Select your Top Menu from wp menus
سرخیاں

ہندوستانی مسلمان,امن کے علمبردار

ہندوستانی مسلمان,امن کے علمبردار

مکرمی:وطن عزیز کے مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہیکہ انہوں تین طلاق اور بابری مسجد پر بھی اطمینان سے کام لیا۔مودی حکومت نے تین طلاق کو ختم کیااور زیادہ تر مسلمانوں نے اسے بے ہچک مان لیا۔یہ بھی دیکھا گیا ہندو شدت پسندوں کے بھڑکانے کے باوجود مسلمانوں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور امن بنائے رکھا,اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہیکہ مسلمانوں میں سیاسی سمجھداری بڑھی ہے اور انہوں نے خود کو ہندوستان کا ایک ضروری حصہ مانا ہے۔یہاں تک کہ ہندو شدت پسندوں نے بیف کا مسئلہ اٹھایا تب بھی مسلمانوں نے اس کی مخالفت نہیں کی۔بابری مسجد معاملے پر بھی مسلمانوں نے سمجھداری دکھائ۔حالانکہ اس معاملے کو لیکر خاص طور سے 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندو مسلمانوں میں دوریاں بڑھیں۔یہ بھی غور طلب ہیکہ 40فیصد ہندو اور مسلمان دونوں مانتے ہیں کہ مسجد بہت ضروری ہے۔جبکہ 35 فیصد ہندو اور 32 فیصد مسلمان ہیں کہ یہ بہت زیادہ اہم نہیں ہے۔6 دسمبر1992کو جب سولہویں صدی میں ہندئووں کےمذہبی شہر ایودھیا میں بنائ گئ ہندو شدت پسندوں نے شہید کیا تو ملک کا ماحول خراب ہو گیا تھا۔جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں فسادات ہوئےلیکن ںعد میں دونوں مذہب کے لوگوں نے ہندوستانی تہذیب کو اوپر رکھتے ہوئے دھیرے دھیرے ساتھ رہنا مناسب سمجھا۔آج جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک کے مسلمانوں نے ایسا کوئ قدم نہیں اٹھایا جو ملک کی جمہوریت کے خلاف ہو۔ایک خاص بات یہ بھی کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے کشمیر پرپاکستان کی سیاست اور اس کی دہشت گردی سے خود کو دور رکھا ہے۔1935کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں جب مسلمانوں کو سیپریٹ الیکٹوریٹ کا حق ملا تب بھی مسلمانوں نے مسلم لیگ کا ساتھ تو دیا مگر کانگریس کا دامن نہیں چھوڑا۔لیکن مسلم لیگ اور اس کے حکمرانوں کو یہ موقع مل گیا کہ وہ مسلمانوں کو علیحدہ جگہ دے سکیں اور نیشنلسٹ ہندو ایسا کہہ سکیں کہ ملک کی تقسیم مسلمانوں کی وجہ سے ہوئ۔یہ بات قابل غور ہیکہ سارے مسلمان پاکستان نہیں گئے اور ہندوستان کو ہی اپنا گھر مانا ۔ہندوستان کی پانچ ہزار پرانی تہذیب نے لوگوں کو ملانا سکھایا ہے۔پچھلے ستر سالوں سے ملک کے مسلمان یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ ملک برابری سے ان کا ہے۔اس طرح سے ملک کے اٹھارہ کروڑ مسلمانوں نے مذہبی شدت پسندی کو خارج کیا ہے اور دیگر مذاہب کے لوگوں بالخصوص ہندوئوں کے ساتھ مل کر رہتے ہوئے ملک کی ترقی کیلئے کام کرنا مناسب سمجھا ہے۔

محمد یونس
نئ دہلی

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com