Select your Top Menu from wp menus

بچے قوم کے سرمایہ ہیں 

بچے قوم کے سرمایہ ہیں 
 وسیم تیمی بن نورالعین سلفی
ہندوستان كے پہلے وزیر اعظم  پنڈت جواہرلا نہرو کی  تاریخ پیدائش كی مناسبت سے چودہ نومبر  كو  وطن عزیز میں یوم اطفال منایا جاتا ہے،نہرو جی  بچوں سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے، آپ ہمیشہ كہا  كرتے تھے:  ” بچے قوم كے سرمایہ ہیں،  یہی نونہال مستقبل میں  قوم و سماج کے نقیب وترجمان ہوں گےاور یہی آگے چل كر قوم کی پاسداری وپاسبانی کریں گے”۔ چچا نہرو کی اس محبت کو برقرار رکھنے کے لیے 1964 میں آپ کی وفات کے بعد یوم اطفال منانے کا اعلان کردیا گیا. مقصد واضح تھا كہ  بچوں کی اچھی تربیت ہو, تعلیم وتعلم کے تما م راستے ہموار ہوں، اسی طرح  بچے اپنی منزل مقصود تک بحسن خوبی رسائ کر سکیں اور ایک قابل با صلاحیت شہری بن کر اپنے قوم کی نمائندگی کر نے میں معاون ومدد گار بنیں ۔
یہ حقیقت ہے كہ بچے سادہ مزاج ہوتے ہیں ، انھیں جو لکھ دیا جاے یا بتا دیا جائے وہ ان كے لئے  انمٹ نقوش بن جاتے ہیں، ذات برادری ،مذہب ومسلک سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے ، وہ لڑتے ہیں  پھر مل جاتےہیں،  خفا ہوتےہیں پھر راضی ہو جاتے  ہیں، یعنی ان كی ایک الگ زندگی ہوتی ہے، جس کو ڈاکٹر بشیر بدر نے یوں کہا تھا:
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
یقین مانیے بچپنہ قابل رشک ہوتا ہے, یہ  ایک الگ دنیا ہوتی ہے جس کا وہ بادشاہ ہوتا ہے جو جی چاہتا ہے کر گزرتا ہے ۔ ایک اچھے استاد کی انہیں ضرورت ہوتی ہے جو انکی صحیح راہنمائی کر سکے .تعلیمی وتربیتی  وسائل و ذرائع مہیا کراسکے۔ اسی طرح غریب ونادار بچوں کے لیے  مفت میں تعلیم کا مکمل اہتمام کیاجائے,تاکہ ہر معیار کے بچے اپنی تعلیمی تشنگی کو بجھا سکیں, یوم اطفال  کامقصد بھی یہی ہے کہ بچوں کی کار کردگی کی واہ واہی ہو ان كی پیٹھ تھپ تھپائی  جائے, ان کی عزت افزائی اور حوصلوں کی پذیرائی ہو, تاکہ نئے جزبے، نئے حوصلوں کے ساتھ وہ  اپنی  منزل کی طرف  رواں دواں ہوسكیں اوراحساس کمتری كی  چادروں کو اتار پھینکیں, اس مناسبت سے  بچوں میں  تعلیمی جزبہ پیدا کرنے کے لیے  ادبی  اور ثقافتی پروگرام عمل میں لاے جاتے ہیں، یقیناً
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
بچوں کی صحیح تربیت کی جائے ،ان کا خواص خیال رکھا جائے،محبت ونرمی سے گفتگو كی  جائے، ان کے ہر کارنامے کو سراہا جائے تو ان کی ہمت میں اضافہ ہوگا اور ہر  میدان میں وہ اپنا جوہر دکھائیں گے. ایک اچھے شہری بن کر حالات کے موافق اپنا رخ موڑیں گے, آگے چل کر ہمارے معاشرے کی اچھی رہنمائی کریں گے یہ تمام چیزیں اس وقت ممکن ہے جب ہم بھید بھاؤ امیر و غریب ذات برادری کی تمیز کرنا بند کردیں ۔