Select your Top Menu from wp menus

جے این یو پر حملہ تعلیمی نظام کو تباہ کرنا

جے این یو پر حملہ تعلیمی نظام کو تباہ کرنا

احوال وطن
سید منصورآغا، نئی دہلی
کسی ملک تعمیر وترقی کے پیمانوں میں جہاں اس کی صنعتی وتجارتی ترقی،فی کس آمدنی، سیاسی استحکام،پیٹ بھر صحت بخش غذا کی فراہمی اور کم خرچ صحت خدمات اہم پیمانے ہیں ،وہیں اس کا تعلیمی نظام اور تعلیمی معیارکا بھی ملک کے روشن مستقبل میں اہم اشاریہ (indicator) ہوتا ہے۔ اسی لئے بہت سے ممالک میں صحت خدمات اورتعلیمی نظام کو شہریوں کا حق مانا جاتا ہے اور مفت یا کفائتی شرح پر ضروری سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
اصولا جمہوریہ ہند بھی تعلیم کی اہمیت کا قائل ہے۔ چنانچہ آزادی کے بعدسے مرکزی اورریاستی سرکاریں مسلسل فروغ تعلیم کےلئے ادارے قائم کرتی رہی ہیں۔ آزادی کے وقت ملک بھر میں بمشکل دودرجن یونیورسٹیاں تھیں ، جن میں 21 کے نام اہم ہیں۔(بریکٹ میں قیام کا سال):سیرمپور یونیورسٹی مغربی بنگال(1829)، یونیورسٹی آف کلکتہ ، یونیورسٹی آف ممبئی اور مدراس یونیورسٹی (1857)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (1875)، پنجاب یونیورسٹی (1882)، الہ آباد یونیورسٹی (1887)، بی ایچ یوبنارس اورمیسور یونیورسٹی (1916)، پٹنہ یونیورسٹی (1917)، عثمانیہ یونیورسٹی (1918)، ایم گاندھی ودیا پیٹھ بنارس، وشوبھارتی یونیورسٹی شانتی نکیتن اور لکھنو¿ یونیورسٹی (1921)،دہلی یونیورسٹی (1922)، ناگپوریونیورسٹی (1923)، اندھرایونیورسٹی، وشاکھا پٹنم (1926)، آگرہ یونیورسٹی (1927)، انا ملائی یونیورسٹی چدمبرم (1929)، رڑکی یونیورسٹی جو اب آئی ٹی آئی ہے(1847) ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی (1920)۔
انگریزوں کے دورمیں اسکول، کالجوں اوریونیورسٹیوں کے قیام کا بڑامقصد سرکارچلانے کےلئے اہل افراد کی فراہمی تھی۔ لیکن آزادی کے بعدیہ ترجیح بدل گئی۔ چنانچہ جہاں معاشی، صنعتی اورتجارتی شعبوں میں ادارہ سازی اور نئی نئی املاک بنائی گئی (جن کو اب خردبرد کیا جارہا ہے)، وہیں تعلیم کے فروغ کےلئے مرکزی، ریاستی اورنجی زمرے میں اعلیٰ پیشہ ورانہ اداروں اور یونیورسٹیوں کو قیام بھی ہوا۔ چنانچہ نئے ہزاروں کالجوں کے علاوہ یونیورسٹیوں کی تعدا دبڑھ کر 821تک پہنچ گئی۔ گویا سترسال میں 800نئی یونیورسٹیاں۔ ان میں تقریبا 50مرکزی زمرے میں ہیں۔
تعلیم کا مقصد حاصل کرنے کےلئے صرف تعلیمی اداروں کا قیام کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی باصلاحیت بچہ چاہے کیسے بھی گھرانے میں پیدا ہوا ہو، تعلیم کے مواقع سے محروم نہ رہ جائے۔ہمارے ملک میں غریبی کی مار اورتعلیم کی اہمیت سے بے خبری عام ہے، اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس ماحول کو بدلا جائے۔