Select your Top Menu from wp menus

جہاں مودی امیت شاہ کی سیاست ختم ہوتی پے وہاں سے شرد پوار کی سیاست شروع ہوتی ہے.  بھوپیندر راوت 

جہاں مودی امیت شاہ کی سیاست ختم ہوتی پے وہاں سے شرد پوار کی سیاست شروع ہوتی ہے.  بھوپیندر راوت 
 گجرات فرضی اینکونٹر قتل کیس تڑی پاڑ ملزم  سنگھی امیت شاہ کو چانکیہ کہنا، تاریخی چانکیہ کردار کی بے عزتی کے مترادف عمل ہے
مہاراشٹرا انتخاب ختم ہوئے ایک مہینہ بعد بھی، تیس سال پرانے پارٹنر شیو سینا کے ساتھ حکومت قائم کرنے میں ناکام، سنگھی رام راج کے  چانکیہ کہلانے والے امیت شاہ کو سب سے بڑی پریشانی، جو بے چین کئے ہوئے تھی۔ گجرات بی جی پی حکومت دوران، سہراب الدین فرضی  اینکونٹر  پر تحقیق کررہے، سپریم کورٹ جسٹس لوہیہ کے، سہراب الدین فرضی اینکونٹر کیس تحقیقات میں،اس  وقت کے تڑی پار  آمیت شاہ کے خلاف گھیرا تنگ ہوتامحسوس ہورہا تھا۔ اگر اس وقت جسٹس لوہیہ،سپریم کورٹ کی طرف سے کی جانے والی  انکوائری کمیشن میں، امیت شاہ کے خلاف فیصلہ سنا دیتے تو، پہلے سے تڑی پار امیت شاہ کو جیل جانا پڑسکتا تھا۔ اسی لئے اچانک جسٹس لوہیہ کی مشکوک حالت میں موت بعد، انکی جگہ پر سپریم کورٹ سے نامزد دوسرے جج کے، امیت شاہ کو سہراب الدین فرضی اینکونٹر میں  کلین چیٹ دینے سے، جسٹس لوہیہ کی مشکوک موت کو، شری امیت شاہ کے اشارے سے قتل کئے جانے سے تعبیر کیا جارہا تھا۔ان ایام سے اب تک مہاراشٹرا کی شیو سینا ان کی شریک حکومت رہنے کی وجہ سے، جسٹس لوہیہ قتل کیس کے سلسلے میں  امیت شاہ مطمئن تھے
 اب اگر شیوسینا کے، بی جے پی کے خلاف جاتے ہوئے ،انکے مخالف کانگریس اور این سی پی کے، ساتھ مل کر حکومت قائم کرنے میں کامیاب رہتی یے تو، جسٹس لوہیہ کے اچانک ندھن کا کیس، کسی بھی وقت کھلنے اور امیت  شاہ کے جیل جانے کا خطرہ، بی جے پی کو کھائے جارہا تھا۔ اس لئے کسی بھی صورت، کسی بھی قیمت پر،مہاراشٹرا میں اپنی حکومت بنوانے کی کوشش میں امت شاہ سازشیں کرنے اور شیو سینا یا این سی پی یا کانگریس کے ایم ایل ایز کو کسی بھی قیمت پر خریدتے ہوئے مہاراشٹرا میں بی جے پی سرکار بنانے  کی سازشیں رج رہے تھے۔

 دوسری طرف مراٹھا قدآور نیتا شرد پوار این سی پی کے دوسرے قد آور نیتا،انکے بھیتیجے اجیت پوار پر،70 ہزار کروڑ کے ذراعتی گھپلے بازی کیسز سے پریشان تھے،حالیہ مہاراشٹرا انتخابات بی جے پی نے این سی پی کے ہزاروں کروڑ کے گھوٹالوں کو انتخابی مدا بنا کر ہی الیکشن   لڑا تھا ۔ اور قوی امکان تھا کہ اب کی مہاراشٹرا میں،بی جے پی سرکار بننے پر، اجیت پوار کو جیل جانا پڑسکتا تھا۔