یہود و نصاری، شیعہ، ایران امریکہ،ہائی پرو فائل عالمی ڈرامہ

نقاش نائطی
+966504960485

*دنیا گول است۔یہاں وہی کھیل ذرا ذرا سی تبدیلی کے ساتھ بار بار دہرایا جاتا ہے۔ ہندی فلموں ہی کو لیں۔پچیس تیس سالوں میں نہایت کامیاب سوپر ڈوپر ہٹ فلموں میں کردار کے فرق، سیکوینس، لوکیشن اور منظر نامہ کے فرق کے ساتھ،وہی گھسی پٹی کہانی کو، عموما دہرایا جاتا ہے۔کوئی بھی ہدایت کار اچھی اور عمدہ کہانی کو پیش کرنا چاہے تو اسے ہمہ وقت خوف رہتا ہے کہ کہیں پیسہ ڈوب نہ جائے،کیوں کہ لوگ توضیع اوقات کے لئے، تجسس اور حقیقت پر مبنی دقیق اور مشکل کہانیوں کے مقابلے،وقتی ذہنی سکون دینے والے، ہلکے پھلکے تفریح طبع افلام کے متمنی ہوتے ہیں، درد بھری داستانیں،ان کے اپنے درد کو دوبالا کیا کرتی ہیں۔ پھر لوگ عموما کہانی کو نظر انداز کرتے ہوئے،فلم کے منظر نامہ، عکس بندی، ہیرو ہیوئین اور منفی کردار والوں کے کردار ادا کرنے کی مہارت کی تعریف کرتے کرتے، فلم کو مکرر دیکھ اسے کامیاب ترین فلم بنا دیتے ہیں۔بالکل اسی طرز عالمی سطح پر کھیلا جانے والے کشتی مقابلے، ہیوی ویٹ چمپئن شب مقابلے،دنیا اس بات کی معترف ہوتے ہوئے کہ، ہار جیت طہ کیا ہوا یہ ایک تصنع پزیر کهیل ہے،اس کے ہر مقابلے کو ایسے دیکھتی اور نہارتی ہے کہ آج عالم میں، اس پر سب سے زیادہ جوا کھیلا جاتا ہے۔ فی زمانہ ھندو پاک میں سب سے زیادہ کھیلا اور دیکھا جانے والا کرکٹ بھی اکثر و بیشتر سیٹ گیم لگنے لگتا ہے لیکن ان تمام شکایتوں عیبوں کے باوجود یہ کھیل گزرتے دن کے ساتھ مقبول تر اور زیادہ دولت کی بارش کرنے والے بنتے چلے جاتے ہیں۔*

*گاؤں شہر کی تهوک مارکیٹ کے تاجر ، مختلف اشیاء کی زخیرہ اندوزی کرتے ہوئے،جس طرح اپنی منافع شرح کو محفوظ رکھ کر سامان ضرورت اونچی قیمتوں پر بیچتے ہوئے غریب عوام کو لوٹا کرتے ہیں، اسی طرز پر عالمی تجارت پر گرفت رکھنے والی طاقتیں، خصوصا دواء ساز اور ہتهیار ساز صنعتیں،اپنے تیار مال کو اچهی قیمتوں پر بیچنے کے لئے، بیمار ساز جراثیم یا وائرس متعین ملک و جگہوں پر پھیلاتے ہوئے نت نئی اقسام کے سقم پھیلا کر یا اپنی تقاریر یا عملی اقدام سے کسی آزاد ملک کو ورغلا کر بهڑکا کر، اسے آمادہ جنگ کرتے ہوئے،اپنی حربی مصنوعات بیچنے کی راہیں کھولا کرتے ہیں.*