تعلیمی اداروں کے ماحول کو نظریاتی بنیاد پر ایسا بنادینا جس میں مالی طورسے کمزوراورتعلیمی طور سے پسماندہ نوجوانوں کا عزت کے ساتھ رہنا دشوار ہوجائے اور روہت ویمولہ کی طرح خود کشی کرنی پڑے یا قوم دشمنی کے بیجا الزام میں جیلوں میں ٹھونس دیا جائے اورعدالتوںمیں گھسیٹا جائے، یا نجیب کی طرح غائب کرادیا جائے اورہماری تفتیشی ایجنسیا ں یہ کہتے ہوئے شرم محسوس نہ کریں کہ ہم تلاش کرنے سے معذورہیں، ملک کےلئے اچھا نہیں۔ یہ مہم جوئی قوم پرستی نہیں، نوجوان نسل کو تباہ کرنا ہے۔تبا ہ وہ بھی ہورہے ہیں جو اس مہم کے سپاہی بنے ہوئے ہیں اورنقصان ان کو بھی پہنچ رہا ہے جن کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
یہ سلسلہ موجودہ سرکار میں شدت سے شروع ہوا ہے۔ چنانچہ کبھی مسلم یونیورسٹی کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اورکبھی جے این یو کے تاریخی کردار کو مسخ کرنے کی تدبیریں کی جاتی ہیں جس سے تعلیمی ماحول خراب ہوتا ہے اور طلباءکو پڑھنا پڑھانا چھوڑ کر دھرنا، پردرشن جیسی سرگرمیوں میں مصروف ہونا پڑتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جے این یو کو زیادہ شدت سے نشانہ اس لئے بنایا ہے کہ طلباءکی فکرکی آزادی اورسوال کرنے کی جرا¿ت کو کچلا جائے۔مختلف طریقوں سے ان کی کردارکشی کی جاتی ہے۔ مثلا بھاجپا کے لیڈر نے کہہ دیا کہ جے این یو کے احاطے میں روز 50ہزارہڈیاں،3 ہزار استعمال شدہ کنڈوم، 500استعمال شدہ ابارشن انجنکشن اور 10ہزار سگریٹ کے ٹوڈے ملتے ہیں۔ ادھر چندروز سے پھریہ سلسلہ شروع ہوا ہے۔ سرکار کے ایک بیجا فیصلے سے پریشان طلباءپھر سڑکوں پرنکل آنے کو مجبورہوئے ہیں۔ درمیان سیشن ، جب کہ طلباءامتحانات کی تیاری میں مصروف تھے ، حکومت کے ایک غیرذمہ دارانہ قدم نے تعلیمی ماحول کو بگاڑدیا۔اس سے سیدھانقصان طلباءاورطالبات کا ہی نظرآتا ہے، لیکن سینے میں دل اورسرمیں دماغ ہو تو یہ صاف ہے نوجوان نسل کے تعلیمی مستقبل کو نقصان پہنچانا اصل میں قومی نقصان ہے۔ المناک بات یہ ہے کہ یہ نقصان قوم پرستی کے بوگس اورجعلی تصورکے حوالہ سے پہنچایا جارہا ہے۔
ایک ایسی یونیورسٹی جس نے ملک کو درجنوںنامورشخصیات دیں، جن میں موجودہ وزیرمالیات نرملا سیتھارمن اور حال ہی میں نوبل انعام سے سرفراز ابھی جیت بنرجی بھی ہیں، اس کو تباہ کرنے اوربھگوارنگ میں رنگنے کی چالیں چلی جارہی ہیںجو موجودہ خرابی کی جڑ میں ہیں۔ اسی لئے ہندتووا نظریہ کے حامل ایک انجنیر پروفیسر کووہاں کا وی سی بناکر بھیجا گیا ہے ۔ طلباءاوروی سی میں یہ نظریاتی فاصلہ اس وقت سامنے آیا جب وی سی نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کوایک ٹنک فراہم کیا جائے تاکہ طلباءمیں قوم پرستی کا جذبہ پیدا ہو۔ قوم پرستی کو جنگجوئیت سے جوڑنا ہی قوم پرستی کو جارحیت کے راستہ پر لیجاتا ہے۔ وی سی صاحب یہ الزام ہے کہ پچھلے دوسال میںانہوں نے ایک بار بھی طلباءکو ملاقات کا موقع نہیںدیا۔کسی ادارے کے سربراہ کا اپنے طلباءکے ساتھ یہ روکھا پن ان کو مقبول نہیں بناسکتا اورماحول کو مکدرکرنے کا سبب بنا رہے گا۔ ان کو طلباءسے ملنا اوران کی شکایتوں کو ایک سرپرست کی طرح دورکرنا چاہئے۔
