Select your Top Menu from wp menus
سرخیاں

مہاراشٹرا:سیاست کی بساط پر بھاجپا پسپاراجستھان اوریوپی میں عدالتوں کےلئے مسلم لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ کامیاب

مہاراشٹرا:سیاست کی بساط پر بھاجپا پسپاراجستھان اوریوپی میں عدالتوں کےلئے مسلم لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ کامیاب

احوال وطن
سید منصورآغا
’ضرب کلیم‘ میں’جمہوریت‘ کے عنوان سے علامہ اقبالؒ کے قطعہ کی حقیقت تقریباً نصف صدی بعد اب کھلی ہے ۔ علامہ کہتے ہیں:
اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہرچند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
بعض اشعار استاد کے سمجھائے سمجھ میںنہیں آتے، مگراتفاقی کسی واقعہ سے دماغ میں بجلی سی کوندتی ہے اوربات کا راز کھل جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ہماری جمہوری تاریخ میں پیش آیا۔ مہارشٹرا میں رات کے اندھیرے میں بغیرکابینہ کی منظوری ،صبح پانچ بجے سوتے سے اٹھا کر صدرراج کے خاتمے کے فرمان پر صدرجمہوریہ کے دستخط، اورصبح آٹھ بجے سے پہلے این سی پی کے باغی لیڈراجیت پوار کے ساتھ مسٹرفڈناویس کے دوبارہ حلف برادار ی ۔یہ سارا کام ایک فرد کے اشارے پراسی طرح ہوا جس طرح نوٹ بندی ہوئی تھی۔ سوال صدرجمہوریہ عجلت پر بھی اٹھائے جارہے ہیں۔حلف برداری سے بھی سواگھنٹہ قبل 6:46 بجے وزیراعظم کا مبارکبادی کاٹویٹ ،اس توقع کا اظہار کہ دونوں مل کرریاست کے روشن مستقبل کےلئے کام کریں گے‘ نے راز کھولا کہ علامہ اقبال نے کتنی کھری بات کہی تھی۔
ہندستان میں وزیراعظم کے منصب کےلئے شائستہ،سمجھدار، آئین اورقانون کو سمجھنے اوراس کا پاس لحاظ رکھنے والے، ملک کو ترقی کے راستے پر چلانے والے لیڈروں کی کوئی کمی نہیں تھی، لیکن انتخابی میدان میں اس منصب کےلئے دوایسی شخصیات نمایاں تھیں جن کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ نااہلی اورچھچور پن میں کون کم ہے؟ چنانچہ عوام نے اس کو چن لیا جوزیادہ چرب زبان تھا اورزمین آسمان کے قلابے ملانے میں طاق تھا، حالانکہ یہ منصب عجلت پسندی ، خود پسندی اور چرب زبانی کا متحمل نہیںہوتا۔ ہم نے اپنے پڑوس میں دیکھا ایک لیڈراٹھا، مودی کی بالکل ٹرو کاپی اوراپنی سیاسی کجروی اوراقتدارکی طلب اورعجلب پسند ی سے ملک کو دوپھاڑ کردیا۔ اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرما۔ گدی پاجانے والے راحت اندوری کی نصیحت کو بھول جاتے ہیں:
جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہونگے
کرایہ دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
مہاراشٹرا میں جب شردپوار اپنی انتخابی حلیف کانگریس کو ساتھ غیربی جے پی سرکار بنانے کے امکانات پر کام کر رہے تھے تب ہمارے کئی مبصروں نے کہا تھاکہ شیوسینا کے ساتھ جانے سے کانگریس (اوراین سی پی کی بھی) سیکولر شبیہ خراب ہوجائےگی۔ ہم نے اپنے ذہن کے تمام خانوں میں جھانک کردیکھا ، ہمیں کسی پارٹی میںسیکولرزم کی سچی شبیہ نظرنہیں آئی، جس کے مسمارہونے کا اندیشہ ظاہرکیا جارہا تھا ۔ ہاں اس اتحاد کے امکان سے امید کی ایک کرن یہ ضرورابھری کہ مہاراشٹرمیں زہریلی سانپوں کی جوڑی میں دائمی جدائی ہوجائیگی۔ جو ریاست کے لئے ہی نہیں پورے ملک کے لئے اچھا ہے۔رہاشیوسینا سے کانگریس کا گٹھ بندھن تو سیاست میں دومخالفوں کا مل جانا کوئی اجنبی بات نہیں۔آزادی سے قبل جناح کی مسلم لیگ نے کانگریس کو باہررکھنے کے لئے ہندومہاسبھا کے ساتھ سندھ میں سرکار بنالی تھی۔