اسی طرح یہ ضروری ہے كہ ہر بچے کے لیے ایک  طرح كی ہی تعلیم اور نصاب ہو, ان كو یکساں تعلیمی مواقع دئیے جائیں, آج سوچ بدل چکی ہے، امیرو غریب کی تفریق عام ہوچکی ہے، امیر بچوں کے لیے تمام سہولیات مہیا ہیں جبکہ غریب بچے آج بھی کتابوں کی جگہ  ہاتھ میں کشکول لیئے پھرتے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یوم اطفال کے مقاصد یہی ہیں ؟ آج بھی شہروں اور دیہی علاقوں کے حالات میں آسمان وزمین کا فرق ہے, شہروں کی تعلیمی حالت عمدہ اور بہتر ہے,  جب كہ   دیہی علاقوں کے بچوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے، ان كے والدین کی اقتصادی حالات بھی اچھی نہیں ہوتی ہے اور نہ ان كے لئے  وہ تمام مواقع فراہم ہوتے ہیں جس سے بچوں كی مکمل آبیاری کیا جا سکے  ۔ عموما بچے جوا کھیلنے لگتے ہیں گاڑیوں کو صاف کرتے نظر آتے ہیں یا پھر كا سئہ گدائ لیکر گھومتے چوراہوں پر نظر آتے ہیں یا پھر کسی بری لت کے شکار ہوجاتے ہیں، آخر کیوں؟ وہ اس لیے کہ گاؤں کے اسکولوں میں بچوں كو ان كا مکمل حق نہیں ملتا , ان کے پیسے تک اسکول کے اساتذہ کھا جاتے ہیں, ان بچوں تك حكومت كی جانب سے بھیجے گئے پیسے پہنچ نہیں پاتے ہیں۔ بچوں کی صحت کے لیے اچھے مرکز کا قیام بھی نہیں ہوتا ,جس سے اس کی صحت کا دیکھ ریکھ کیا جائے۔ سرکاری اسکولوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے، تعلیم صفر ہے ,بچے آتے اور جاتے ہیں ، جن  اساتذہ كو بچوں كے  روشن مستقبل کے لیے دعائیں دینی چاہئیے  وہی اساتذہ ان بچوں کی زندگی برباد کرنے میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے كہ  اسکول میں صرف زبانی جمع وخرچ سے کام لیا جارہا ہے , وقت گزاری کا معاملہ ہورہا ہے, سلائ کرنے والے اور وائرنگ کرنے والے لوگ ٹیچر بنے ہوے ہیں بھلا وہ بچوں كو تعلیم کہاں سےاور کیسے دیں گے۔ اسکول صرف کھانے اور پیسے کمانے کے اڈے رہ گئے ہیں۔ بچوں کی تعمیرو ترقی كی کوئی فکر نہیں ہے اور  ان سب كا  ذمہ دار بھی آج كی یہ نکمی سرکار ہے ۔
 ان ساری بیماریوں كا جب تك سد باب نہ ہو تو بھلا  یوم اطفال  کا کیا مطلب كہ جہاں بچے ہر میدان میں کمزور ہوں،حصول تعلیم کا کوئی بہتر نظم ونسق نہ ہو تو بتائیے  پنڈت جواہر لال نہرو کا خواب کیسے پورا کیا جا سکے گا  بچے ہمارے قوم کے سپہ  سالار کیسے ہوں گے  یقین مانیے آج سارے سپنے ادھورے اور ٹوٹتے نظر آرہے ہیں ۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اچھے اساتذہ کا انتخاب عمل میں لایا جائے، جاہل اور فرضی اساتذہ کا پتا صاف ہو ،صرف تعلیم گاہیں خوبصورت ہوجانے سےبچوں کی مستقبل خوبصورت نہیں بن سکتے ہیں۔ اگر سخت اقدام نہیں اٹھائے گئے ، بچوں كے مستقبل كی فکر نہیں كی گئی تو  یہ كبھی  اچھے شہری نہیں بن سكیں گے ، بلکہ یہ چور ڈکیت اور بھیک مانگنے والے بنیں  گے اور ہم یوں ہی ہر سال یوم اطفال مناتے رہیں گے۔
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com