*گذشتہ تین چار دہوں سے یہود و نصاری کا یہ حربی کھیل ہم دیکھ رہے ہیں. دوسری عالمی جنگ بعد،،کافی طویل عرصے کے سکوت بعد اچانک دو عالمی طاقتوں میں ایک روس کا،کمزور نہتےافغانستان پر چڑھائی کرنا،اور روس کو زیر کرنے، صاحب امریکہ کا اپنے حلیف عرب ملکوں کو، مسلم ملک افغانستان پر روس کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف، خود ان کے یعنی برطانیہ و امریکہ کے تیل صنعت کے شریک تجارت،عرب پونجی پتی اسامہ بن لادن کی ماتحت میں القاعدە جہادی تحریک بناکر،اور پاکستانی ملک و افواج پاکستان کی درپردہ مدد و نصرت کر، اس کے مخالف حربی، وسیع تررقبہ والی روس ریاست کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹتے ہوئے، اسے کمزور و ختم کرنے کی سعی میں، عالم کو ایک لمبی جنگ میں دهکیلنے کا عمل ہو، یا روس کی عمل دخل والی ریاست بوسنیا ہرزے گونیا کے فوجی جرنیل کو خرید کر، روس کو زک پہنچانے، بوسنیائی مسلمانوں کا قتل عام کرواتے،عالم کو جنگ زد کرنے کا،صاحب امریکہ کا سازشی عمل ہو، تاوقت رسالت نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیﷺ, دشمن اسلام یہود و ونصاری کا اسلام مخالف گٹھ جوڑ ،حب آل رسولﷺکی آڑ میں، بغض نبی آخر الزماںﷺ کی فکر گلو میں پالنے والے،شیعہ رافضی اسلام دشمن ایران کو، اپنا حلیف بناتے ہوئے، اسلامی احیاء ہی کے لبادہ سے،عرب ملکوں کو غیر مستحکم کرتی یہود و نصاری شیعی عالمی سازشیں،صحیح العقیدہ موحد مسلمانان سے مخفی نہیں رہی ہیں*

*خصوصا ایران میں سنی بادشاہ، شاہ رضا پہلوی کے زمام اقتدار کے خاتمہ بعد، ایران پر چھانے والی شیعہ رافضی آندھی نے، دھیرے دھیرے حرمین شریفین پر مشترکہ نظم و نسق کی مانگ اٹھاتے اٹھاتے، پڑوسی سنی زمام حکومت والی بادشاہی کہ جمہوری عرب ریاستوں میں، اپنے رافضی اثرات قائم کرنے شروع کردئیے تھے۔اس سمت بڑھتے رافضی قدم کو روکنے ہی کے لئے، ایران عراق عرب جنگ نے،عرب کھاڑی کو کافی حد تک خون آلود کیا تھا۔ایران عراق جنگ دوران،یہود و نصاری نے طرفین کو ہتھیار بیجتے ہوئے، نہ صرف خوب منافع کمایا تھا بلکہ، انہی یہود و نصاری کے جلتے پر تیل کشی کے سبب ہی،جنگ کوطوالت ملتی رہی تھی۔عراق و کویت کے تیل آمدنی شراکتی آپسی رفاقت کو،اپنے اس وقت کے حلیف شیر صحراء صدام حسین کو،کویت دشمنی پر ابھار کر، کویت ہی کو ہڑپنے کی راہ پر اسے ڈالتے ہوئے، تیل کی دولت سے مالا مال، آزاد کویت ریاست کو عراقی یرغمالیت سے آزاد کرانے کے بہانے، عالمی طاقتوں کو، خلیج کے صحراء میں مورچہ زن کروانے کی یہود و نصاری کی سازش، دراصل دوست و دشمن عرب ممالک کی پشت پناہی سے زیادہ، سیال سونا پیٹرول پر، گرفت مضبوط کرنا ہی یہود و نصاری کامقصود تھا۔پورے ایک ماہ تک عالمی طاقتوں کےلازوال ہوائی حملہ کو برداشت کرنے والے، شیر صحراء جرنیل عراق کے، لاکھوں نیشنل گارڈز افواج کو، گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے مثل مصداق،دشمن افواج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پرمجبورکرنے کے پیچھے، عراقی شیعہ شہریوں کو صدام کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر،یہود و نصاری کی افواج کو سرزمین عراق پر خوش آمدید کہنے والوں میں، ایرانی ریولیوشنرئ گارڈ کے اور ایرانی ملٹری انٹیلجنس پر اپنی مضبوط گرفت رکھنے والے، یہی شیعی رافضی جرنیل، یہود و نصاری کے سب سے بڑے حلیف تھے۔جنہیں سقود بغداد کے بعد، زمام حکومت سنبھالنے عراق تحفہ میں دیا گیا تھا۔1992 عراق پر متحدہ عالمی افواج کے قبضہ بعد ہی سے آج تک سنی صدام کے عراق پر،شیعہ ایران کی درپردہ حکومت ہے۔اور در پردہ شیعہ ایران کے اثر رسوخ والے عراق سے براہ راست، روزانہ کی بنیاد پر، ہزاروں لیٹر خام پیٹرول اسرائیل کی پیٹرول ریفائینری تک ترسیل کیا جاتا ہے۔*

