پاکستان ننکانہ صاحب میں سکھوں کے خلاف ہوئے اندوہناک واقعہ کی حقیقیت خود ایک ہندستانی سردار کی زبانی

نقاش نائطی
      +966504960485
ننکانہ صاحب پاکستان کی دکھت گھٹنہ جو ہمارے ساتھ ہوئی ہے یہ گذشتہ سال ننکانہ صاحب گروارہ کی، ایک سکھ لڑکی نے پیار و محبت کے چلتے ایک پاکستانی مسلم لڑکے کے ساتھ نکاح کر لیا تھا جب اس سکھ لڑکی کا گذشتہ سال نکاح ہوا تھا تو اس وقت پاکستان سکھ برادری نے حکومتی سطح پر آواز اٹھائی تھی۔ اس وقت پاکستان سرکار نے گورنر پنجاب پاکستان کو کہا تھا کہ اس سکھ  لڑکی کو بلاکر، اس سے بات کی جائےاور یہ پتہ چلایا جائے کہ اس کے ساتھ کوئی زور زبردستی تو نہیں کی گئی ہے اور اس کے آزادانہ بیان کے بعد وہ جس کے ساتھ جانا چاہتی ہے جانے دیا جائے، اس لئے کہ بالغ ہونے کے بعد یہ اس کا حق ہے کہ وہ جو مذہب اختیار کرنا چاہے اور جس کے ساتھ نکاح کرنا چاہے وہ کرسکتی ہے۔ گورنر پنجاب نے اس وقت اس لڑکی کو بلاکر پوچھا بیٹی تیرے ساتھ دھرم بدلی کرنے کوئی زور زبردستی تو نہیں کی گئی؟، اور  تو کس  کے ساتھ جانا چاہتی ہے؟ اس سکھ لڑکی نے اپنی مرضی سے اسلام دھرم قبول کرنے اور اس مسلم لڑکے کے ساتھ اپنی مرضی سے  شادی کرنے کی بات نہ صرف قبول کی تھی بلکہ اسی کے ساتھ مستقبل میں رہنے کی بات کہی تھی۔اسی لئے اس سکھ لڑکی کو اس پاکستانی مسلم لڑکے کے ساتھ رہنے بھیج دیا گیا تھا۔جس سے اس وقت معاملہ رفع دفع ہوگیا تھا
آجکل ہندستان میں شہریت ترمیمی بل،کیب  پارلیمنٹ میں پیش کرتے وقت، دیش کے وزیر داخلہ شری امیت شاہ کا، دیش بھر میں این آر سی لاگو کئے جانے کے دبنگانہ بیان بعد، اور کیب بل کے قانون بن جانے کے بعد، دیش بھر میں شروع ہوئےاحتجاج کے تناظر میں، پاکستان میں سکھ برادری پر ہورہے ظلم کو اجاگر کرنے کے ارادے سے، یہاں کی سنگھی حکومت نے، پاکستان اپنے زر خرید ایجنٹوں کی معرفت، ایک سال قبل شادی کرگئی اس سکھ لڑکی کو ننکانہ صاحب بھیجتے ہوئے،اور مسلم لڑکوں کو ننکانہ صاحب اس لڑکی کو واپس لانے بھیج کر، پاکستان میں سکھ برادری کے ساتھ  زبردستی  دھرم پریورتن کر، انہیں مسلمان  بنائے جانے کا معاملہ ہندستانی میڈیا پر اچھال کر، کیب اور این آر سی قانون کو ہندستان میں لاگو کئے جانے کو صحیح قرار دینے کی سنگھی حکمرانوں کی اسے  سازش  قرار دیا جارہا ہے۔
جو پاکستانی حکومت کرتارپور راہداری کے لئے 42 ایکڑ اور 62 ایکڑ دو الگ الگ اپنی زمین، نہ صرف  اس راہداری کے لئے دی ہے بلکہ ان کے ازلی دشمن پڑوسی بھارت کے سکھ شہریوں کو بغیر ویزہ، بغیر پاسپورٹ اپنے ملک پاکستان آئے،سکھ شہریوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے، سکھ برادری کے مقدس  کرتار پور یاترا کرنے کی جو سہولت عطا کی ہے اس سے عالم میں  پاکستان کی جو واہ واہی ہوئی ہے، اسے بدنام کرنے کے لئے ننکانہ صاحب کا یہ ایک سال پرانا معاملہ میڈیا پر اچھالنا، جہاں ایک طرف سنگھیوں کی سازشی حکمت عملی کا حصہ ہے،وہیں پر دراصل یہ سنگھی حکومت اس  ایشو کو اب میڈیا پر اچھال کر،اس کالے قانون کے خلاف دیش بھر میں اٹھے احتجاج کو کمزور کرنا چاہتی ہے تو دوسری طرف کرتار پور راہداری کو بند کرتے ہوئے سکھ برادری کے پاکستان حکومت اچھے تعلقات میں کرواہٹ لانا لچاہتی ہے
