فرقہ وارانہ ہم آہنگی

مکرمی:ملک کی انسانیت کے پرانے قدیم راستے کو آگے بڑھاتے ہوئے ابو,نصیر اور زبیر قریشی نے ایک ہندو بھائ کی بڑے عزت و احترام کے ساتھ آخری رسم انجام دی۔مذکورہ تینوں افرادگجرات کے امریلی ضلع کے ساور کونڈلا قصبے کے رہنے والے تھے۔ایک برہمن پربھو شنکر پانڈیا اپنی آخری رسم ہندو رسم و رواج کے مطابق چاہتے تھے۔پربھو شنکر عید کی خوشی میں باقاعدگی سے شامل ہوتے اور مسلم بھائیوں کیلئے کبھی تحائف خرید کردیتے۔مسلمانو بالخصوص قریشی برادری کےلوگوں کے ساتھ ہمیشہ رحم دلی اور دوستانہ طریقے سے پیش آئے۔اس کے علاوہ قریشی بھائیوں نےپربھو شنکر کیلئے خالص سبزی کا پکوان بناکر انہیں پیش کیا۔مذکورہ مسلمانوں نے مذکورہ برہمن سے آشیرواد لیا اور ان کے پیر چھوئے۔یہ ساری باتیں ہندوستانی گنگاجمنی تہذیب ایک زبردست مثال ہیں۔ہندو مذہب کی تیرہویں رسم کے موقع پر بھی مسلمانوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیش کی۔
ونائک چتورتھی اور محرم کے دوارن بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال ملتی ہے۔ستمبر کے پہلے ہفتہ میں ونائک چتورتھی اور محرم مناتے ہوئے دونوں مذہب کے لوگوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال پیش کی۔تمل ناڈو کے دارالحکومت چنئ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی زبردست مثال پیش کی گئ تھی۔ونائک چتورتھی کی تقریبات کے اور گنیش وسرجن کے دوران مسلمانوں نے امن برقرار رکھتے ہوئے ہندو بھائیوں کو تقریب منانے وسرجن میں مدد کی۔ اسی طرح سے محرم کے دوران مقامی مسجد کے باہر کھڑے ہوکر ہندو بھائیوں نے مسلمانوں کو مشروبات پیش کئے۔ان باتوں کے بتانے کا مقصد یہ ہیکہ اس طرح کی باتیں سماج میں امن اور خوشی کا باعث ہوتی ہیں۔

سماجی کارکن:معراج عالم
نئ دہلی

Comments are closed.

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com