*دشمن کی تباہی کے لئے دشمن ہی میں سے،کسی کالے ناگ سماں ہستی کو جب پالا جاتا ہے تو،ایک حد ایک وقفہ بعد،اس میں پائے جانے والے زہر سے،اپنے آمان ہی کے لئے، خود اسکے پھن کو کچلا جاتا ہے۔یہی تو کیاقاسم سلیمانی کے ساتھ اس وقت کی سوپر پاور امریکہ نے۔ کون ذی فہم عالم کا مسلمان،اس حقیقت کا ادراک نہیں رکھتا؟ کہ فی زمانہ جب پورے عالم میں بسے یہودی گریٹر اسرائیل کے، اس کے اپنے پلان کے تحت، عالم کے مختلف علاقوں سے یہودی واپس آ آکر اسرائیل میں آباد ہو رہے تھے، اسوقت انہی یہودیوں کی ایک بڑی تعداد، اسلامی شیعی مملکت ایران میں بھی آباد ہورہی تھی۔ ایک گمان کے مطابق اسرائیل کے بعد دوسری یہودیوں کی بڑی آبادی ایراں ہی میں موج کررہی ہے۔ اس مملکت اسلامیہ شعیہ رافضیہ ایران میں، جہاں کئی دہوں تک حکومت کرنے والی سنی آبادی پر، ایران کے کئی شہروں میں باجماعت جمعہ پڑھنے ہی پر پابندی عاید ہے اور اکثر وبیشتر سنی مساجد مسمار کی گئی ہیں، اسی ایران میں، ان چار دہوں میں بے شمار،عالی شان یہودی عبادت گھر، نہ صرف تعمیر کئے جا چکے ہیں،بلکہ اسلامی مملکت شیعہ ورافضیہ ایران میں، مذہب شیعییت رافضیت کے بعد، سب سے زیادہ،علی اعلان یہودی مذہبی عبادات ہوا کرتی ہیں۔شیعیت رافضیت کے حالیہ روح رواں، آنجہانی آیت اللہ خمینی ہوں یا مملکت اسلامیہ شعیہ ایران کے، حالیہ دور کے سب سے طاقتور مذہبی رہنما، علی خامنہ ای ہوں،جو فورب میگزین امریکہ کے اعتبار سے، دنیا کے سب سے با اثر 25 شخصیات میں سے ایک ہیں۔جہاں اس دنیا میں، دستور وقت حاضر کی رو سے، ہر کوئی اپنے زمام اقتدار کو مزید رقبہ تک پھیلانے کی تگ و دو میں مصروف و مگن پایا جاتا ہے۔وہیں پرشیعی رافضی ایرانی رہنماؤں کی نظر، امامت عالم اسلامی پر مرکوز، زائرین حرم ہی کی خدمت کے بہانے سے، جہاں حرمین شریفین پر پہلے ہی سے مرکوز رہی ہے۔وہیں پرگریٹراسرائیل کے ستارہ عروج کا ایک کونا،انکے جدی پشتی تاجران مدینہ،جو کہ اسلامی ریاست مدینہ بننے کے بعد، حرب میں شکست کی وجہ، مدینہ سے کچھ سو کلومیٹر خیبر کے قلعہ تک محصور ہوگئے تھے، جسے اسلام کے چوتھے خلیفہ المسلمین حضرت علی بن ابو طالب نے فتح کر،ان یہودیوں کو مملکت سعودی عرب سے باہر کدھیڑ دیا تھا۔گریٹر اسرائل کاخواب موجودہ سعودی عرب کے مبارک شہر مدینہ سے 161 کلو میٹر دور اور اسرائیل سے 984 کلومیٹر کے فاصلہ پر، صحراء کے بیچ، اب تک عالمی ادارہ یونیسکو کی نگرانی میں موجود، زرد مائل پتھروں سے بنے، چودہ سو سال قبل کے، عالی شان خیبر قلعہ تک پہنچتا ہے۔