Select your Top Menu from wp menus

غزل……….

غزل……….

ہم تو سچ بات بتانے سے بھی گھبراتے ہیں
وہ تو الزام لگاتے ہیں گزر جاتے ہیں
مجھکو معلوم ہے ان کا نہیں ملنا ممکن
پھر بھی جاتے ہیں گلی ان کی سنور جاتے ہیں
جاگتی آنکھوں سے جو خواب تھے دیکھے ہم نے
اس تصور سے بھی گھبراتے ہیں ڈر جاتے ہیں
اچھے وقتوں میں مرا ساتھ نبھانے والے
بس انہیں دیکھیے وہ لوگ کدھر جاتے ہیں
کیا مصیبت ہے کہ ہر بات پلٹ جاتی ہے
ان کو کہتے ہیں ادھر اور وہ ادھر جاتے ہیں
اس طرح سے بھی محبت میں ہوا ہے اکثر
اس کے رستے میں بھٹکتے ہیں تو مرجاتے ہیں
اب تو جاذب میں بھی باقی نہیں الفت لیکن
کچھ تو ہے بات کسی اور سے گھبراتے ہیں

حسان جاذب

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com