کچھ مہینے پہلے اس سنگھی سرکار نے کشمیر کے لئے مختص دستور ھند کی دھارا 370 ہٹانے کا جب فیصلہ لیا تھا تو اس وقت بھی جموں و کشمیر کی سکھ برادری سنگھیوں کے 370 منسوخ کئے جانے کے فیصلے کے خلاف، کشمیریوں کے حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ سکھ برادری کا ماننا یہ ہے کہ بھارت پر حکومت کررہی سنگھی سرکار، اگر 370 ہٹائے جانے اور مسلمانوں کے تین طلاق کے مسئلہ پر قانون بناکر مسلمانوں کے مسلم پرسنل لا میں مداخلت کرتے ہوئے، مسلم پرسنل لاء کو ہی  بے وقعت بنانے کی کوشش کرتی ہےاور شہریت قانون ترمیم سے بھارت دیش میں اراجستا اور بے چینی پیدا کرنا چاہتی ہے تو، دراصل یہ سنگھی حکومت بھارت دیش کو ایک اور وبھاجن یا بٹوارے کی طرف لے جارہی ہے۔ اگر آزادی بند کے وقت مہاتما گاندھی جی  بھارت واسیوں کو یہ یقین دہانی نہ دلاتے کہ بھارت دیش ایک سیکیولر جمہوریہ ہوگا اور مسلم سکھ سمیت مختلف دھرموں کے لوگوں کو یہاں آزادی سے، اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرا رہنے کی آزادی ہوگی تو آزادی بھارت کے وقت، بیس کروڑ بھارتی مسلمان پاکستان جانے کا ارادہ ترک کر، یہیں بھارت میں بس جانا،کبھی پسند نہیں کرتے۔اور نہ ہی پاکستان پنجاب سے ہزاروں سکھ وہاں کی اپنی زمین جائیداد چھوڑ بھارت  واپس آنا کیوں کر پسند کرتے؟  گاندھی جی کو اس وقت کیوں مارا گیاتھا؟ اور کس نے گاندھی جی کو مارا تھا؟ دراصل مہاتما گاندھی جی اپنے قول کے پکے تھے۔ ہزاروں سالہ مختلف المذہبی ہندو مسلم بھائی بھائی والی،گنگاجمنی سیکیولر روایات کو، بھارت کے مستقبل کے طور، مہاتما گاندھی دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی لئے آزادی ھند کے بعد آزاد بھارت کا دستور العمل بنانے کی ذمہ داری، دیش کی سب سے پچھڑی دلت قوم کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے، بابا بھیم راؤ امبیڈکر کے حوالے کی گئی تھی اور بھارت سے پلائین کر پاکستان جارہے مسلمانوں کو پاکستان جانے سے روکنے ہی کے لئے، کانگریس کے سب سے بڑے سیا سی لیڈر جواہر لال نہرو اور بڑے مسلم سیاسی لیڈر مولانا ابو الکلام آزاد کو ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ انہی کی کوششوں نے اور بھارت کا سیکیولر بین المذہبی دستور العمل بنائے جانے کے گاندھی جی، جواہرلال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل سمیت، اس وقت کے تمام بڑے کانگریسی رہنماؤں کے متفقہ وعدے اور فیصلے کے پیش نظر، پاکستان پلائن کر جارہے کروڑوں  مسلمانوں کے قافلے، پاکستان ھجرت کرجانے سے رک گئےتھے اور یہیں  بھارت میں ہی صدا جینے مرنے کو ترجیح دیا تھا بلکہ پاکستان پنجاب کے رہائشی لاکھوں پاکستانی سکھ،وہاں کی اپنی زمین جائیداد چھوڑ ہندستان آکر بسنے کو ترجیح دی تھی۔