Select your Top Menu from wp menus
سرخیاں

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ میں گاندھی کی حصے داری

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ میں گاندھی کی حصے داری

 

 

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ میں گاندھی کی حصے داری
افروزعالم ساحل کی کتاب”گاندھی اور جامعہ“کے حوالے سے
نایاب حسن قاسمی
ہندوستان میں مسلمانوں کی علمی وتعلیمی تاریخ کا یہ ایک پہلوہے کہ آج دہلی میں موجود جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاسیس بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدمِ تعاون کی کوکھ سے اُس وقت عمل میں آئی تھی،جب پہلے سے موجود ان کے مرکزی تعلیمی ادارے علی گڑھ ایم اے اوکالج نے اس تحریک میں حصہ لینے یا حصہ لینے والوں کی تائید کرنے سے صراحتاً انکار کردیا تھا۔گاندھی جی نے غیر معمولی سرگرمی کے ساتھ تحریکِ خلافت میں بھی حصہ لیاتھا اور تحریکِ عدمِ تعاون کے تو خیر وہی محرک و داعی تھے ،انھوں نے کالجکے ٹرسٹیز کواس تحریک کے مقاصدواغراض اوراس کی ضرورت سمجھانے کے لیے ایک خط لکھا،جسے انھوں نے اکثریت کی تائید سے ریجیکٹ کردیااور یہ فیصلہ کیاگیاکہ علی گڑھ اس تحریک سے علیحدہ رہے گا؛حالاں کہ دوسری طرف اسی علی گڑھ میں ایسے طلباکی بھی بڑی تعداد تھی،جو اس تحریک سے جڑنا چاہتے تھے،گاندھی و علی برادران کی قیادت میں برطانوی مصنوعات کے ساتھ تعلیم کے شعبے میں دی جانے والی سرکاری امداد سے بھی دست بردار ہونا چاہتے تھے،مگر پھر ان کے سامنے مسئلہ تھا کہ علی گڑھ سے نکل کر ان کی تعلیم اور مستقبل کاکیاہوگا؟اسی سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کی راہ ہموار ہوئی ،جسے ابتدامیں نیشنل مسلم یونیورسٹی کانام دیاگیا۔شیخ الہند، علی برادران، ڈاکٹر مختار احمد انصاری،مسیح الملک حکیم اجمل خان،عبدالمجید خواجہ اوران کے بعد ڈاکٹر ذاکر حسین اورپروفیسر محمد مجیب وغیرہ اس جامعہ کو بنانے،سنوارنے،اسے توانائی فراہم کرنے اور اس کی علمی،تحقیقی و تعلیمی شناخت کوقومی و بین الاقوامی سطح پر قائم و مضبوط کرنے والے لوگ تھے،انھوں نے جامعہ کو حقیقی معنوں میں جامعہ بنانے کی بے مثال اور لازوال جدوجہد کی،اسے قوم پرست مسلمانوں کا ایک عظیم تعلیمی مرکزبنایا،خاص کر حکیم اجمل خان نے اس ادارے کو علی گڑھ سے لے کر دہلی تک لانے اور ناگفتہ بہ حالات میں اسے باقی رکھنے میںقابلِ قدرخدمات انجام دیں،یہ ساری باتیں جامعہ اور معمارانِ جامعہ پر لکھی گئی کتابوں اور مقالات میں موجود ہیں۔
مگرقیام سے لے کر1948تک جامعہ کی تعمیر و ترقی میں ہندوستان کے عظیم قومی لیڈرمہاتما گاندھی کا جو رول رہاہے،وہ عام علمی حلقوںکو تو چھوڑیے، خود جامعہ والوں کی نگاہوں سے بھی تقریباً اوجھل ہے۔ جامعہ کے بانیوں کے ذکر کے ذیل میں گاندھی کا نام تو آتاہے،مگر سرسری؛حالاں کہ انھوں نے جامعہ کو جامعہ بنانے کے لیے جوکچھ کیا،وہ ان کی انسانیت نوازی و علم دوستی کی عظیم مثال ہے ۔ایسے میں نوجوان مصنف و صحافی افروزعالم ساحل کی مرتب کردہ کتاب”گاندھی اور جامعہ“جامعہ اور متعلقاتِ جامعہ پرموجود لٹریچر میں ایک خوشگوار و معلومات افزا اضافہ کہی جاسکتی ہے۔انھوں نے یہ کتاب لکھ کر گاندھی جی کے تئیں جامعہ اور ابناے جامعہ کی احسان شناسی کا بہترین ثبوت فراہم کیا ہے۔دوسوصفحے کی اس کتاب کو پڑھتے ہوئے اکتوبر1920میں جامعہ کے قیام سے لے کر1948میں گاندھی جی کی موت کے درمیانی عرصے میں جامعہ سے ان کی وابستگی،جامعہ کے تئیں ان کی فکر مندی،اس کی تعلیمی و تعمیری ترقیات کے لیے ان کی کوششوں،ملک کے نمایاں اہلِ ثروت و اصحابِ خیرکو جامعہ کی طرف متوجہ کرانے میں ان کی دلچسپیوں کو ماہ بہ ماہ؛بلکہ دن بہ دن کے حساب سے آگاہی حاصل تی ہے۔افروزعالم نے بڑی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ جامعہ اور گاندھی سے متعلق لٹریچرتک رسائی حاصل کرکے اپنے مطلب کی معلومات جمع کی ہیں۔اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہر قاری یہ محسوس کرے گاکہ گاندھی اور جامعہ کا کنکشن تواتنا مضبوط ہے کہ اُس وقت کے کسی بھی دوسرے تعلیمی ادارے سے شاید ان کا ایسا تعلق نہ رہاہو۔جامعہ سے متعلق گاندھی کی بہت سی تقریروں کے اقتباسات اور خطوط کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جامعہ کو اپنی اولاد مانتے تھے؛اس لیے وہ تاحیات اس کی ترقی و خوشحالی کے تئیں فکر مند رہے اور جب بھی کسی تعلیمی ادارے یا ایسی شخصیات کی مجلس میں پہنچے،توکسی نہ کسی بہانے جامعہ کا تذکرہ ضرور کیا،بعض شدت پسند ہندولیڈروں نے جامعہ کی مسلم شناخت پر سوال کھڑے کیے تو گاندھی نے آگے بڑھ کر جواب دیا اور اس ادارے کے فروغ کے لیے اپنے اخبار میں چندے کی اپیلیں کرتے رہے،جمنالال بجاج اور گھنشیام داس بڑلاجیسے ہندواصحابِ ثروت کو جامعہ کی امداد کے لیے آمادہ کیا؛بلکہ بجاج تواجمل جامعہ فنڈکے بلا تنخواہ خزانچی تھے،خود بھی اس فنڈ میں تعاون کرتے اوردوسروں سے بھی کرواتے ،گاندھی نے اپنے بیٹے دیوداس گاندھی کو جامعہ میں استاذرکھوایااوران کا پوتارَسِک گاندھی یہیں پڑھتاتھا،الغرض اول دن سے اپنی موت تک گاندھی جامعہ سے جذباتی حد تک جڑے رہے،آزادی و تقسیم کی ساڑھ ستی کے دوران گاندھی جب 9ستمبر1947کو دہلی پہنچے،تو اسٹیشن پر اترتے ہی لوگوں سے پہلا سوال انھوں نے یہ کیا کہ ”ذاکرحسین صحیح سالم ہیں؟جامعہ ملیہ محفوظ ہے؟“۔اسی سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جڑوں میں گاندھی اور گاندھیائی روح کس تک رچی ہوئی ہے۔
افروز عالم ساحل کی زیر تذکرہ کتاب ہمیں انہی حقائق سے روبروکراتی ہے،ان کا اندازِ ترتیب بھی شاندار ہے،شروع سے اخیر تک ایک خوب صورت تسلسل قائم ہے ، قاری گاندھی جی کے ساتھ جامعہ کا خوشگوار سفرکرتا جاتاہے۔کتاب ہندی میں ہے،مگر مرتب نے اس موضوع پرہندی کے علاوہ انگریزی و اردو مراجع و مآخذ سے بھی بھرپور استفادہ کیاہے اور حوالوں کا خاص اہتمام کیاہے۔ایک خصوصیت اس کتاب کی یہ بھی ہے کہ دورانِ تحریر جہاں جہاں کسی اہم شخصیت کا ذکرآیاہے،وہاں حاشیے میں مختصراً ان کی زندگی کا بھی احوال پیش کردیاہے۔کتاب کے اخیر میں گاندھی کا وہ طویل خط بھی درج کردیا ہے،جو انھوں نے ایم اے اوکالج ،علی گڑھ کے ٹرسٹیز کو لکھا تھا اوران سے تحریکِ عدم تعاون میں شرکت کی اپیل تھی،ساتھ ہی اس کے رسپانس میں ٹرسٹیز کی جانب سے ارسال کیے جانے والے خط کوبھی ٹائمس آف انڈیا کے یکم نومبر 1920کے شمارے کے حوالے سے نقل کیاگیاہے،اس خط میں یہ لکھاگیاتھاکہ 62رکنی ٹرسٹیز میں سے اکثریت نے آپ کی اسکیم کو مستردکردیاہے؛کیوںکہ اس تحریک میں شامل ہونا مسلمانوں کی تعلیمی ضرورت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔اس کے علاوہ 12اکتوبر1920کوایم اے اوکالج میں گاندھی اور مولانا محمد علی جوہر کے ذریعے کی گئی تقریریں بھی شاملِ کتاب کی گئی ہیں۔یہ تقریریں جس اجتماع میں کی گئی تھیں،وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیا م کی تمہید تھا۔ الغرض افروزعالم ساحل نے جامعہ کی تاریخ کے ایک اہم،مگرقدرے مخفی پہلوپربڑا قابلِ قدروستایش کام کیاہے۔یہ کتاب یوں تو ہر ہندوستانی کے مطالعے میں آنی چاہیے،مگر مسلمانوں اور خصوصاً جامعہ سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنے والوں کو تولازماً اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔کتاب کی طباعت انسان فاو¿نڈیشن ، جامعہ نگر،نئی دہلی کے زیر اہتمام عمل میں آئی ہے اورقیمت ساڑھے تین سو روپے ہے۔افروزعالم ساحل صحافتی و علمی حلقوں میں خاصے متعارف ہیں،اس سے پہلے بھی ان کی ایک سے زائد کتابیں شائع ہوکر مقبولیت حاصل کر چکی ہیں،امید ہے کہ اان کی اِس کتاب کو بھی اہلِ ذوق ہاتھوں ہاتھ لیں گے ۔اگر مستقبل قریب میں اس کا اردووانگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی شائع کیاجائے،تواس کی افادیت کا دائرہ مزید وسیع ہوجائے گا۔

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com