شفیع جاوید: شبستانِ وفا کا ایک اور چراغ بجھ گیا

کامران غنی صبا، پٹنہ

کبھی کبھی عجیب سی حیرانی ہوتی ہے۔ کیا واقعی موت سے قبل ہر انسان کو آگاہی ہو جاتی ہے؟ یا پھر اللہ اپنے کچھ خاص بندوں کو ہی موت سے قبل آگاہ کرتا ہے؟ شفیع جاوید صاحب سے کچھ روز پہلے فون پر بات ہوئی۔ بہت دیر تک حوصلہ افزائی اور نصیحت کرتے رہے۔وہ ایک عرصے سے مجھ سے ملاقات کے متمنی تھے۔ میری نااہلی کہ میں ان سے ملنے کا وعدہ کرتا رہا ، انہوں نے اپنی طبیعت خرابی کا بارہا ذکر کیا۔۔۔ یہاں تک کہا کہ ’بیٹا اب میں چراغِ سحری ہوں، کب ہوا کا کوئی تیز جھونکا آئے اور میں بجھا دیا جاﺅں، کہہ نہیں سکتا۔“ حیف! صد حیف! کہ میں اپنا وعدہ وفا نہ کر سکا۔ شفیع جاوید صاحب روٹھ کر اتنی دور چلے گئے کہ اب ان سے ملنا تاقیامت نا ممکن ہو گیا۔
محبت اور شفقت سے محروم ہوتی اس دنیا میں شفیع جاوید صاحب کی شخصیت بہت ہی قابلِ تکریم تھی۔ میری ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں تھی لیکن میری کسی تخلیق پر ان کی نظر پڑتی تو خود ہی فون کرتے۔ محبتوں اور دعاﺅں سے نوازتے۔ آخر عمر میں ان کے مزاج اور طبیعت میں نمایاں تبدیلی آ گئی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ تصوف کی دنیا میں پناہ ڈھونڈ رہے ہوں۔ بزم صدف انٹرنیشنل کی طرف سے 15 اگست کو بہار اردو اکادمی میں نو منتخب اسسٹنٹ پروفیسرز کے اعزاز میں ایک تقریب رکھی گئی تھی۔اس کی صدارت شفیع جاوید صاحب فرما رہے تھے۔ اس موقع سے ایک خوب صورت مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا تھا۔ مشاعرہ میں جس وقت میں اپنی غزل ” میں جو مئے خانہ¿ دل میں اترا کبھی میرے اندر کا ہم وجد میں آگیا“ سنا رہا تھا ، شفیع جاوید صاحب کی آنکھیں بند تھیں۔ میں جب غزل مکمل کر کے اسٹیج سے نیچے اترا تو شفیع جاوید صاحب نے گلے سے لگا لیا۔ ان کی آنکھوں کی نمی صاف جھلک رہی تھی۔ اگلے دن رات کو ان کا فون آیا۔ بہت دیر تک دعاﺅں سے نوازتے رہے۔ غزل کے پس منظر میں فلسفہ و عرفان کی عجیب و غریب باتیں بتاتے رہے، یہ بھی کہا کہ اگر چاہو تو میری بات نوٹ کر لو۔
والد محترم (ڈاکٹر ریحا ن غنی) سے ان کی بے پناہ قربت تھی۔ ابو اکثر ان سے ملنے جایا کرتے تھے۔ ایک روز انہیں ابو کی طبیعت خرابی کا پتہ چلا تو بے چین ہو اٹھے۔ میں اسکول میں تھا۔ مجھے انہوں نے فون کیا۔ پہلے تو بے وقت فون کرنے کے لیے معافی مانگی پھر ابو کے تعلق سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھانے کا مشورہ دینے لگے۔ اپنے اطمینان کے لیے انہوں نے یہاں تک کہا کہ ’بیٹا ڈاکٹر کو دکھا کر مجھے خبر ضرور کرنا، میرا دل لگا رہے گا۔‘۔۔۔۔
شفیع جاوید صاحب کو وہ مقام نہ مل سکا جس کے وہ حقدار تھے۔ وہ کھل کر اظہار تو نہیں کرتے تھے لیکن ان کے لہجے کا کرب ان کے احساسات کو ظاہر کر دیتا تھا۔ آخر عمر میں وہ ادبی دنیا سے تقریباً کٹ چکے تھے۔ کبھی کبھار ’پندار‘ میں ان کے مختصر افسانے شائع ہو رہے تھے۔ ادبی تقریبات سے بھی انہوں نے تقریباً کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ میری معلومات کی حد تک بزم صدف انٹرنیشنل کی جانب سے بہار اردواکادمی میں 15 اگست کو نو منتخب اسسٹنٹ پروفیسرز کے اعزاز میں جو پروگرام منعقد کیا گیا تھا، شفیع جاوید صاحب کی زندگی کا وہ آخری پروگرام تھا۔
شفیع جاوید صاحب کے انتقال سے مجھے ذاتی طور پر جو ملال ہے اس کا اظہار لفظوں میں ناممکن ہے۔ اگر میں نے ان سے ملاقات کاووعدہ وفا کیا ہوتا تو شاید آج ملال کی یہ کیفیت نہ ہوتی۔ اللہ میری کوتاہی کو معاف کرے۔ شفیع جاوید صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے۔

Comments are closed.

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com