دنیا بھر کے 130 کروڑ مسلمانوں کے والہانہ محبت و عقیدت والے گنبدخصراء کے شہر مدینہ منورہ کو فتح کرنا،یہود و نصاری کے لئے تقریبا ناممکن سا لگتا ہے۔لیکن گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے مثل مصداق ، جمہوریہ اسلامیہ شعیہ رافضیہ ایران کی نظر، پہلے سے حرمین شریفین کی ولایت پر رہتے، درپردہ یہود و نصاری سے ان کا حربی گٹھ جوڑ،مستقبل میں سب کچھ ممکن بھی کرواسکتا ہے۔ ہم مسلمان عاشقان رسول ﷺ اور عقیدت رسول ﷺ کے دعویدار، بھلے ہی اپنے رسول آخر الزماں، حضرت محمد مصطفیﷺ کی پیشین گوئیوں پر پوری طرح یقین نہ رکھتے ہوں، لیکن دشمن اسلام یہودیوں کو نبی آخر الزماں محمد مصطفی ﷺ کے زبان مبارک سے نکلے ہر قول پر یقین کامل ہے۔ جس پیشین گوئی رسولﷺ میں، قبل قیامت دجال کے ظہور بعد،ایرانی شہر اصفہان سے لاکھوں یہودیوں کے دجال کے ساتھ ملنے کی بات کہی گئی ہے اسی لئے یہودی سازش کار، اپنی خوشحال معیشت کے بل پر، ایران کے اصفہان شہر میں تاجر یہودیوں کو منظم انداز بسا رہے ہیں۔*
*امریکہ اسرائیل اور رافضی شیعہ ایران کے مابین عالمی سطح پر اسلام مخالف اس گریٹر اسرائیل سازشی عہد و پیمان کے باوجود، دنیا کو بے وقوف بنائے اپنی حربی صنعت کو جاری و ساری رکھتے ہوئے، دنیا بھر کے تمام ممالک کو اپنے معشیتی جال میں جکڑے رکھنے کی خاطر، چوہے بلی کے کھیل میں انہیں دنیا کو الجھائے رکھنا پڑتا ہے۔اندرون خانہ اپنی دوستی کی بقاء کے لئے، ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے یا ایک دوسرے کو زک پہنچانے کے کھیل کھیلنے پڑتے ہیں۔ان چار دہوں میں اکلوتی سوپر پاور امریکہ کے سابقہ کئی صدور و جرنیلوں نے، ایران پر حملہ کرنے کے، بیسیوں مرتبہ دعوے کئے، لیکن چٹ پٹ میزائل پھلجڑی حملوں کے، ابھی تک ایران پر باقاعدہ حملہ کرنا نہ امریکہ نے ضروری سمجھا اور نہ ہی، بارہا دی گئی اپنی دھمکیوں کو روبہ عمل لانے کے لئے،اسرائیل پر ہمہ وقت گرجنے اور برسنے والے شیعہ رہنماؤں نے، اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کبھی کوشش کی یے۔ اور ایسے دو ملکوں کے، دوست دشمنی والے خطرناک کھیل میں،دو ملکوں کے سربراہوں کے درمیاں،حدود حرب زک زینی طہ ہوا کرتی ہے،نہ کہ تمام جرنیلوں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔*

