کشمیر,بنگال اور بھائ چارہ

مکرمی:سیکڑوں کشمیری پنڈت اور مسلم 6اکتوبر اتوار کے دن ایک ساتھ اہم مندروں,مزارات اور پہلی نوراتری کو اجتماعی دعوت میں شریک ہوئے۔واضح رہے کہ یہ سب تب کی بات ہے جب کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائ جا چکی تھی۔اس اجتماعی دعوت میں دونوں طبقے کے سیاست داں,سرمایہ دار اور ریٹائر فوجی بھی شریک ہوئے۔مسلم خواتین رضیہ علی,نکہت اور عنایت نے سری نگر کے حبہ کدال علاقہ میں مندروں میں کام کیا۔دفعہ 370 کی موجودگی اور عدم موجودگی نے بھائ چارہ اور دو مذہب کے لوگوں کے درمیان محبت کو کم نہیں کیا۔اس کے علاوہ حالیہ جموں کشمیر معاملے کو لیکر ہوئے فیصلے پر بھی دونوں طبقے کے لوگوں نے ایک دوسرے کیلئے تلواریں نہیں کھینچیں۔اس کے علاوہ بنگال میں بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہت بڑی مثال ملتی ہے۔بنگال میں درگا پوجا کثیر الثقافتی تقریب ہے۔یہاں درگا پوجا ایک فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت ہے۔یہ تہوار فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔اس وقت پنڈال سے لائوڈیسپیکر پر اذان دی جاتی ہے۔دوسری طرف بنگال کی مسلم رکن پارلیمنٹ نصرت جہاں اپنے خاوند کے ساتھ پوجا پنڈال کا دورہ کر دیوی دیوتا کو خراج تحسین پیش کیا۔ہندو اور مسلمانوں نے پوجا پنڈال کے پاس اپنے اسٹال لگاکر اپنے اہنے نظرہے کے لٹریچر تقسیم کئے۔کچھ مسلم تنظیمیں لوگوں کے درمیان پانی کی بوتلیں تقسیم کیں۔درگا پوجا بنگال میں ایک دوسرے کے نظرے کے تبادلے کا گواہ بنا۔

اشرف خان
نئ دہلی

Comments are closed.

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com