دین سے رشتہ،اخلاقیات اور عام نظریہ

اسدالرحمن تیمی، جامعہ امام ابن تیمیہ چندنبارہ مشرقی چمپارن
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ عمدہ اخلاق اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے
بنیادی عناصر میں سے ہے، بعینہ دوسروں کے ساتھ رواداری،انصاف اور ہر لمحہ
اللہ کی نگرانی کا خیال اطاعت الٰہی کا جزءلاینفک ہے، کیوں کہ مذہب اسلام
محض دینی علامات اور عبادات پر مبنی نہیں ہے گرچہ ان کی اہمیت مسلّم ہے
اور یہ ارکان اسلام میں داخل ہیں، دینی علامات اور عبادات کو کسی بھی طور
پر کمتر نہیں گردانا جاسکتا ۔لیکن لوگوں کو اس دین کی طرف مائل کرنے
میںحسن اخلاق کا بھی غیرمعمولی کردار رہا ہے۔
 آپﷺ کی شخصیت اعلیٰ اخلاق کا پیکر جمیل تھی، قرآن کریم میں آپ کے بارے
میں فرمایاگیاہے: ”بے شک آپ اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں“(سورہ ¿
قلم) اسلام کی نشر اشاعت ، دعوت دین کی قبولیت اور اس دین میں داخل ہونے
والوں کی تعدا د میں اضافہ میں حسن اخلاق کے عمل واثر سے کسے انکار
ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اگر آپ پھوہڑ اور سخت دل ہوتے تو لوگ
آپ سے کنارہ کش ہوجاتے“ (سورہ ¿ آل عمران) قرآن کریم میں اس معنی کی بہت
ساری آیات ہیں جن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسانی نفسیات پر حسن اخلاق کا
بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔
لیکن آج عالم اسلام میں سیاسی، اقتصادی اورمعاشرتی بدلاﺅ اور اسلامی نظام
پر دشمنان اسلام کے حملہ اور بہت ساری دگر وجوہات کی بنا پر اسلام کا
حقیقی پیغام نگاہوں سے اوجھل ہے، مسلمان دنیا کے سامنے اسلام کا عملی
نمونہ پیش کرنے میں قاصر ہیں، مسلمان اسلام کے کچھ حصہ کے پابند ہیں اور
کچھ حصہ چھوڑ چلے ہیں، کچھ مسلمان فرائض ادا کرتے ہیں اور بعض سنتوں کا
بھی اہتمام کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ایسی حرکات بھی انجام دیتے ہیں جو شرعی
طور پر مسترد ہیں، جس سے لوگ فتنہ میں پڑگئے ہیں۔ مثلا آپ پائیں گے کہ
ایک شخص نماز باجماعت کا پابند ہوتا ہے رمضان کے فرض اوردیگر نفلی روزے
بھی رکھتا ہے، حج اور عمرہ بھی کرنا ہے، سنت پر عمل درآمد کے لئے داڑھی
پوری رکھتا ہے، شراب پیتا ہے نہ زنا کرتا ہے ،یہاں تک کہ سگریٹ نوشی کو
بھی ممنوع اورحرام سمجھتا ہے لیکن یہ مذہبی شخص اپنی تجارت اور پیشہ میں
لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے، معاملات صاف ستھرا نہیں رکھتا ، بیماروں کی مزاج
پرسی نہیں کرتا ، ڈاکٹر ہو تو ان کا استحصال کرتا ہے، سرکاری ملازم ہو تو
رشوت لیتا ہے، لوگوں کے حقوق ہضم کرجاتا ہے، صلہ رحمی نہیں کرتا ، کنجوسی
اس کی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے ، انتہائی برا پڑوسی ہوتا ہے۔ کئی قسم کی
اخلاقی بیماریوں میں ملوث ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ ساری چیزیں عام ہیں
اور ہم اپنی آنکھوں سے یہ ساری باتیں مشاہدہ کرتے ہیں اکثر ایسے لوگوں سے
ہماراسابقہ پڑتا رہتا ہے۔
دیندار لوگوں کے بارے میں عام نظریہ بن گیا ہے کہ یہ لوگ بدعنوان ہوتے
ہیں۔کچھ لوگ سارے دینداروں اور مذہبی افراد کو غلط اور مجرم سمجھتے ہیں،
اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر مذہب پسنداخلاق باختہ
اور سماجی برائیوں میں ملوث ہوتا ہے اور اس کے برعکس ہربے دین زیادہ
اخلاق مند ہوتا ہے، وہ کبھی دوسروں کو دھوکہ نہیں دیتا ، رشوت نہیں کھاتا
، سماجی فلاح وبہبود کے کام میں پیش پیش رہتا ہے، ان کی شخصیت اخلاقی
اقدار سے آراستہ ہوتی ہے
حالانکہ یہ نظریہ بالکل غلط ہے چند مذہبی افراد کے اخلاق وکردار سارے
مذہب پسندوں کے اخلاق کا اندازہ نہیں لگایاجاسکتا ہے۔ کیا ایسے لوگوں کے
پاس کوئی مستند سروے ہے کہ سارے دیندار اخلاق باختہ اور سارے بے دین
اخلاق مند ہوتے ہیں؟ یقینا ایسا نہیں ہے، اگر آپ جرائم اور اخلاقی بے راہ
روی کے اعداد وشمار کا جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ دیندار لوگوں میں
جرم اور اخلاقی انارکی کاتناسب بے دینوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

Comments are closed.

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com