ایسے میں شرد پوار، بی جے پی کے تیس سالہ گھٹ بندھن سے شیو سینا کو توڑ کر، اگر مہاراشٹرا میں، بی جے پی مخالف حکومت قائم کرنے میں کامیاب بھی ہو پاتے تو، انکے اور اجیت پوار کے خلاف، بی جے پی مرکزی سنگھی حکومتی دباؤ  میں،دیش کی انٹیلجنس ایجنسیر، سی بی آئی، آئی بی کی طرف سے دائر،فرضی ذراعتی ستر ہزار کروڑ کے گھپلے بازی کیسز کی وجہ سے پریشان تھے اور  اگر نئی  بننے والی غیر بی جےپی ،کانگریس این سی پی شیوسینا حکومت، اجیت پوار پر ڈالے گئے فرضی کیسز کو ختم بھی کرتی تو، انہیں بدنام کرنے، بی جے پی کو ایک بہترین ہتھیار ہاتھ آجاتا۔ اس لئے شرد پوار کے لئے جہاں مہاراشٹرا میں غیر بی جے پی حکومت قائم کرنااہم مسئلہ تھا، وہیں پر سابق وزیر مالیات، پی چدمبرم کو جیل میں سڑائے تناظر میں، مرکزی بی جے پی حکومتی دباؤ میں، انکے یا اجیت پوار کے جیل جانے کا بھی خطرہ تھا اس لئے جہاں پوار مہاراشٹرا میں غیر بی جے پی حکومت قائم کرنے کی جہد میں تھے انکے خلاف 70 ہزار کروڑ کے ذراعتی گھپلے بازی الزام سے پاک و صاف ہونا بھی اتنا ہی انکےلئے ضروری تھا۔ اسی لئے مراٹھا سیاسی دنگل کے سمراٹ ،شرد پوار نے مختلف الجہتی ایسی سازش رچی کے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے،مثل مصداق، ایک طرف حکومت سازی کی سازش میں پہلے سے پریشان امیت شاہ کے سامنے ،ستر ہزار کروڑ گھپلے بازی کے داغ دھبوں والے اجیت پوار کو، سنگھی ڈٹرجن سے دھل دھلاکر،پاک و صاف باہر نکلنے کے لئے، بطور چارہ، اجیت پوار کو امیت شاہ کے آگے جانے کا حکم دیا تو دوسری طرف اپنے بقیہ ایم ایل ایز کو بھی اجیت پوار کے خلاف کچھ نہ بولنے کا اشارہ دیتے ہوئے ،بی جے پی کی جھپٹ سے انہیں محفوظ رکھا۔ امیت شاہ پوار کی سازش سے انجان، غیر بی جے پی سرکار بنائے جانے کی صورت، جسٹس لوہیہ قتل کیس کے دوبارہ کھلنے کے ڈر سے اپنے بچاؤ ہی کے لئے،اجیت پوار کی طرف سے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو  سگنل ملتے ہی، ہڑبڑاہٹ میں حکومت سازی کے چکر میں، دستور ھند کے اقدار کو پامال کرتے ہوئے، مہاراشٹرا پر لگے راشٹرپتی شاسن کو ہٹھانے،دوسری صبح خود انکے اپنے سنگھی صدر ھند کے جاگنے کا انتظار کئے بنا ہی، وزیر اعظم کو دستور میں دئیے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے، 56″ سینے والے وزیر اعظم شری نریندر دامودر مودی مہان کے حکم نامہ سے، سنیچر کی صبح 5 بجے مہاراشٹرا پر لگے صدر راج کو ہٹواتے ہوئے، دو تین گھنٹہ کے اندر گورنر مہاراشٹرا کو منھ اندھیرے جگواکر، صبح آٹھ بجے ہی نہایت راز داری داری سے فڑنوئس کو دوبارہ وزیر اعلی اور خود انکے بقول کل کے 70 ہزار کروڑ کے گھپلے باز، اجیت پوار کو نائب وزیر اعلی کی شپتھ دلوائی گئی۔