*مغربی ملکوں کی جمہوریت اور عرب کھاڑی کے ممالک کے شاہان و سربراہان کا طرز حکومت، جداگانہ ہوتا ہے۔ جن ملکوں کی زمام حکومت جمہوری اقدار پر قائم ہوتی ہے وہاں فرد پر ادارے یا سسٹم کا اثر و رسوخ زیادہ ہوتا ہے، چاہے کہ وہ صدر مملکت ہوں یا وزیراعظم۔ سربراہ مملکت پر سسٹم یا حکومتی ادارے تادیر باقی رہتے ہیں۔ جبکہ سربراہ مملکت متعین مدت کے بعد آتے جاتے رہتے ہیں۔ جبکہ خلیجی ممالک بشمول جمہوریہ اسلامیہ شعیہ ایران کے، یہاں سربراہان مملکت عمر کے آخری لمحات تک حکمرانی کرتے پائے جاتے ہیں۔ چونکہ سربراہان مملکت کے اختیارات لامحدود ہوتے ہیں، اس لئے حکومتی راز و نیاز سب پر واشگاف نہیں کئے جاتے، اور جو بہت کچھ جانتے ہیں،انہیں کبھی بھی مملکت کے لئے قربان ہونے، ہمہ وقت تیار رہنا پڑتا ہے۔ یہی کچھ ایران ریوالیوشنری گارڈ، شعبہ القدس بریگیڈ کے سربراہ، اور ایرانی ملٹری انٹیلجنس کو سنبھالنے والے، ایرانی مذہبی سربراہ سابق صدر ایران علی حسینی خامنہ ائ کے بعد، سب سے قوی تر ایرانی رہنما کے مقام تک پہنچنےوالے، قاسم سلیمانی کا حشر بھی ہوا۔ قاسم سلیمانی اپنی صلاحیتوں کے بل پر، نہ صرف ایران کے دوسرے سب سے بااثر لیڈر تصور کئے جاتے تھے، بلکہ مستقبل کے صدر کے لئے بھی ان کا نام لیا جارہا تھا۔القدس بریگیڈ کے سربراہ کی حیثیت سے، ایران کے پڑوسی ممالک لبنان، سوریہ، یمن، عراق کی حکومتوں پر قاسم سلیمانی کی گرفت اور ان کی بڑھتی مقبولیت، جہاں علی حسینی خامنہ ائ کے لئے خطرہ کی گھنٹی تھی، وہیں پر چوہے بلی کے اس کھیل میں،امریکہ کو وقتا فوقتا پہنچنے والی ہزیمت،صاحب امریکہ کے لئے بھی کوفت کا باعث تھی۔اوپر سے امریکہ کے ازلی دشمن ایٹمی طاقت پاکستان کے، عرب اور ایشائی ملکوں کو ساتھ لئے، معاشی و حربی سطح پر امریکہ مخالف بنتے صف بندی کے پیش نظر، ایران سعودیہ کی مخاصمت کو دور کرنے میں، قاسم سلیمانی کے کردار کو صاحب امریکہ قطعی برداشت نہیں کرسکتا تھا۔اوپر سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، عنقریب ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب سے قبل ، انکے خلاف شروع ہوئے امریکی کابینہ مواخذے سے، از حد پریشان تھے، اس لئے آئیندہ صدارتی انتخاب جیتنے کے لئے، انہیں اپنے دشمن نما دوست سے،اپنی مفروضہ جنگ جگ ظاہر کرنی ہی تھی۔ اسی لئے غالب گمان ہے کہ دونوں ممالک سربراہان کے درمیان، پہلے سے طہ شدہ یہ حربی کھیل میڈیا معرفت درشایا گیا تھا۔ جس کے لئے دونوں سربراہان کے،غیر ظاہر شدہ دشمن قاسم سلیمانی کو، بلی کا بکرا بناتے ہوئے بھی، اس کی میت پر اپنے شاندار مستقبل کا کھیل کھیلا دونوں طرف گیا ہے*