بیشک کئی مواقع پر شیوسینا نے شدید مسلم مخالف بیانات دئے ہیں۔ لیکن یہ مشہورہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج سے لیکر بالا صاحب ٹھاکرے تک ہندومراٹھالیڈروں نے غیر مراٹھامسلمانوں پراعتماد کیا۔ بالاصاحب کے تونجی ڈاکٹربھی مسلمان تھے۔ شیوا جی کے کئی اہم فوجی کمانڈر مسلمان تھے ۔کانگریس اوراین سی پی کے ساتھ اتحاد کے بعدامید کی جانی چاہئے کہ شیوسینا کا سیاسی رویہ بدلے گا اور اسکا نشانہ بھاجپا پرہوگا۔
44گھنٹے کے اندر سی ایم فڈناویس کے استعفے کے بعد اس تبدیلی کےلئے راستہ صاف نظرآرہا ہے ۔ اس سے بھاجپا کے چوٹی کے دواہنکاری لیڈروں کی جو کرکری ہوئی ہے اس کا اثر دیرتک اوردورتک دکھائی دیگا ۔ بہت کچھ دارومدار اس پر ہوگا کہ جن ریاستوں میں عنقریب چناو¿ ہونے والے ہیں، ان میں غیربھاجپائی لیڈر کتنی دوراندیشی اورسیاسی چابک دستی سے کام لیتے ہیں۔مہاراشٹرا میں بھاجپا کی وہ چالاکی تو خاک میں مل گئی جس سے اس نے کرناٹک میں کام لیا تھا اور کانگریس جے ڈی ( ایس) ممبران اسمبلی کوپھنسا کرکماراسوامی سرکار کاتختہ پلٹ دیا تھااورتمام ترجمہوری قدروں کو پامال کردیا تھا۔ مہاراشٹرا کی بھاجپا کواس لئے زیادہ فکرہوگی کہ یہ ریاست ایسی ہی ہے جیسے دودھ دینے والی گائے۔جب چاہو دودھ نکال لو۔ بھاجپا کے ہاتھ سے یہ گائے شردپوار نے نہایت زیرکی سے چھین لی ہے۔ انہوں نے جس طرح بھاجپا ۔ شیوسینا اختلاف سے سیاسی فائدہ اٹھایا وہ سیاسی تاریخ کا باب بن جائے گا۔
اس سیاسی تبدیلی میں شرکت کےلئے کانگریس نے پھونک پھونک کرقدم بڑھایا۔ اطلاع ہے کہ تینوں فریقوں میں مشترکہ پروگرام کے نکات طے ہوگئے ہیں۔ ان میں ایک نکتہ تعلیم کے شعبہ میں مسلم طلبہ کو چارفیصدریزرویش دینابھی ہے جس کو ’بھاجپا۔سینا‘ سرکار نے نافذ کرنے سے انکارکردیا تھا۔مشترکہ پروگرام کی موجودگی میں باہم اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا آسان ہوگا۔ ویسے بھی اودھووٹھاکرے کےلئے بھاجپا کی بغل میں جگہ بنالینا آسان نہیں ہوگا۔ امت شاہ پر وہ شاید ہی اعتماد کرسکیں جنہوںنے ان کے وقار کو پامال کرڈالا۔
سیاست کے اس کھیل میں راہل گاندھی کہیں نظرنہیں آئے۔ جب کہ شردپوار نے ثابت کردیا ہے کہ وہ عمررسیدہ ضرورہوگئے ہیں مگراعصاب مضبوط ہیں، چنانچہ بھاجپا مخالف خیمے میں ان کا قدبڑھا ہے۔جس وقت میں یہ سطورلکھ رہا ہوں، ممبئی میںنومنتخب ممبران اسمبلی کی حلف برداری ہورہی ہے۔جب یہ اخبارآپ کے ہاتھوںمیں ہوگا، آثار ہیں کہ نئی کابینہ کی حلف برداری کی خبرآچکی ہوگی۔ تقریباً یہ طے تھا کہ دونائب وزرائے اعلیٰ میں ایک اجیت پوار ہونگے۔ مگران کو تو ان کے سیاسی کھیل کا انعام پہلے ہی مل گیا۔ بھاجپا کی حمایت کا یقین دلاتے ہی ان کے خلاف کرپشن کے ہزارہاکروڑ کے 9 کیسوں میں اے سی بی کی انکواری فائلیں بند کرنے کی خبرہے۔ مگرمودی سرکار کو پلٹا کھاتے کیا دیر لگے گی۔ بقول غالب فی الحال توصورت یہ ہے:
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری¿ دل نے آخر کام تمام کیا
دیکھنا یہ ہے کہ اس سیاسی الٹ پھیرسے کیا’ مودی ۔شاہ‘ جوڑی کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے؟
راجستھان سے اچھی خبر:گزشتہ بدھ، 22نومبرراجستھان جوڈیشیل سروس امتحان کے نتائج آئے۔ کل197امیدوارکامیاب ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے ان میں صرف 70لڑکے ہیں باقی 127 لڑکیاں ہیں۔ جے پور کی بیٹی مینک پرتاپ سنگھ نے 21سال کی عمر میں یہ امتحان پاس کیااورملک کی سب سے کم عمر جج بن گئیں۔میرٹ لسٹ میں ٹاپ کے دس میں آٹھ لڑکیاں ہیں۔ صرف پہلا اوردسواں رینک مردوں کو گیا۔
کامیاب امیدواروں میں 6مسلم نام بھی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں ایک فیصل خان (رینک 107) کے علاوہ باقی پانچوں لڑکیاں ہیں۔جودھپور کی ساجدہ کا رینک 37ہے، ثنا حکیم خاں کا130، ہما خواہری کا 136 اور شہناز خاں کو 143۔یہ پہلا موقع ہے کہ ریاست میں مسلم لڑکیوں نے یہ امتحان پاس کیا ۔ اب ان کی تین سالہ تربیتی کورس کے بعد تقرریاں ہونگیں۔ہم ان سب کو مبارکباد پیش کرتے ہیں دعاکرتے ہیں کہ وہ عدل وانصاف کے تقاضوں کو پوری دیانت اور لیاقت سے پوراکرسکیں۔
اترپردیش کے سول سروس امتحان کے نتائج گزشتہ ماہ آئے تھے جن میں کل 218امیدوار کامیا ب ہوئے ہیں۔ ان میں 7 مسلم لڑکیاں اور6لڑکے، کل 13مسلمان ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے راجستھان میں جہاں مسلم آبادی 9فیصد ہے، تعلیم کی رغبت زیادہ ہے اوربیٹیوں نے زیادہ مستعدی، محنت اورلگن کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن تناسب کے اعتبار سے 197میں ان کی تعداد 18ہونی چاہئے تھی۔ مطلوبہ سے یہ تعداد صرف ایک تہائی ہے۔ ابھی اورتوجہ کی ضرورت ہے۔
یوپی کا حال زیادہ خراب ہے۔ ریاست میں مسلم آبادی 19فیصد سے اوپرہے۔ ان کی تعداد13نہیں، 42ہونی چاہئے تھی۔ فروغ تعلیم کی طرف عرصہ سے توجہ دلائی جارہی ہے۔ سرسیدسے لے کر سید حامد تک سب نے یوپی کو بیدارکرنے کےلئے مہمات چلائیں۔ مگرخاطرخواہ کامیابی ابھی تک نظرنہیںآتی۔ ہم سیاست میں تومتناسب نمائندگی نہ ملنے کا ماتم کرتے ہیں اوردوسروں کو ذمہ دار قراردیتے ہیں، لیکن اعلیٰ تعلیم اوراس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی افسرشاہی میں اپنی نمائندگی بڑھانے سے غافل ہیں۔ خطیب وعلماءاپنے خطابات میں آخرت کی طرف توجہ دلاتے ہیں، اس دنیا کی زندگی میں خیر کی طرف رہنمائی میں کوتاہی کرجاتے ہیں۔ حالانکہ رسول رحمت ﷺ بکثرت دعا کرتے تھے: اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطافرما اورآخرت میں بھلائی عطافرما اورہمیں عذاب آخرت سے بچا۔ (بخاری) غورکیجئے پہلے دنیا کی بھلائی ہے ۔آخرت کاذکر اس کے بعدمیں۔ نکتہ یہ ہے کہ آخرت میں خیر کا راستہ اس دنیاوی زندگی سے ہو کرجاتا ہے۔ ہم اپنے لئے بھی اس کو خیرکا مقام بنائیں اورباقی تمام بندگان خداکےلئے بھی۔
8077982485

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com