گاندھی جی کے زندہ رہتے اس وقت کے انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے ہندو مہا سبھائی آزادہوتے بھارت میں، اپنی آستھا، مقام بنائے رکھنے کے لئے، بھارت ہندو راشٹریہ کا نعرہ دیا تھا جو گاندھی جی کے، بھارت کو گنگا جمنی تہذیبی سیکیولر دیش بنانے کے پرتگیہ اور انکے عہد نے، ھندو مہاسبھائیوں کے، ھندو راشٹریہ بنانے کے خواب کو چکنا چور کردیا تھا۔ اسی لئے ہندو مہا سبھائی، سرگرم کار سیوک،گوڈسے نے بھارت دیش کا سب سے پہلا دہشت گرد، اپنے آپ کو ثابت کرتے ہوئے،دیش پتا مہاتما گاندھی کو قتل کیا تھا۔اسی لئے آج کے بھارت پر راج کررہے تمام سنگھی لیڈران، بھارت دیش کے پہلے دہشت گرد قاتل مہاتما، گوڈسے کو اپنا گرو مانتے اور اس کی پوجا کرتے پائے جاتے ہیں
 آزاد بھارت دیش کو ہزاروں سالہ گنگا جمنی تہذیبی بین المذہبی سیکولر ملک بنائے جانے کے راجیہ پتا مہاتما گاندھی جی کے اعلان بعد،  نہ صرف پاکستانی ھندو اور  سکھ برادری، بلکہ مشرقی پاکستان کے بنگالی ھندو برادری بھی، لاکھوں کی تعداد میں پڑوسی صوبے آسام اور کلکتہ آکر بس گئے تھے۔ مشرقی پاکستان سے ھجرت کر آئے لاکھوں بنگالی ،اپنی بنگالی بھاشہ کے چلتے کلکتہ میں گھل مل چکے تھے، لیکن بٹوارے کے وقت مشرقی پاکستان سے آسام میں آکر بسنے والے لاکھوں بنگالیوں کو، آسامی لوگوں نے قبول ہی نہیں کیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے آسام میں ان مشرقی پاکستان سے ھجرت کر آئے بنگالی بھاشہ ھندوشرنارتھیوں کے خلاف،1960 سے ہی آسام میں اندولن شروع ہوا تھا۔پھر 1970 اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ اندرا گاندھی جی کی کامیاب خارجہ پالیسی کے چلتے، دشمن پڑوسی ملک پاکستان کو کمزور کرنے کےخاطر، مشرقی پاکستانی بنگالیوں کی مکتی باہنی فوج تیار کر،پاکستان کے دولخت ٹکڑے کر، بنگلہ دیش بنانے کی کامیاب حکمت عملی کے چلتے، 1971 بھارت پاکستان جنگ دوران،بنگلہ دیش بنتے وقت، مشرقی پاکستان سے آئے لاکھوں بنگالی شرنارتھیوں نے، آسام میں پہلے سے بنگالی شرنارتھیوں کی جلتی آگ پرتیل چھڑکنے کا کام کیا تھا۔ جو آگے چل آسام میں 1982 اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اور آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کے مابین، تاریخی آسام ایکورڈ کا ذریعہ بنا۔ جس کے تحت 1971 بنگلہ دیش بننے سے پہلے مشرقی پاکستان سے آئے بنگالی شرنارتھیوں کو بھارتی شہری تسلیم کیا گیا تھا اور بنگلہ دیش بننے کے بعد آئے بنگالی شرنارتھی جو بنگلہ دیش بننے کے بعد واپس بنگلہ دیش جانے سے رہ گئے تھے، انہیں واپس بنگلہ دیش بھیجنا طہ پایا تھا۔  اور بعد آزادی ھند مشرقی پاکستان سے آکر آسام میں بسے بنگالی شرنارتھیوں اور 1971 بنگلہ دیش بنتے وقت آسام آکر بسے بنگالی شرنارتھیوں کی پہچان ہی کے لئے، صرف آسام صوبے میں ہی، این آر سی کروانے کا حکم دیش کی سب سے بڑی عدلیہ سپریم کورٹ نے دیا تھا۔