سنیچر اتوار چھٹی رہنے کے باوجود پیر کی دوپہر سے پہلے اجیت پوار کو،  متعلقہ حکومتی اداروں کو حرکت میں لاتے ہوئے، ستر ہزار کروڑ کے ذراعتی گھپلے بازی سے بھی پاک و صاف قرار دیا گیا۔  یہ سب اس لئے کیا گیا تھا کہ گوا ,منی پور کرناٹک میں، بی جے پی ایم ایل ایز کی عددی کمی کے باوجود بھی، کانگریس کوپچھاڑ کر، سنگھی گورنر کے سپورٹ سے حکومت بناتے ہوئے، وقت رہتے مخالف پارٹی کے ایم ایل ایز کو فی کس کروڑوں  میں خریدتے ہوئے ،اپنی سنگھی حکومت بچا لے جانے کا سنگھی مودی امیت شاہ کو یقین کامل تھا۔ شیوسینا کے انصاف کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھکھٹانے کے باوجود، سنگھی مودی امیت شاہ کو،سپریم کورٹ کے ججز کے، انکے خلاف نہ جانے کا مکمل یقین تھا۔لیکن عش عش ہے مہاراشٹرامعاملہ حل کرنے قائم،سپریم کورٹ کےعارضی بنج کے ججز نے، چھٹی کے ایام سنیچر،اتوار میں بھی مسلسل اپنی نششتوں میں،  چیف منسٹر نامزد فڈنویس کی اسمبلی اکثریت ثابت کرنے 16 دن کی مہلت مانگنے کی پرواہ  نہ کرتے ہوئے اور سنگھی مودی امیت شاہ کے  حکومتی  دباؤ میں بالکل آئے بنا، منتخب ایم ایل ایز کی خرید و فروخت سے وقوع پذیر ہونے والے ممکنہ دستوری پامالی سے بچنے کے لئے، نامزد فڈنویس حکومت کو، صرف ایک دن کی مہلت دیتے، اسمبلی میں کھلی نامزدگی سے اکثریت ثابت کرنے کا حکم صادر کر، سنگھی مودی امیت شاہ کے ایم ایل ایز خرید کر، اکثریت ثابت کرنے کی سازش کو مکمل طور ناکام بنادیا۔ اور یوں  کل کے موسٹ کرپٹ نائب وزیر اعلی نامزداور سنگھی ڈٹرجن سے دھلے، کرپشن کے تمام الزامات سے  پاک و صاف ہوئے،  کچھ ہفتہ کچھ مہینے، سنگھیوں کے ساتھ رہنے کے پلان کو سمیٹتے،”صبح کا بھولا شام کو گر گھر لوٹے تو اسے بھولا نہیں کہتے ,بلکہ گلے لگائے خوش آمدید کہتے ہیں” مثل مصداق، اجیت پوار کو  36 گھنے کے اندر واپس اپنے چچا کے گھر لوٹنے کا موقع دستیاب ہوا۔اور یوں بڑے کروفر کے ساتھ اپنی اکثریت جتاتے، صبح کی کرنوں کے ساتھ، چڑیوں کی چہچاہٹ کے سنگ،شپتھ گرہن کرنے والے فڑنویس کو “بڑے ہی بے آبرو ہوکر،تیرے کوچے سے ہم نکلے” جیسا اسمبلی سے نکل گھر جانا پڑا۔