طلباءیونین کا انتخاب ہوئے مہینوں ہوگئے مگر ابھی تک نو منتخب عہدیداران کی تنصیب نہیں ہوئی،وجہ یہ کہ منتخب امیدوار اس جھوٹی قوم پرستی کوتسلیم نہیں کرتے جس کا ڈھنڈورہ پیٹا جارہا ہے۔ اب تازہ وبال، طلباءکی فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ سے شروع ہوا۔سابقہ حکومتیںطلباءکو راحت پہنچانے کےلئے ان سے نام چارکی فیس لیتی تھیں۔ مثلاً سنگل سیٹ روم کاکرایہ 20 روپیہ تھا، جسکو بڑھا کر600اورڈبل روم کا فی طالب علم دس روپیہ سے بڑھا کر 300کردیا گیا۔ ہاسٹل سیکیورٹی جو پہلے 5500روپیہ تھی، 12000کردی گئی۔ پانی بجلی فری تھا، اب پورابل دینا ہوگا، ایک نئی مد سروس چارجزکی بڑھا دی جس کے تحت 1700 سالانہ دینا ہوگا۔ طلباءنے جب اس پر احتجاج کیا تو ہاسٹل کی سیکیورٹی میں اضافہ واپس لے لیاگیا، کمروں کا کرایہ 600سے گھٹاکر 200اور 300سے 100کردیا اور ٹویٹر پر اعلان کردیاکہ اضافہ واپس لے لیا گیا۔ جبکہ باقی سارے چارجز جوں کے توں واجب ہونگے۔ ظاہر ہے بہت سے طلباءجن کا تعلق کم آمدنی والے خاندانوں سے ہے، جے این یو میں نہیں پڑھ سکیں گے۔ اورشاید یہی مقصد بھی ہے۔ حال میں معمولی گھرانوں کے کئی لڑکے اورلڑکیاں اعلیٰ عہدوں کے لئے چنے گئے ہیں اس لئے وہ لابی پریشان ہے جو ہزاروں سال سے راج پاٹ کی مالک رہی اورغریبوں کو دلتی رہی۔
اس اضافہ کے لئے دلیل یہ دی جارہی ہے کہ یونیورسٹی فنڈ میںکیونکہ 12کروڑروپیہ کم ہے اسلئے یہ اضافہ کیا گیا۔ اسی کے ساتھ سوشل میڈیا پر جے این یواوراس کے طلباءکو بدنام کرنے کی نفرت انگیز مہم پھرشروع ہوگئی ہے اور نہایت نامعقول بات یہ کہی جارہی ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ان لڑکوں کی تعلیم پرکیوں خرچ ہو جو ان کے نظریہ کو نہیںمانتے بلکہ فکراوراظہارخیال کی آزادی مانگتے ہیں۔اس الزام کو آئینہ دکھاتے ہوئے ایک ٹی وی چینل نے بتایا ہے کہ جے این یو کا سنہ 2017-18کا کل خرچ 556 کروڑ 14لاکھ 37ہزارروپیہ تھا۔ جب کہ اسی مدت کے دوران مرکزی حکومت نے سوچھ بھارت، جن دھن یوجنا، مدورایوجنا،دین دیال اپادھیائے یوجنا، اٹل پنشن یوجنا اورمیک ان انڈیا جیسے منصوبوں کے پرچار پر اس سے تقریباًڈھائی گنا زیادہ، 1313 کروڑ 57لاکھ روپیہ خرچ کیا ہے۔ گویا اپنی ادھوری اورناکام یوجناﺅں کے پرچار کو تو یہ اہمیت کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ پانی کی طر ح بہایا جارہاہے اور 8ہزار سے زیادہ طلباءکی تعلیم پر خاک، جن میں 4594ایم فل اورپی ایچ ڈی کررہے ہیں۔اسی سال کے دوران جے این یو نے اعلیٰ معیارکی 133کتابیں، مختلف کتابوںکےلئے 334 ابواب ، باوقار جرائد میں 1040رسرچ پیپردئے۔1056لیکچرہوئے اور 556رسرچ پروجیکٹس پر کام چل رہاہے۔