بھارت دیش کی آزادی میں اس وقت سب سے بڑا یوگدان اس دیش کے مسلمانوں نے اور سکھ برادری نے دیا تھا۔ بھارت کی آزادی کے خلاف بھارت پر زبردستی حکومت کر رہے انگریز سامراج کی مخبری کرنے والے اور آزادی بھارت کی لڑائی لڑنے والے ہیروز کو گرفتار کروانے والے،اس وقت کے ہندو مہا سبھائی اور آج کے یہ سنگھی، ہم بھارت واسیوں کی بدقسمتی سے، سیکیولر ووٹوں کے مختلف سیاسی پارٹیوں میں بٹنے ہی سے، 2014 عام انتخاب میں ،محض ایک تہائی سے بہت کم ووٹ لینے کے باوجود، قاتل مہاتما گاندھی کے چیلے، یہ شدت پسند سنگھی، اس بھارت دیش پر اپنی سنگھی حکومت  قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔اور اپنی برہمنی سوچ کو آزاد بھارت دیش پر نافذ کرتے، بھارت پر اپنے دو فیصدی برہمنی راج کو مستقلا قائم کرتے، دیش کی دوسری اقلیتیں، مسلم سکھ وغیرھم کو سیکیولر بھارت میں دئیے، مذہبی آزادی سے محروم کرنے ہی کی خاطر، آسام میں بنگالی شرنارتھیوں کی پہچان کے لئے سپریم کورٹ کے حکم سے شروع کئے گئے این آر سی کو، پورے بھارت میں کرنے کا اعلان کرتے ہوئے، مسلم سکھ اور نارتھ ایسٹ ریاستوں کے مختلف  مذھبی اقلیتوں میں، ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کرتے ہوئے، ان کے پوروجک ہندو مہا سبھائیوں کی سازش کی وجہ سے، 1947 ٹوٹے اکھنڈ بھارت کو، ایک مرتبہ پھر مختلف ٹکڑوں میں بانٹنے پر مجبور کررہے ہیں بھارت دیش پر حکومت کر رہے یہ سنگھی مودی یوگی  امیت شاہ جیسے رہنما، آزادی بھارت کے بعد سے بھارت میں بسے،ہم سوا سو کروڑ ھندواسی،اپنے آپ کو بھارت واسی نہ صرف سمجھتے آئے ہیں بلکہ آزادی بند کے بعد سے اب 2019 عام انتخاب تک ان سنگھیوں کو بھی، بھارت پر راج کرنے اپنے ووٹ دے چکے ہیں۔ اگر ہمارے ہی ووٹوں سے جیت کر آئے یہ سنگھی حکمراں، ہمارے بھارت دیش کے شہری ہونے پر شک کرتے ہیں تو، پہلے ہمارے ووٹ سے جیت کر آئے ان سنگھئوں کو اپنا استعفی دے حکومت سے باہر ہونا چاہئیے۔ہم تمام بھارت واسی اس ملک کے شہری تھے اور شہری رہینگے۔ اگر انہیں ہماری شہریت پر شک ہے تو ہم سے بھارت کا شہری ہونے کا پرمان پتر مانگنے کے بجائے،ہمارے اس ملک بھارت کے شہری  نہ ہونے کا ثبوت انہیں پیش کرنا چاہئیے۔صرف 3 کروڑ کے  آسام صوبے میں پانچ سال کے طویل عرصے بعد، 54 ہزار کروڑ روپیہ جہاں خرچ کرتے ہوئے،این آر سی کا کام جو پورا ہوا ہے،جس میں بھی، این آر سی کرنے والے سنگھی کاریہ کرتاؤں کی دانستہ کہ نادانستہ غلطیوں کے سبب ،آسام کی 6 فیصد غیر این آر سی ٹہرائی گئی جنتا، اپنے استھتو کے لئے پریشان ہے،وہیں پر 135 کروڑ والے، بھارت دیش میں،این آر سی کرنے کے لئے، 25لاکھ کروڑ روپیہ خرچ کرنے، اس ارتھ ویستھا بدحال بھارت میں کہاں سے پیسہ لایا جائیگا؟اور ان سنگھیوں کی دانستہ شرارت سے نون این آر سی قرار دئیے جانے والے 6% بھارتی شہری جو کم و بیش 8 کروڑ نون این آر سی قرار دئیے جائیں گے انکی پریشانی کیا آزاد بھارت جھیل پائیگا؟ یا بھارت دیش ایک اور وبھاجن کی طرف زبردستی دھکیل دیا جائیگا؟