اس سیاسی اتھل پھتل میں مراٹھا سمراٹ شرد پوار کی سیاسی پینڑے بازیوں کے سامنے، سنگھی حکومت کے چانکیہ کہلانے والے امیت شاہ نہ صرف چاروں خانے چت رسوا ہوگئے ہیں، بلکہ ان کی چالبازیوں اور تگڑم بازیوں سے گذشتہ کئی سالوں  سے پریشان شیو سینا اگر اقتدار کے نشے میں بدلے کی بھاؤنا کے چلتے، امیت شاہ کو، عقل سکھانے پر اتر آتی ہے تو سپریم کورٹ جج جسٹس لوہیہ کی تشویشناک موت کا کیس کھولتے ہوئے، بھارت   دیش کے کامیاب ترین وزیر مالیات،ارتھ شاشتری  چدمبرم کو، کارواس  بھیجنے والے،کل کےتڑی پار ملزم، آج کے وزیر داخلہ  شری امیت شاہ کو، جسٹس لوہیہ کے قتل اور سہراب الدین  کے ساتھ ہی ساتھ انیک کئی اور فرضی مڈبھیڑ مارے گئے قتل کیسز میں جیل جانا پڑسکتا ہے۔
ایسے میں انیک قتل کے ملزم،سہراب الدین فرضی اینکونٹر میں تڑی پار مجرم کو، سنگھی حکومت کا چانکیہ کہنا بھی ، تاریخی کردار چانکیہ کی بے عزتی کرنے کے مترادف عمل ہے۔فی زمانہ ھند کی سیاست کا چانکیہ کہلانے کے لائق کوئی ہے تووہ مراٹھا سمراٹ سابق وزیر داخلہ شرد پوار ہیں۔ہندستانی معیشیت کو پوری طرح برباد کرتے ہوئے، ساٹھ پینسٹھ سالہ کانگریسی ادوار میں، بڑی محنت سے قائم کئے ہوئے سرکاری کارخانے، تجارتی کمپنیاں، دیش کے انفراسٹرکچر، ریلویز اور ہوائی سروسز کو اپنے برہمن پونجی پتیوں کو بیچ  کر، اربوں سمیٹے اپنے کالے دھن سے،ھذب مخالف کے منتخب ایم ایل ایز کو خریدتے ہوئے، کانگریس مکت بھارت کے نرمان کے اپنے پلان کے تحت، پورے دیش کی صوبائی حکومتوں پر قبضہ جمانے والے، سنگھی حکمرانوں کو، اپنی مختلف الجہتی چالبازیوں سے، چاروں خانے چٹ کرواتے، اب کے بعد تنزلی کے سفر پر گامزن کرنے والے، ویر مراٹھا سمراٹ ہی،اصل میں چانکیہ کے مقام متمیز پر، براجمان ہونے کے لئے لائق سیاسی رہنما ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مہاراشٹرا جیسے بڑے صوبے کی حکومت ہاتھ سے چلے جانے کے بعد، بی جے پی کی مقبولیت کا گراف جو گرا ہے، کیا اس کے بعد بی جے پی مائل تنزل پذیر ہوتےہوئے،2024 تک ختم تو نہیں ہوجائے گی۔ اب تو کانگریس کو شرد پوار جیسے کانگریس چھوڑ گئے دوسرے انیک سیکیولر لیڈروں کو واپس کانگریس میں لاتے ہوئے، 2024 عام انتخاب سے قبل، بی جے پی کی خراب ارتھ ویستھا پالیسیز سے ہندستان کو برباد ہونے سے بچانے کی فکر کرنی ہوگی
پیرکے روز تین دن کی فڈنویس سرکار گرتے ہی، کچھ لمحوں میں، لکھے اور عالمی سطح پر نشر ہوئے، ہمارے مندرجہ ذیل تفکر میں،  دیش میں پہلی بار جن نکتوں پر ہم نے اشارے کئے تھے آج سائبر میڈیا پر،ہر کوئی اس طرف اشارے کررہا یے۔ کوئی قاری دوبارہ اسے پڑھنا چاہئے تو مندرجہ ذیل لنک پر، دو دن پہلے لکھے ہمارے تفکر کو پڑھ سکتا ہے۔
https://urdu.starnews.today/archives/49008
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com