Select your Top Menu from wp menus

ہندوستانی مسلمانوں کی رواداری اور قوم پرستی

ہندوستانی مسلمانوں کی رواداری اور قوم پرستی

مکرمی: ہندوستان میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی رہتی ہے۔ تقریبا18کروڑ مسلمان ہونے کے باوجودہندوستان کےمسلمانوں نے بیرونی دنیا میں پھیلی دہشت گردی میں شامل ہونا مناسب نہیں سمجھا۔جبکہ دوسرے کئی ملک کے مسلمان اس میں شامل ہوتے چلے گئے۔یہ اور بھی دلچسپ ہوجاتا ہیکہ کشمیر میں تین دہائیوں سے دہشت گردی کا ماحول ہے۔ لیکن ہندوستان کے باقی مسلمانوں نے اس سےخود کو الگ رکھنا ہی مناسب سمجھا۔جب دنیا بھر سےافغانستان میں 1980 کی دہائی میں گلوبل جہاد میں شریک ہونے کی آواز اٹھی تو پوری دنیا کے الگ الگ ملکوں سےقریب100000مسلمانوں نے شرکت کی مگر ہندوستان کا ایک بھی مسلمان اس میں شامل نہیں ہوا۔ہندوستانی مسلمان القاعدہ سے بھی دور رہے۔حالانکہ لگ بھگ 200 بھارتی مسلمانوں نے داعش کیلئے آواذ اٹھائ اور 22 تولڑنے کیلئے شام بھی گئے۔دوسرے 25 جوکہ کیرالا سے تھے وہ بھی افغانستان تک گئے اور باقی نے آن لائن کام کیا۔یہ بھی اہم ہیکہ جہاں داعش دنیا بھر سے 30000لڑاکوں کو بلانے میں کامیاب رہا وہیں ہندوستانی مسلمان اس سے دورہی رہے۔ان سب کے باوجود بھی 1980کے بعد سے ملک میں فرقہ پرستی کا زہر پھیلا ہے اور فساد بھی ہوئے ہیں۔ہندوستانی مسلمانوں کا دنیا بھر میں پھیلی دہشت گردی سے دور رہنا ہندوستان کی تکثیری اور جامع تہذیب کا نتیجہ ہے۔ہندوستان میں اسلام دو طرح سے چل رہا ہے, اول وہ لوگ جو شریعت کے راہ پر گامزن ہیں،دوم وہ جو صوفی فکر سے متاثر ہیں۔نویں صدی میں کچھ سنت جو اون سے بنا چولا (صوف)پہنتے تھے وہ صوفی کہلائے۔انہوں نے کچھ گروہ بنائے جو اپنے چیلوں اور مریدوں کے گروپوں کے ساتھ پورے ملک میں پھیل گئے۔ان میں سے کچھ یہاں کے ہندئووں سے وابستہ ہوئے اور ان کا کچھ روایت,رواج اور طور طریقہ اپنایا۔صوفی پیروں کی مزار اسی کا نتیجہ ہے۔ہندوستان میں اس لئے صوفی طبقہ زیادہ بڑھا۔یہ سلسلہ چودہویں صدی تک چلتا رہا۔ پندرہویں صدی میں کبیر,نانک اور چیتک کے آنے کے بعد بھکتی آندولن چلا اور صوفی,بھکتی میں مماثلت بھی دیکھی جانے لگیں۔ملک محمد جو کہ ہندوستانی تہذیب کے بڑے جانکار تھے۔ نے لکھا بھی ہیکہ صوفی اور بھکتی نے ہندو اور مسلمانوں کو ساتھ رہنا سکھایا۔بھارت کی تکثیری تہذیب کو بھارت کے آئین میں جگہ دی گئ۔حالانکہ 1947 کی تقسیم کے بعد پاکستان کو مسلمانوں کا گھر مانا گیا لیکن ہندوستان میں ہندو مسلمان ساتھ ساتھ رہے۔جواہر لعل نہرو نے لکھا کہ یہاں کی تکثیری تہذیب خود کو ایک ملک وقوم کی شکل میں کھڑا کرے گی۔یہاں کے آئین بنانے والوں نے سیکولر آئین بنایا۔نہرو نے یہاں بھی کہا کہ ہم ایسا بھارت چاہتے ہیں جو سیکولر ہو اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کو جینے یکساں مواقع دے۔یہاں جمیعتہ علماء ہند نے بھی ہندو مسلمانوں میں اتحاد کا کام کیا۔جماعت اسلامی نے بھی مانا کہ دیگر ملکوں کی فاشسٹ سرکاروں کے مقابلے یہاں کی سیکولر سرکاریں اچھی ہیں۔یہاں یہ بھی دیکھنا واجب ہیکہ 2009 اور 2014جہاں 58فیصد اور 68فیصد ہندئووں نے وہیں 58فیصد اور 66 فیصد مسلمانوں نے ووٹ کیا۔63فیصد مسلمانوں نے اور 64 فیصد ہندئووں نے سرکاری اداروں پر بھروسہ ظاہر کیا۔

محمد عثمان
نئ دہلی

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com