Select your Top Menu from wp menus

مہاراشٹرا:سیاست کی بساط پر بھاجپا پسپا

مہاراشٹرا:سیاست کی بساط پر بھاجپا پسپا

احوال وطن

 منصورآغا

 ضرب کلیم میں جمہوریت کے عنوان سے علامہ اقبالؒ کے قطعہ کی حقیقت پڑھنے کے تقریباً نصف صدی بعد اب کھلی۔ علامہ کہتے ہیں:

اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش

ہرچند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے

جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

بعض نکات استاد کے سمجھائے سمجھ میں نہیں آتے، مگراتفاقی کسی واقعہ سے دماغ میں بجلی سی کوندتی ہے اوراس کا راز کھل جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ہماری جمہوری تاریخ میں پیش آیا۔ مہارشٹرا میں رات کے اندھیرے میں بغیرکابینہ کی منظوری،صبح پانچ بجے سوتے سے اٹھا کر صدرراج کے خاتمے کے فرمان پر صدرجمہوریہ کے دستخط، اورصبح آٹھ بجے سے پہلے این سی پی کے باغی لیڈراجیت پوار کے ساتھ مسٹرفڈناویس کی دوبارہ حلف برادار ی۔یہ سارا کام ایک فرد کے اشارے پراسی طرح اناًفاناًہوگیا جس طرح نوٹ بندی ہوئی تھی۔ایک کی زد قومی معیشت پر پڑی تھی اوردوسرے نے جمہوریت کورسواکیا۔ریاست کے گورنرکے اقدامات قانونی طورسے درست بھلے ہی قرارپائیں، مگر جمہوری اخلاقیات پر ان کی شدید زد پڑی ہے۔ سوال صدرجمہوریہ کی عجلت پر بھی اٹھے ہیں۔اورحلف برداری سے بھی سواگھنٹہ قبل 6:46 بجے وزیراعظم کا مبارکبادی کاٹویٹ،اس توقع کا اظہار کہ دونوں مل کرریاست کے روشن مستقبل کیلئے کام کریں گے  جس نے راز کھولا کہ علامہ اقبال نے کتنی کھری بات کہی تھی۔

 ہندستان میں وزیراعظم کے منصب کیلئے شائستہ،سمجھدار، آئین اورقانون کو سمجھنے اوراس کا پاس لحاظ رکھنے والے، ملک کو ترقی کے راستے پر چلانے والے لیڈروں کی کوئی کمی نہیں، لیکن انتخابی میدان میں اس منصب کیلئے دوایسی شخصیات نمایاں تھیں جن کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ نااہلی اورچھچور پن میں کون کم ہے؟ چنانچہ عوام نے اس کو چن لیا جو زیادہ چرب زبان تھا اورزمین آسمان کے قلابے ملانے میں طاق تھا، حالانکہ یہ منصب عجلت پسندی، خود پسندی اور چرب زبانی کا متحمل نہیں ہوتا۔ ہم نے اپنے پڑوس میں دیکھا ایک لیڈراٹھا، مودی کی بالکل ٹرو کاپی اوراپنی سیاسی کجروی اور اقتدارکی طلب اورعجلب پسند ی سے ملک کو دوپھاڑ کردیا۔ اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرما۔ گدی پاجانے والے راحت اندوری کی نصیحت کو بھول جاتے ہیں:

جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہونگے

کرایہ دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے

مہاراشٹرا میں جب شردپوار اپنی انتخابی حریف شیوسینا کے ساتھ غیربی جے پی سرکار بنانے کے امکانات پر کام کر رہے تھے تب ہمارے کئی مبصروں نے کہا تھاکہ اس سے این سی پی اوراس کی حلیف کانگریس کی سیکولر شبیہ بگڑجائیگی۔ ہم نے تاریخ کے دریچوں میں جھانک کردیکھا تو کسی پارٹی میں سیکولرزم کی بے داغ شبیہ نظرنہیں آئی، جس کے داغدارہونے کا اندیشہ ظاہرکیا جارہا تھا۔ ہاں اس اتحاد سے امید کی ایک کرن یہ ضرورابھری کہ مہاراشٹرمیں زہریلی سانپوں کی جوڑی میں دائمی جدائی ہوجائیگی جو ریاست کیلئے ہی نہیں پورے ملک کیلئے نیک شگون ہے۔رہامخالف سمت کام کرنے والی حریف پارٹیوں کا گٹھ بندھن،تو یہ عملی سیاست میں اجنبی بات نہیں۔آزادی سے قبل جناح کی مسلم لیگ نے کانگریس کو باہررکھنے کیلئے ہندومہاسبھا کے ساتھ صوبہ سرحد میں سرکار بنالی تھی۔حالانکہ کانگریس میں مہاسبھائی ذہنیت رکھنے والے کم نہ تھے۔

