ہم نے انگلیاں ملالی ہیں

 ام ھشام

یقیں ہے مجھکو بازی جیتنے کا ،فتح میری ہے
میں گلدستے بناتا ہوں ، وہ شمشیریں بناتے ہیں

ہماری محبتوں پر تم نے مسجدیں ڈھائیں ، ننگی سیاست کا ننگا ناچ کیا۔ہماری بہنوں بیٹیوں کے شکم چیر کر ان کی اولاد کو اپنے نوک خنجر پر اچھالا ۔
ہماری مسجدوں کی حرمت کو پامال کیا ۔
ہمارے داڑھی ٹوپی اور کرتوں میں ملبوس مردوں اور بزرگوں کو نذر آتش کیا اپنی جیلوں کو ہمارے جوانوں سے پاٹ دیا۔
ہماری معیشت کو تم نے جلاکر خاک میں ملانے کی بارہا کوشش کی ہے۔
یہ بابری کی جھلک ہے ،یہ گودھرا کی جھلک ہے یہ یوپی کی جھلک ہے یہ جامعہ ملیہ ، جے این یو اور ملک کے دوسرے نہتے طلباء اور عوام کی جھلک ہے جن پر تمہارے غنڈوں نے شب خون مارا۔
تم نے اقتدار میں آتے ہی اپنے سادھووں اور سوامیوں کو باعزت بری کروادیا ملک کی سب بڑی قومی تحقیقاتی ایجنسی کو ہی ملزمین کے باعزت بری کرانے ہر مامور کرادیا اب بھی تم۔یہی سب کررہے ہو لیکن اب پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے ہم سبھی سمجھ چکے ہیں کہ اس ملک میں انصاف کی اندھی دیوی کن پر مہربان اور کن لوگوں کو تہہ تیغ کردیناچاہتی ہے۔

تیغ منصف ہو جہاں دار رسن ہوں شاہد
بے گناہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا

اسی لئے آج ہم نے پھر سے اپنی بکھری ہوئی انگلیاں ملا لی ہیں تاکہ اپنی ہتھیلیاں مضبوط کرسکیں اور پھر سے کوئی” انگولی مال ” یا “کیسری آدم خور” ہماری انگلیاں نہ کاٹ لے جائے یا ہمارے ہاتھوں کو کمزور نہ کرسکے ۔
کے آر نارائنن کی “انڈتوا ” کی تعبیر آج بھی تمہاری “ہندتوا” پر بھاری ہے
ہم سب آج بھی اسی ہندوستان کا حصہ ہیں جہاں بابری دھماکوں میں ہم نے ہر اس ہندو کی حفاظت کی جو ہمارا پڑوسی تھا جو بے قصور تھا جو ہمارا حصہ تھا اورہندو بھائی ہماری حفاظت کے لئے فرقہ پرستوں کے آگے ڈھال بنے ہوئے تھے ۔
مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے جب آدھی آدھی رات کو ایک بے ہنگم سا شور اٹھتا اور لوگ سراسیمہ ہونے کی بجائے گھروں سے لاٹھی ڈنڈے سرئیے لیکر نکل پڑتے کہ اگر کسی نے محلے میں داخل ہوکر کسی قسم کا فساد پیدا کیا تو اس کی خیر نہیں ۔
لوگ الاؤ جلا جلا کر اپنے علاقوں کی پہرے داری کرتےرہے ۔ان میں ہندو بھی تھے کچھ ہندو بزرگ بڑی شفقت سے خواتین اور بچوں سے کہتے تھے بچو!!! گھبرانا نہیں جو آئیگا پہلے ہم سے نپٹے گا پھر تم تک پہنچے گا دروازے اندر سے بند کرو اور بچوں کو لے کر سو جاؤ۔ہم یہاں بیٹھے ہیں تمہاری رکشا کے لئے
ایک پڑوسی اصلا بنیا تھے بابری کے دنگوں میں انہوں نے اپنا سارا گودام خالی کردیا اور محلے والوں کو راشن تقسیم کردیا کہ جانے کتنے دنوں تک فساد کا زور رہے ۔

اک غزل میر کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا
اک نمی سی میری دیوار میں در آتی ہے

میں نے ایسا ہندوستان دیکھا ہے بلکہ ہم سب نے ایسا ہی ہندوستان دیکھا ہے ۔ جانے یہ ستّہ کے تین منحوس بندر آنے والے دنوں میں ہندوستان کو کیا دکھلانا چاہتےہیں ؟
ہم سب ایک ساتھ سمجھ گئے ہیں کہ ہمیں بن دھوئیں والی رسوئی کا سنہرا سپنہ دکھاکر آپ نے ہمارے توے پر پڑی ہوئی روٹی بھی غائب کردی ہے اور آج ہمیں کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔
بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو کی آڑ میں تم نے اپنے نر بھکشی نیتاوں کو چھوڑ رکھا ہے کہ پہلےان سے بیٹی بچاکر دکھاو پھر بچ گئ تواسے پڑھا بھی لینا۔
اب ہمیں کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا ہم نے سب کے اصلی چہروں کو پہچان لیا ہے ۔

Comments are closed.

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com