*حربی کھیل کے جانکار اس بات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ پانچ پانچ ڈرون سے متعین پانچ متحرک ٹارگٹ پر، گائیڈڈ میزائل، لا خطاحملہ کرنے کے لئے، پہلے سے ان متحرک گاڑیوں میں الکٹرونک چپس لگانے پڑتے ہیں۔ جو کہ قاسم سلیمانی جیسے نمبر 2 پوزیشن کے جرنیل کے خلاف، قاتلانہ حملہ کے لئے، نمبر ایک پوزیشن والے کی مرضی یا ہدایت بنا، کسی بھی عام و خاص سے ممکن ہی نہیں۔ آخر ایرانی افواج میں سے کس نے، قاسم سلیمانی کے قافلہ کی گاڑیوں پر نشاندہی والے چپس لگائے؟ ثانیا جس عراق کی سرزمین پر سے وہ قاتل ڈرون اڑے تھے، اس عراق پر در پردہ حکومت، ایران ہی کی ہے۔ ایسے میں ایرانی حکومتی اطلاع یا حکم کے بغیر ،عراقی سرزمین سے اتنے اہم ایرانی حربی جرنیل پر قاتلانہ حملہ، ممکن نہیں لگتا*
*ثالثا، قاسم سلیمانی کی تدفین سے پہلے، ایرانی جوابی حملہ میں امریکی ملٹری بیس عراق پر،ایران سے فائر کئے گئے بیسیوں میزائل حملہ میں 80 امریکی کے مارے جانے کے، ایرانی دعوے کی، نہ امریکہ نے تصدیق کی ہے اور نہ ایران نے کوئی ثبوت اب تک پیش کئے ہیں۔ البتہ اس ایرانی جوابی حربی کاروائی کے بعد، دنیا والوں کے، عالمی جنگ شروع ہونے کے خدشے کے خلاف، امریکہ و ایران دونوں ممالک نے، اپنے اس تنازع کو،عالمی جنگ تک نہ لے جانے کا اعادہ کرتے ہوئے، قاسم سلیمانی کی قربانی کے لئے، میزائل پلجھڑی بازی پر ہی اکتفا کرنے کا عندیہ دیتے، دونوں ملکوں کے، پہلے سے طہ اس حربی ڈرامہ کو جگ ظاہر کیا ہے*
*ایران امریکہ اس ہائی پروفائل ڈرامہ بازی میں،9 جنوری کی شب عراق امریکی عسکری بیس پر ہوئے، دوسرے متعدد میزائل حملہ میں،ایران حکومت کے اس حملہ سے لاتعلقی کے باوجود، کافی امریکی جانوں کے ضیاع کی خبر نے،اس تصنع ہزیر ڈرامے میں،نہ صرف امریکہ کو نقصان پہنچاتے، ایران امریکہ تنازع کو ختم نہ ہونے دینے کے فراق میں، کسی تیسرے فریق کی موجودگی، نہ صرف امریکہ اور ایران کے لئے تشویش کا باعث ہے، بلکہ عالمی جنگ شروع نہ کئے جانے کے لئے پریشان، ارباب حل و عقل عالم کو ورطہ حیرت میں بھی مبتلا کئے ہوئے ہے۔ غالب گمان ہے اسی نوے دہے کی ‘القاعدہ’ جو لیبیا، سوریہ، عراق میں امریکی اھداف کو نقصان پہنچایا کرتی تھی اس کے زندہ و متحرک ہونے کے اشارے ملتے ہیں۔اس موقع پر رب کائینات کی قرآن مجید کے ذریعے سے انسانیت کو متنبہ کرتی وہ آیت کریمہ یاد آتی ہے جس میں انسانوں کے مکر و فتنہ سے اوپر، مکر کے کھیل میں خالق کائنات کے یکتا ہونے کا ذکر ملتا ہے۔یقینا رب کائینات کے مکر کے سامنے، یہود و نصاری شیعہ ایران و امریکہ کی کیا اوقات؟*