 بیشک کئی مواقع پر شیوسینا نے شدید مسلم مخالف بیانات دئے ہیں۔ لیکن یہ مشہورہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج سے لیکر بالا صاحب ٹھاکرے تک ہندومراٹھالیڈروں نے غیر مراٹھامسلمانوں پراعتماد کیا۔ بالاصاحب کے تونجی ڈاکٹربھی مسلمان تھے۔ شیوا جی کے کئی اہم فوجی کمانڈر مسلمان تھے۔انہوں نے اپنے فوجیوں کو حکم دیاتھا کہ مسلم عورتوں اوربچوں کی حفاظت کی جائے۔ کسی مسجد کو نقصان نہ پہنچایا جائے اوراگرکہیں کوئی قرآ ن ملے تواحترام کے ساتھ مسلم ہاتھوں میں پہنچادیا جائے۔ ا پنے مسلم فوجیوں کیلئے نمازوروزہ وغیرہ کی سہولتیں فراہم کرائیں۔ اس نئے اتحاد کے بعدامید کی جانی چاہئے کہ شیوسینا کا رویہ بدلے گا،شیواجی مہاراج کے سیکولر کردار کو اپنایا جائے گا۔ اسکا نشانہ اب بھاجپا پرہوگا۔

44گھنٹے کے اندر سی ایم فڈناویس کے استعفے کے بعد سیاسی ماحول میں اس متوقعہ تبدیلی کیلئے راستہ صاف ہوتا نظر آرہا ہے۔اس کا پہلا اشارہ مسلم بچوں کو تعلیم میں چارفیصد ریزرویشن کی تجویز سے شیوسینا کی آمادگی ہے جس کو  بھاجپا۔ شیوسینا سرکار نے روک دیا تھا۔ سیاسی منظرنامے اس ڈرامائی تبدیلی سے بھاجپا کے دوبڑے اہنکاری لیڈروں کی جو کرکری ہوئی ہے اس کا اثر دیرتک اوردورتک دکھائی دیگا۔ بہت کچھ دارومدار اس پر ہوگا کہ جن ریاستوں میں عنقریب چناؤ ہونے والے ہیں، ان میں غیربھاجپائی لیڈر کتنی دوراندیشی اورسیاسی چابک دستی سے کام لیتے ہیں۔مہاراشٹرا میں بھاجپا کی وہ چالاکی تو خاک میں مل گئی جس سے اس نے کرناٹک میں کام لیا تھا اور کانگریس جے ڈی (ایس) ممبران اسمبلی کوپھنسا کرکماراسوامی سرکار کاتختہ پلٹ دیا تھااورتمام ترجمہوری قدروں کو پامال کردیا تھا۔ مہاراشٹراپرقبضہ کی بھاجپا کواس لئے زیادہ چاہت ہوگی کہ یہ ریاست ایسی ہی ہے جیسے دودھ دینے والی گائے۔جب چاہو دودھ نکال لو۔ بھاجپا کے ہاتھ سے یہ گائے شردپوار نے نہایت زیرکی سے چھین لی ہے۔ انہوں نے جس طرح بھاجپا۔ شیوسینا اختلاف سے سیاسی فائدہ اٹھایا  وہ سیاسی تاریخ کا باب بن جائے گا۔

شردپوار کی پہل پر اس اتحاد میں شرکت کیلئے کانگریس نے پھونک پھونک کرقدم بڑھایا۔ اطلاع ہے کہ مذاکرات کے کئی دورچلے۔ مشترکہ پروگرام کے اہم نکات طے ہوگئے ہیں۔جس اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا آسان ہوگا۔ ویسے بھی اودھوو ٹھاکرے کیلئے اب بھاجپا کی بغل میں جگہ بنالینا آسان نہیں ہوگا۔ امت شاہ پر وہ شاید ہی اعتماد کرسکیں جنہوں نے ان کے وقار کو پامال کرڈالا۔

سیاست کے اس کھیل میں راہل گاندھی کہیں نظرنہیں آئے۔ جب کہ شردپوار نے ثابت کردیا ہے کہ وہ عمررسیدہ ضرور ہیں مگراعصاب مضبوط ہیں، چنانچہ بھاجپا مخالف خیمے میں ان کا قدبڑھا ہے۔جس وقت میں یہ سطورلکھ رہا ہوں، ممبئی میں وزیراعلیٰ کے منصب پرادھووٹھاکرے کی پرہجوم عوامی حلف برداری کی تیاریاں ہورہی ہیں۔خبریہ ہے کہ نئی کابینہ ایک نائب وزیر اعلیٰ ان سی پی سے ہوگا۔پہلے نام اجیت پوارکا تھا۔ مگراب معاملہ مذبذب ہے۔ بہرحال ان کو ان کے سیاسی کھیل کا انعام مل چکا ہے۔ ان کی حمایت سے سرکار بن جانے کا  یقین ہوتے ہی ان کے خلاف کرپشن کے ہزارہاکروڑ کے 9 کیسوں میں اے سی بی کی انکواری فائلیں بند کرنے کی خبر ہے۔بھاجپا ان کو مہاراشٹرا کا سب سے کرپٹ لیڈر کہتی تھی لیکن ان کو نائب وزیراعلیٰ بنالیا۔ مگرمودی سرکار کو پلٹا کھاتے کیا دیر لگتی ہے۔ بقول غالبؔ توصورت یہ ہے:

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماریٔ دل نے آخر کام تمام کیا

دیکھنا یہ ہے کہ اس سیاسی الٹ پھیرسے کیامودی۔شاہ جوڑی کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے؟

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com