ایک شور یہ مچایا جارہا ہے کہ دیگرمرکزی یونیورسٹیوں میں فیس اس سے بھی زیادہ ہے۔ یہ واقعی شرم کی بات ہے کہ دیگریونیورسٹیوں کے طلباءپرزیادہ مالی بوجھ ڈالا جارہاہے۔دونوں کو برابرکرنے کا طریقہ کیا یہ نہیںکہ ان کی فیس بھی کم کردی جائے اوران کا تعلیم وتحقیق کا معیار بھی تو جے این یو کے برابر لایا جائے۔ گویا سمجھا جائے تویہ مسئلہ جس کی آواز جے این یو سے اٹھی ہے، پورے ملک کی یونیورسٹیوں کا مسئلہ ہے۔ ہاں جن طلباءکے گھرانے دولت مندہیں،ان سے بیشک فیس بھی زیادہ لی جائے، ان کو ساری سہولتیں گھرجیسی دی جائیں۔
حیرت کی بات ہے کہ وہ سرکار جوجے این یوکو 12کروڑ فراہم نہیں کراپارہی ہے اس نے ابھی 100ارب روپیہ ہاﺅ سنگ سیکٹرکو دینے، اتنی ہی رقم بطورامداد مالدیپ اورایک سوکروڑ کریبیائی جزائر کو عطیہ دینے کااعلان کیا ہے،شاہ خرچیاں اوربھی بہت ہیں، مگر تعلیم کے بجٹ کو کم کیا جارہاہے۔ سنہ2010-11سے 2013-14تک تعلیم پر خرچ کل قومی پیداوار کا3.2 فیصد تھا جو گزشتہ سالوں میں کم ہوکر 2.8فیصدرہ گیا۔ ادھر ممبران پارلیمنٹ خود اپنی مراعات، تنخواہوںاوردیگرمدات کی رقمیں میں اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ مثلاراجیہ سبھا کے ایک ممبرکوایک لاکھ روپیہ ماہانہ تنخواہ، اجلاس یا کسی میٹنگ میںشرکت کےلئے 2000روپیہ یومیہ بھتہ، بے حساب فری ریل سفر، شریک حیات اورہمراہی اسٹاف کے ٹکٹ فری۔ ہوائی جہاز کے سالانہ 34ٹکٹ فری، 70ہزار روپیہ سالانہ حلقہ الاﺅنس، 60ہزارروپیہ سالانہ آفس خرچ، پانی اوربجلی بھی تقریبا فری اور پارلیمنٹ کی کینٹین میں کھانے میں بھاری سب سیڈی،اوربھی بہت کچھ ، مگرقوم کے مستقبل کی امین نسل کی تعلیم کے نام پر خشکی۔
ہم اس بربریت کی تفصیل میںنہیںجائیں گے جس کاشکار گزشتہ دودن میں یہ طلباءبنائے گئے ہیں۔ ان کے خون میں لہو لہان ویڈیو اورلڑکیوں کے ساتھ پولیس کی غیرضروری کھینچ تان کی تصویریں آپ نے دیکھ لی ہونگیں۔ یہ جابرانہ روش نہایت خطرناک ہوتی ہے۔ اسی سے جنگجوئیت کو جنم ملتا ہے۔ افسوس کامقام یہ بھی کہ ایچ آر ڈی منسٹر صاحب کسی تقریب میں جے این یو گئے۔ کئی گھنٹہ وہاںرہے ۔ا ن کی خبرسن کر جو طلباءیونیورسٹی گیٹ پر اپنی شکایت لیکر جمع تھے، ان سے ملنے کی ہمت نہیں کرسکے۔ اگرحوصلہ کرتے، ان کے درمیان جاکر ان کو دلاسا دلاتے، ان کو گلے لگاتے توآدھا مسئلہ اسی وقت حل ہوجاتا۔ مگر یہ کام یہ ہمت تو نہرو، پٹیل اورمولانا آزاد جیسے عوامی لیڈر ہی کرسکتے تھے۔
ہم حکومت سے استدعا کرتے ہیں کہ نوٹ بندی کرکے ملک کی معیشت کو تباہ کردیا، عوام کو فالتو قوم پرستی کے نشے میں مبتلا کردیا، بہت سے اداروں کومفلوج کردیا اورقومی املاک کی فروخت کا کام بھی شروع کردیا، یہ زخم تو شائد بھرجائیں، مگراپنے ملک کی نوجوان نسل کے مستقبل کو آزار میںنہ ڈالیں۔ اس لئے طلباءکے مطالبات پر انسانیت نوازی سے غور کریں۔ آخریہ سب ہمار ے ہی بچے ہیں۔ کوئی دشمن تو نہیں۔
Cell: 8077982485

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com