*قاسم سلیمانی کی مسلم امہ دشمنی سے کیا، مسلم دنیا متعارف ہے؟ پچھلے دنوں امریکی حملے میں مارا جانے والا ایرانی القدس برگیڈ سربراہ فوجی جرنیل، جس کی موت پر مسلمانوں کی اکثریت غلط فہمیوں کی شکار ہے۔ امریکہ کی اس کی ظاہری دشمنی سے، اس دشمن اسلام کی موت پر بھی، کہیں خوشی ہے تو کہیں غم وغصہ کا  ماحول دکھائی دیتا ہے۔*
*مگر حقیقت میں قاسم سلیمانی امت مسلمہ کے لئے کتنا خطرناک تھا اسے بھی ذہن میں رکھا جائے۔یہی وہ ظالم وسفاک جرنیل ہے جس کی بربریت وسفاکیت نے چنگیز وہلاکو خان کو بھی  پیچھے چھوڑدیا ہے، ایک اندازہ کے مطابق پچھلے آٹھ سالوں میں اس قاسم سلیمانی ظالم جرنیل نے، امریکی افواج سے بھی زیادہ مسلمانوں کا خون بہایا ہے۔ملک شام کے معصوم و مظلوم مسلمانوں کا قاتل یہی وہ ظالم و جابر جرنیل ہے جس نے اسرائیلی و ایرانی حکومت کے اشارے پر سوریہ کے 5 لاکھ سے بھی زائد مسلمانون کا ناحق خون بہایا ہے۔جس میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی تھی اسی وجہ سے عرب دنیا اسے “شام کے معصوم بچوں کا قاتل” کے نام سے یاد کرتی ہے۔*
*یہی وہ ظالم ہے جس نے عراق پر حملوں کے دوران امریکی فوج کا ایران میں، نہ صرف پرتپاک استقبال کیا تھا بلکہ انہیں ہر قسم کی حربی  سہولیات فراہم کی تھیں۔نتیجہ میں، ایک وقت کے صحرائی شیر کہے جانے والے، زیرک اور بہادر جرنیل صدام کی حکومت کو عراق میں مہلک ترین ہتھیار ہونے کی،سازشی جھوٹی خبر کو بنیاد بناکر، عالمی افواج کو ساتھ لیکر ختم کیا گیا۔اور تعجب ہوگا*

*یہی وہ ظالم ہے جس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو نیست و نابود کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور انکے خلاف “حزبِ وحدت” نامی دہشت گرد تنظیم تشکیل دی تھی، جسے ہر طرح کے،جنگی اسلحہ ٹریننگ دینے، اسی ظالم و جابرجرنیل نے القدس بریگیڈ فوج کو استعمال کیا تھا۔*

*اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار بھی یہی ہے، جس نےپاکستان کو شیعہ سنی فرقہ واریت کی سلگتی ہوئی آگ میں جھونک دیا تھا اور مہدی ملیشہ، جیسی دہشت گرد تنظیم تشکیل دے کر،پاکستان کو تباہی کے  کگارپر لا کھڑا کیاتھا۔ واللہ الموافق بالتوفیق الا باللہ*

Comments are closed.

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com