Select your Top Menu from wp menus
سرخیاں

خود حفاظتی تعلیم و تدریب وقت کی اہم ضرورت

خود حفاظتی تعلیم و تدریب وقت کی اہم ضرورت

نقاش نائطی
+966504960485

*آجکل ہندستان میں، ہندستانی ابلا ناری پر جو ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں،ہر دن صنف نازک کا آغوا اور اجتماعی عصمت دری اور قتل کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں، ایسے میں، نساء میں، خود حفاظتی ہنر کی تعلیم و تدریب، وقت کا اہم مسئلہ بن کر سامنے آرہی ہے۔ کراٹے جوڈو اکھاڑہ، اگر اسکولی، بچوں، بچیوں میں سکھانے کو عام بنایا جائے تو یہ معاشرے کے لئے اچھا شگون ہوگا۔ لیکن اگر کراٹے جوڈو اکھاڑہ سکھانے کا انتظام نہ ہو پائے، تو کم از کم کسی شیطان صفت مرد آہن کی، نساء کی عصمت و پاکدامنی پر حملہ آور ہونے کی صورت، خود حفاظتی کچھ پینتروں سے، ہر تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں کو تربیت دینا انتہائی ضروری ہے*

*عام رجحان یہ ہے کہ ھند کے اس منافرتی ماحول میں، ملی اسکولوں، مدرسوں میں اکھاڑہ جوڈو کراٹے کی تربیت دینا مناسب نہیں ہے، یا سنگھی حکومت کی یا سنگھی ذہنیت لوگوں کی نظروں میں مناسب نہیں ہوگا۔ یہ ہمارا غلط وہم ہے۔ ہندستانی دستور اور دیش کی عدلیہ بھی ہمیں، خصوصا نساء کو خود حفاظتی تعلیم و تدریب کا انتظام کرنے کی، نہ صرف اجازت دیتی ہے بلکہ اس کی ہمت افزائی بھی کی جاتی ہے۔ یہ اور بات ہے کچھ سنگھی ذہن تعلیمی شعبہ سے منسلک حکام، مسلم اداروں کو ایسے تدریبی نظم، قائم کرنے سے روکتے پائے جائیں یا ہم مسلمان خود، حفظ ماتقدم ڈر اور خوف کی بنا پر،اپنی بچیوں کو، ایسے مدافعتی کھیلوں سے باز رکھیں*

*ہم نے ایسے کئی مسلم اداروں کو اپنے یہاں اسکولی بچیوں کو جوڈو کرانے،اکھاڑہ کی تعلیم وتدریب کامیاب انداز دیتے، نہ صرف پایا ہے۔ خصوصا ہندو منافرتی ماحول والے علاقوں کے دینی مدارس کے طلبہ و طالبات میں،ایسے تدریبی تعلیمی کورسز کامیاب انداز میں چلائے بھی ہیں۔ اس کے لئے ہمیں ابتداء میں کچھ حد تک سیکولر بننا پڑیگا۔ ہمارے مسلم اسکولوں مدرسوں میں جوڈو کراٹے اکھاڑہ تدریبی کورسز شروع کرتے وقت، مسلم ماہرین فن ہی کو رکھنے کے بجائے، برادران وطن کے ماہرین، چاہے کہ وہ سنگھی ذہنیت افراد ہی کیوں نہ ہوں،چور ڈاکو کو ہی،اپنی نگرانی میں، اپنے مال و ذر کی حفاظت پر معمور کئے جیسا، انہیں ہی ایسے تدریبی مراکز کا ذمہ دار بنا کر، انہی کے ہاتھوں ملی اسکولوں، مدرسوں کے بچوں، بچیوں میں جوڈو کرانے اور اکھاڑہ کی مدافعتی تربیت اپنے مسلم بچوں اور بچیوں کو دینی ہوگی۔عموما ہر فن کے ماہر، جوڑے پائے جاتے ہیں ایسے کسی مدافعتی کھیلوں کے، برادران وطن میں سے، کسے جوڑے کو اپنے ملی مدرسوں اسکولوں میں ہم تعینات کریں گے تو ہم پر، مذہبی منافرت پھیلانے یا ہندو اکثریت کے خلاف سازش رچنے کا الزام بھی نہیں آئیگا۔ ساوتھ انڈیا منگلور کنداپور کے قریب کنڈلور مدرسہ ریاض العلوم کے کئی سو، بچوں بچیوں کے اقامتی اسکول میں ، گذشتہ دس پندرہ سال ہے جوڈو کراٹے کی تربیت،غیر مسلم اساتذہ کی نگرانی میں شروع کرتے ہوئے، آج تک ہزاروں بچوں بچیوں کو خود حفاظتی ہنر سے مشتاق و ماہر بنایا جاچکا ہے*

*خصوصا مسلم بچوں بچیوں کے اقامتی اداروں میں، صبح بعد نماز ،ایک گھنٹہ ایسے جوڈو کراٹے اکھاڑہ کے تعلیمی تدریبی کورسز، ہر طالب علم کے لئے لازم ملزوم بنائے جائیں، اور ایک گھنٹہ تدریب و تعلیم کے بعد، انہیں فریش ہونے کا موقع دیا جائے اور پھر ناشتہ بعد، تعلیمی کورسز شروع کئے جائیں تو مدافعتی تدریبی انتہائی مشقت آمیز کورسز والی محنت کے بعد، ہوسکتا ہے طلباء کو ناشتہ کی مقدار، تھوڑی زیادہ دینی پڑے، لیکن ہر صبح اس ورزشی عمل سے،یقینا اقامتی ہوسٹل طلبہ میں موسمی بیماری میں کمی پائی جائیگی اور اسکول انتظامیہ کو بچوں کے صحت عامہ، میڈیکل اخراجات میں نہایت کمی آتی،یقینا محسوس ہوگی۔اور بعد ورزش، قلب و ذہن میں دوڑتے خون کے ساتھ، بچوں کا ذہن و فہم بھی عام روٹین تعلیم کے لئے،پہلے سے زیادہ فریش اور تازہ دم،تعلیمی صلاحیت کے لئے بھی، ممد و مددگار ثابت ہوگا۔ انشاء اللہ*
*تمام ملی دینی مدارس اور عصر حاضر کے تعلیمی ادارے، اپنے اپنے اسکولی بچوں اور بچیوں میں، کچھ اس طرز پر جوڈو کراٹے اکھاڑہ مدافعتی کورسز شروع کریں گے تو یہ نہ صرف مسلم سماج،بلکہ طبقہ نساء اور انسانیت پر بھی احسان عظیم ہوگا۔ صرف زبانی جمع خرچ اور اخباری بیان بازیوں سے پرے، اس وقت،ارباب اقتدار ادارہ مسلم امہ کے لئے، عملی اقدامات کا معاشرے کو انتظار ہے۔وما علینا الا البلاغ*

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com