Select your Top Menu from wp menus
سرخیاں

ماں کی محبت

ماں کی محبت

اللہ تعالیٰ نے کئی سو سال پہلے انسان کو بنایا یعنی مرد کو اس وقت اللہ تعالی نے صرف مرد کو ہی بنایا۔۔۔ ساتھ عورت کو نہیں بنایا اور سارے فرشتوں کو اسے سجدہ کرنے کے لئے کہا گیا۔عورت اس وقت بھی نہیں تھی اسے اللہ تعالیٰ نے اس کے بہت وقت کے بعد بنایا۔۔۔۔جب مرد کا دل جنت میں بھی نا لگا تو اللہ تعالی نے عورت کو بنایا۔۔۔۔ مرد کو اللہ تعالی نے مٹی سے بنایا یہ مٹی بے رونق۔۔۔۔یہ ایسی مٹی تھی جس میں کوئی خوشبو بھی نا تھی۔ کئی سالوں تک مٹی ایسی ہی رہی پھر ایک پتلا بنایا گیا۔۔۔۔کئی سالوں کے بعد اس میں روح ڈالی گئی۔لیکن عورت کو اللہ رب العزت نے مرد کی پسلی سے پیدا کیا۔۔۔۔وہ بھی دل کے سب سے قریب والی پسلی سے۔۔۔۔۔صرف ایک رات میں! مرد کو بنانے والی مٹی معمولی تھی۔۔۔۔۔اسے پاک صاف کر مرد کو بنایا اور اس کی پسلی سے عورت کو بنایا۔۔ کیسی عجیب بات ہے نا کے مرد کے لئے استعمال ہونے والی مٹی بالکل عام اور معمولی تھی۔۔۔ اور عورت کو بنانے کے لئے استعمال کی جانے والی مٹی کتنی اعلیٰ تھی۔۔۔پھر بھی زمین پر عورت کو کبھی وہ عزت اور اہمیت حاصل نہ ہوئی جو مرد کو حاصل ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالی نے ایک نطفہ سے عورت کی کوکھ میں ایک جان کو پیدا کیا ۔یقیناً اللہ رب العالمین بہت بڑا مصور ہے۔پھر وہ عورت ماں کہلائی۔۔۔ ہاں ماں۔۔۔ممتا کی جیتی جاگتی مورت۔۔۔۔ کتنی مٹھاس اور شیرینی ہے اس لفظ میں۔۔۔۔۔ ماں وہ ہوتی ہے جس کو دیکھ کر پر وقار احساس جنم لیتے ہیں۔ ماں کی طرف اٹھنے والی ہر نگاہ میں عزت و احترام ہوتا ہے جس کی حیا صبح کی اجلی کرنوں کی طرح چمکتی ہے۔ جس کا بھولاپن پھولوں میں نظر آتا ہے۔ سارے رشتے پیدا ہونے کے بعد بنتے ہیں۔۔۔۔اس زمین پر صرف اور صرف ایک ایسا رشتہ ہے جو ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی بن چکا ہوتا ہے۔
جب ایک بچہ پیٹ میں ہوتا ہے تو وہ بس وہی کھاتی پیتی ہے جس سے بچے کو کوئی نقصان نا ہو۔۔۔وہ ہر درد ،ہر تکلیف برداشت کر لیتی ہے۔۔۔ مگر درد کم ہونے کی کوئی دوا نہیں لیتی تاکہ کہیں وہ دوا بچے پر برا اثر نا کرے۔۔۔ اس کی نیند حرام ہو جاتی ہے۔ وہ کسی ایک کروٹ ہو کر چین سے سو بھی نہیں سکتی۔۔۔وہ سوتے میں بھی جاگتی رہتی ہے۔ ہر وقت ٹتولتی رہتی ہے۔ اس کی ڈھڑکن کو محسوس کرنے کی کوشش کرتی ہے۔پورے نو مہینے تک جیسے ایک درد سے گزرتی ہے۔۔۔۔ اپنی کوکھ میں لئے پھرتی ہے۔۔۔۔۔ ماں کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کے پیٹ میں پلنے والاکیسا ہوگا ،کیسا دکھتا ہوگا۔۔۔اس جہاں میں کوئی بھی انسان صورت دیکھ کر ہی پیار کرتا ہے۔۔۔۔۔ پر ایک ماں ہی ہے جو بنا دیکھے بے انتہا پیار کرتی ہے۔۔۔۔۔دنیا کا کوئی بھی رشتہ اس خلوص، محبت، پیار کی مثال پیش کر ہی نہیں سکتا۔۔۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس کو اپنی محبت کا پیمانہ بنا لیا۔۔۔۔ماں کی محبت و ممتا پورے عالم میں ایک مثال ہے۔۔۔ماں کی محبت وہ گہرا سمندر ہےجس کی گہرائی کو آج تک کوئی ناپ نہیں سکا اور نا ہی ناپ سکے گا۔جب وہ ایک بچے کو جنم دیتی ہے۔۔۔ تو قیامت سے گزر کر جنم دیتی ہے۔۔۔۔ اس وقت اس ماں کا بھی نیا جنم ہوتا ہے۔اتنا درد، تکلیف برداشت کرنے کے بعد بھی اپنے وجود کو سرخرو اور سرشار محسوس کرتی ہے۔اور اپنی پروا کئے بغیر سب سے پہلے سوال کرتی ہے میرا بچہ کیسا ہے؟؟؟ اسے پالنے کے لئے رات دن ایک کرتی ہے۔۔۔۔خود گیلے بستر پر سوتی ہے اور بچے کو سوکھی جگہ سلاتی ہے تاکہ اسے ٹھند نہ لگے۔۔۔کہیں بیمار نہ ہو جائے۔
اللہ رب العالمین کے بعد ماں واحد ہستی ہے جو اپنے بچے کے عیب چھپا کر رکھتی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی کسی کا خیال نہیں رکھتا پر اللہ تعالی کے بعد صرف ایک ماں ہی ہے جو اپنے بچے کا خیال رکھ سکتی ہے۔ اور تب تک رکھتی ہے جب تک اس کی سانس ٹوٹ نا جائے۔ ماں کتنی سادہ اور بھولی ہوتی ہے۔اسے لگتاہے کہ اس کا بچہ دنیا کا معصوم ترین بچہ ہے۔۔۔۔ہر وقت اپنے بچے کو چھوٹا ہی سمجھتی ہے اسے لگتا وہ دنیا داری اور دنیاوی چالاکی سے واقف نہیں ہے۔ ہر وقت اور ہر مسئلے کا حل ماں کی نظر میں اپنے بچے کے لئے دعا ہی ہوتی ہے۔۔۔اور اللہ تعالی ماں کی دعاؤں کو قبول بھی فرماتا ہے۔کوئی بھی بات کو سچ مان لیتی ہے۔۔۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر سہم جاتی ہے۔۔۔۔بہت جلدی ڈر جاتی ہے۔
اس دنیا میں ماں سے بڑھ کر احترام اورکیا ہوگاکہ اللہ تعالی نے اس کے پیروں میں جنت رکھ دی ۔تو سوچئے اس کا مقام کیا ہوگا۔ہر مشکل آسان ہو جاتی جب ماں ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔ زندگی بھر کمانے کے بعد ساری دولت بھی ماں کے قدموں میں رکھ دی جائے تو بھی ہم ماں کی ایک رات کا قرض بھی نہیں اتار سکتے جو اس نے ہمارے لئے جاگ کر گزاری تھی۔
ماں سے روح کا رشتہ ہوتا ہے ماں جنت کو پانے کا آسان طریقہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے قدموں میں جنت رکھ دی ہے۔اس کا احساس ہماری آخری سانس تک رہتا ہے۔جس طرح سمندر کا پانی کبھی ختم نہیں ہوتا اسی طرح ماں کا پیار نہ کم ہوتا ہے نا ختم ہوتا ہے۔ ماں کی بھی کئی خواہشیں ہوتی ہیں۔۔۔ کئی امنگیں ہوتی ہیں۔لیکن جیسے ہی وہ ماں بنتی ہے، ساری خواہشیں، امنگیں، جذبات، اپنے سارے شوق۔۔اپنے بچے پر نچھاور کر دیتی ہے۔وہ سب کچھ بھول کر صرف اپنے بچے کی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اللہ رب العالمین ہمارے قلب کو ماں کی عزت و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

سیدہ تبسم منظور ناڈکر۔ممبئی
نائب ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
9870971871

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com