اس ملک بھارت میں آزادی بند کے بعد سے دیش کے مختلف حصوں صوبوں میں، ملیانہ، مظفر نگر، بھیونڈی، گجرات ممبئی فساد میں مسلمانوں کا جو قتل عام ہوا تھا اس کو کرنے والے نہ سکھ تھے اور نہ 84 اندراگاندھی کی موت بعد دہلی میں ٹائر گلے میں ڈال کر زندہ جلائے گئے سکھوں کے پیچھے بھارت کے مسلمانوں کا ہاتھ تھا۔ بلکہ آزادی بھارت کے بعد سے اب تک، اس دھرتی پر جتنے بھی فساد و نرسنگہار ہوئے ہیں وہ سب کے سب دیش کے سب سے پہلے دہشت گرد، قاتل مہاتما گاندھی، گوڈسے وادی سنگھی ہی تھے۔ سچر کمیٹی رپورٹ مطابق صرف چار فیصد بھارت کے مسلمان پڑھے لکھے حکومتی نوکری و دیگر مراعات پاتے پائے جاتے ہیں باقی 96%بھارتی مسلمان اس دیش پر بوجھ نہیں بلکہ خود کما کر اپنی آل اولاد کو پال پوس رہے ہیں۔ بلکہ اسی کے دہے بعد تو، خلیج کی عرب کھاڑی میں اپنا خون پسینہ بہا کر، اربوں پیٹرو ڈالر بھارت لاتے ہوئے، اس وقت کے غریب اور پس ماندہ ملک کو، ترقی یافتہ اور خوشحال کرنے کا سہرا بھارت دیش کے مسلمانوں کو ہی جاتا ہے۔ اب بھی خلیجی عرب کھاڑی سے مسلمانوں کے خون پسینے کے اربوں پیٹرو ڈالربھارت آنا بند ہو جائیں تو، سنگھی حکمرانوں کی خراب ارتھ ویستھا پالیسیز سے بدحال،ارتھ ویستھا عالمی منڈی میں،بھارت دیش کب کا کنگال ٹہرایا جائے؟
ایک طرف پڑوسی دشمن ملک پاکستان سرحد کے دونوں طرف بسے بٹوارہ بھارت کے وقت الگ ہوئے مسلم، سکھ برادریوں کو آپس میں محبت میل ملاپ سے رہنے دینے کی خاطر، نہ صرف اپنی سرحد کے کافی اندر والے حصوں کے سکھ مذہبی گردوارے، بنا پاسپورٹ ویزا کے، اپنے ملک کی سرحد کے اندر آتے ہوئے، مذہبی آستھا پوری کرنے کے مواقع دیتے، دونوں طرف بسے، مختلف المذہبی لوگوں کے دل جوڑنے کی کوشش کررہا ہے، تو دوسری طرف بھارت پر حکومت کررہے یہ سنگھی حکمراں، جہاں اپنی خراب ارتھ ویستھا پالیسیوں سے، بھارت دیش کی ارتھ ویستھا کو برباد کر چھوڑ چکے ہیں، وہیں پر اپنی حکومتی خامیوں ناکامیوں پر پردہ ڈالے بھارت واسیوں کو بے وقوف بنائے، ان پر حکومت کرنے کے لئے، اس بھارت دیش کے صدیوں پرانے دیش واسیوں میں،آسام طرز این آر سی نافذ کرتے ہوئے، اپنے  مولیوادی 135 کروڑ بھارتیوں کو، اپنے شہری ہونے کے پرمان پتر تلاش کرنے میں، انہیں مشغول کر، اور ان میں ڈر اور خوف پیدا کرتے ہوئے،بھارت دیش کا ایک اور بٹوارہ کرنے کی تیاری میں لگتے ہیں یہ سنگھی حکمران۔ایسے میں کیب، کآ، این آر سی اور این پی آر کالے سنگھی نازی قانون کے خلاف، پورے بھارت دیش میں مختلف ورگ کے مختلف  المذہبی، مختلف العمری، شروع ہوئے احتجاجی دھرنے جلسے جلوس، اس وقت تک بند نہیں ہونے چاہئیے جب تک یہ دیش کے پہلے دہشت گرد گوڈسے وادی یہ سنگھی حکمراں، اپنے نازی کالے قانون، کآ،این آر سی اور این پی آر کو واپس لینے کا اعلان نہیں کرتے۔وما علینا الا البلاغ

Comments are closed.

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com