میر قاسم علی خان: ایک مجاہد آزادی

مکرمی:بنگال کے جنگجونواب میر قاسم علی خان(20 ستمبر،1760)اپنے بھتیجے میر ظفرسے علیحدگی کے بعد مسلسل اپنی بادشاہت قائم رکھنے کے لئے مضبوط جماعت کے ساتھ برطانوی حکومت کے خلاف جنگ لڑی۔نواب کے دور حکومت میں ہر طرف خوشحالی تھی لیکن برطانوی حکومت نے سب کچھ تباہ برباد کر دیا۔انگریزوں نے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا,ہر طرح سے ان کے ساتھ ایذا رسانی کی گئ اور ان پر تشدد کیا گیا۔سفاکانہ قانون کے خلاف احتجاج کرنے پر قیدو بند کی صعوبتیں دی گئیں۔نواب نے ملازمین اور شاہی درباریوں کے خلاف شکایت پانے پر ان کے خلاف سخت ایکشن لیااور ہر طرح سے آذادانہ فیصلہ لیا۔ 1762 میں بنگال کا دارالحکومت مرشد آباد سے منگر شفٹ کیااور ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف10 جون,1763 کو خلاف جنگ کا آغاز کیا۔نواب نے برطانوی حکومت کے خلاف اس یقین کے ساتھ جنگ کا آغاذکیا تو انہیں یقین تھا کہ فتح انہیں کی ہوگی۔
لیکن نواب کی شکست ہوئ اور وہ فرار ہونے میں کامیاب رہے۔نواب شجاع الدولہ اور شاہ عالم دوم میر قاسم کے ساتھ نہیں تھے۔قاسم کو اودھ اور دہلی کی مشترکہ فوج نے دھوکہ دیا۔جو خاموش تماشائی بنی رہی ،جس کے نتیجے میں نواب قاسم کو غیر معمولی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔نواب نےہتھیار ڈالنے یاگرفتاری سے گریز کیا اور اس کے بعد بہت سے مقامی حکمرانوں سے رابطہ کیا۔آخیر میں دہلی کے قریب 1877 میں فوت ہو گئے۔

شفیق الرحمن
نئ دہلی

Comments are closed.

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com