئی ایم کے ممبر آف پارلیمنٹ محترم جناب  اسد الدین اویسی کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے یوئےکہنا ہے کہ انہیں یعنی اسدالدین اویسی کو بیچ چوراہے پر،  کرین سے الٹا لٹکا کر ، انکی داڑھی کاٹ دیں گے  اور ان کی کٹی داڑھی کو،ان کی مدد  سے بننے والے،  مکھیہ منتری تلنگانہ کے شریر پر چپکا دیں گے
ہریانہ کے لیڈر لیلا رام گجر نے بھی عوامی جن سبھا میں پورے دبنگئی انداز میں کہا ہے کہ “شہریت قانون کی۔مخالفت کرنے والوں کو ایک گھنٹہ میں صفایا کیا جا سکتا ہے”  دہلی کے اندر، بی جے پی کے سماجی امور کے  ذمہ دار  شری امیتابھ جی انڈیا ٹوڈے کے ایک عوامی  پروگرام میں، کنھیہ کمار کے سامنے مقابلہ پر بیان دیتے ہوئے کہتے ہیں “اگر نہیں سدھروگے(سی سی اے قانون کےخلاف احتجاج کرنے والے) تو ٹھونک دونگا”
دیش کے سنگھی پرائم منسٹر 56″ سینے والے مہان مودی جی  کے سی سی اے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو، ان کے  پہنے ڈریس سے ہی پہنچانا جا سکتا ہے جیسے منافرت آمیز بیان اور دیش کے سب سے بڑے صوبے اترپردیش کے سنگھی چیف منسٹر بھگوا دھاری سنیاسی یوگی مہاراج کے، سی سی اے قانون احتجاجیوں کے خلاف “ہم بدلہ لیں گے”والا بیان کے تناظر میں، مغربی بنگال سے لیکر اترپردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش، و جنوبی ہندستان تلنگانہ تک، دیش کے مختلف حصوں صوبوں کے بی جے پی لیڈروں کے عوامی جلسوں میں دبنگانہ انداز دئیے بیانوں میں، استعمال ہونے والی یہ خطرناک بھاشہ نہ صرف سنگھیوں کی مانسکتا یا سوچ بیان کرتی ہے بلکہ اقتدار کے نشے میں انکے ہوش ٹھکانے لگنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ابھی تک سوشل میڈیا پر لوگوں کو گالیاں دینے کی بات سامنے آرہی تھی۔ اب تو دیش پر حکومت کررہی اور دیش کو رام راجیہ پرتیک سنگھی بہترین موڈل والی سرکار دینے کا دعوہ کرنے والی بی جے پی  کے، عوامی جن سبھاؤں کے بیانات میں دیش کی جنتا کے سامنے آنے والی یہ دھمکی آمیز نہایت نچلی سطح کی سڑک چھاپ زبان، دیش کی عوام کو دیکھنے کو مل رہی ہے
ابھی تک سوشل میڈیا پر،بی جے پی آئی سیل کی طرف سے،  بی جے پی کے خلاف بولنے والے غیر جانبدار  میڈیا کرمیوں کے خلاف، خصوصا معتبر نساء پترکاروں کے خلاف    ایسی گالی گلوچ والی فحش زبان سائبر میڈیا پر دی جاتی تھی کہ ہم بی جے پی کے خلاف مصروف عمل پترکاروں کو زندہ جلا دیں گے، تیزاب پھینک دیں گے، ان کا  بلاتکار کردیں گے، اور نہ جانے کیسے  کیسے آبھدر  شبدوں  گالیوں کا استعمال ہوتا تھا جورج امیت مالویہ بی جے پی آئی ٹی سیل کے انچارج  نے،بھارت دیش کے اس دور کے سب سے عزت دار پترکار راج ڈیپ سر دیسائی کے خلاف اوپینئین پول کراتے ہوئے بھی، ایسی ہی ابھدر بھاشہ کا استعمال کیا تھا۔ بھارت کے مختلف صوبوں، حصوں سے،بی جے پی کے قدآور رہنماؤں کی طرف سے،  ایک ساتھ سی سی اے قانون کے خلاف دیش بھر میں اٹھے عوامی احتجاجی جن اندولن کے ذمہ داروں کے خلاف بئان بازی ، یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت،کیا نہیں  جارہا ہے؟ تاکہ دیش واسیوں میں ایک ان دیکھا خوف بٹھا دیا جائے،   یہ وہی بھاشا ہے جو 1932 سے 1945 تک جرمنی میں نازی ہٹلر کے ساتھی بولا کرتے تھے آج بھارت میں نازی ہٹلر کو اپنا رول ماڈل سمجھنے والی آر ایس ایس کے یہ چڈی دھاری سنگھی لیڈران ،ہزاروں سالہ گنگا جمنی تہذیبی ہندو مسلم بھائی بھائی والی سیکولر سوچ رکھنے والے بھارت کو، اپنے نازی آمر طرز منو اسمرتی والے برہمنی راج میں بدلتے دیکھنے کی سوچ لئے دانستہ طور یہ سب کررہے ہیں۔ اور یہ سب دیش کے پتا سمان مہاتما گاندھی جی کے 150 ویں جنم دیوس ورس کے موقع پر ہی، گاندھی جی آہنسا پالیسیز کے خلاف ہنسا والی نازی پالیسیز کے سہارے بھارت پر برہمن حکومت قائم کرنے کی نیت سے دانستہ کیا جارہا ہے۔

Comments are closed.

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com